محمد مکرم
دنیا کے جس جس مسلم ملک میں آج جمہوری نظام رائج ہے، وہ یورپی استعماری طاقتوں کے قبضے کے بعد وہاں متعارف اور رائج ہوا۔ برصغیر ہندوستان کا کوئی مسلمان لفظ ‘جمہوریت سے واقف نہ تھا، کیونکہ یہ اصطلاح یہاں انگریز کے قبضے اور اسی کے لائے نظام ‘ڈیموکریسی کے بعد استعمال میں آئی۔ نظامِ ڈیموکریسی اگر اتنا اچھا اور ‘اسلامی ہوتا تو یہ بغیر کفار کے قبضے اور بغیر جنگ و جبر کے کیوں مسلمانوں کے ہاں رائج نہیں ہوا؟
اگر اسلام اور یہود و نصاریٰ کے نظام ڈیموکریسی میں کچھ باتیں ایک جیسی ہیں، تو بھی اس کا یہ مطلب نہیں بنتا کہ ڈیموکریسی اسلامی نظام ہے۔ کیونکہ بات بنیاد کی ہوتی ہے۔ اسلامی نظام کی بنیاد قرآن و سنت ہے، جبکہ جمہوری نظام کی بنیاد انسان کی مرضی و خواہش اور انسان کی اکثریت پر ہے۔ مماثلت تو اسلام اور نصرانیت اور اسلام اور یہودیت میں بھی کچھ مقامات پر پائی جاتی ہے، تو کیا ’عیسائی اسلام‘ یا ’اسلامی عیسائیت‘ یا ’اسلامی یہودیت‘ جیسی کوئی ترکیب بھی نکال لائی جائے گی؟
کیونکہ کوئی باطل ایسا نہیں جس میں کچھ نہ کچھ حق نہ پایا جاتا ہو۔ لہٰذا حق کی ایک گونہ آمیزش ہر باطل نظریہ، نظام اور مذہب کی مجبوری ہے۔ چنانچہ جہاں تک اتباع کرنے کا تعلق ہے تو اس کے لیے آپ کو مطلق حق درکار ہے اور جوکہ آج کے دور میں صرف شرعِ محمدی سے دستیاب ہے۔ البتہ رد کرنے کے لیے ایک نظریے یا نظام یا مذہب میں اگر کچھ بھی باطل ہے تو وہ رد ہوگا اور وہاں اس کے ’اسلام کے ساتھ مشترک نکات‘ کا اعتبار کر کے اسلام اور اُس کے مابین بیچ کی راہ نہیں نکالی جائے گی۔
لہٰذا کسی مذہب یا نظام کے ’جزوی‘ طور پر حق ہونے کے باوجود اور اسلام کے ساتھ اُس کے ’جزوی اشتراک‘ رکھنے کے باوجود، اسلام اور اُس کا تصادم ہی پیش نظر رکھا جائےگا نہ کہ اسلام کے ساتھ اُس کی مماثلت۔ پس بے لحاظ اس سے کہ ایک مذہب، نظریے یا نظام میں کتنے فیصد حق ہے اور کتنے فیصد باطل ہے، جب اسلام کے ساتھ کسی ایک بھی پہلو سے بھی اُس کا تصادم ثابت ہوجائے تو وہ پورے کا پورا رد ہوجائے گا۔ چناچہ ڈیموکریسی کو ’مغربی‘ اور ’اسلامی‘ میں تقسیم کرنے کا فلسفہ بنیاد سے غلط ہے۔
جمہوریت، مغربی اور غیر اسلامی ہی ہے!
یہ سیاست دان اور حکمران یوں تو اسلام سے کھلواڑ کرتے رہتے ہیں اور شریعت سے اُن کو چڑ آتی ہے۔ لیکن اسلام کی اس ایک چیز ‘جمہوریت پہ یہ دل و جان سے فدا ہیں اور اپنا تن من دھن اس پر لٹا دیتے ہیں۔ کس کو معلوم نہیں کہ ہمارے سیاستدانوں اور حکومتوں کو جمہوریت کی ہدایات ‘کہاں سے ملتی ہیں؟ کوئی شک ہی نہیں کہ یہ نظام مغرب سے ہی وصول ہوا ہے اور ہم نے اس کی تعلیم مغرب ہی سے پائی ہے۔ عجیب بات ہے کہ صدیوں ہمارے ہاں بڑے سے بڑے فقیہ، مجدد اور علماء پیدا ہوتے رہے، لیکن جمہوریت جیسی عظیم نعمت اور اسلامی جوہر ہمیں تبھی مل پایا جب مغرب نے ہم پر قبضہ کیا، سو سال تک ہمیں اپنے تعلیمی اداروں میں پڑھا سدھا لیا اور بڑی محنت سے کی گئی تربیت کے نتیجے میں وہ ہمیں اس ڈگر پر لے آیا، جس پر تیسری دنیا کی قوموں کا لایا جانا اس کے ہاں ٹھہر گیا تھا۔
یہ بھی نہیں کہ ایک بار یہ نظام ہمیں مغرب سے موصول ہوگیا تو پھر یہ ہمارا ہوگیا اور یوں اس کے حقوقِ ملکیت میں ہم اور وہ ایک برابر ہوگئے۔ معاملہ یہ ہے کہ پوری دنیا کے اندر ’جمہوری نظام‘ پر تا حال مغرب ہی کے جملہ حقوق محفوظ تسلیم کئے جاتے ہیں۔ اس نظام سے متعلقہ ایک ایک اصطلاح ہمارے ہاں اب بھی مغرب کی دی ہوئی چلتی ہے۔ جمہوریت کی آبرو پر پوری دنیا میں کہیں دست درازی ہو ،اس پر غیرت میں آنا اور سیخ پا ہو جانا مغرب ہی کا پیدائشی حق جانا جاتا ہے۔ دنیا کے کسی ملک میں جمہوریت کے واقعی قائم ہونے کا سرٹیفکیٹ بھی مغرب ہی جاری کرتا ہے۔ تیسری دنیا کی حکومتیں اپنے ملک میں ’بحالیٔ جمہوریت‘ کی یقین دہانی خود اپنی عوام سے زیادہ مغرب کو ہی کروانے پر یقین رکھتی ہیں۔ کسی ملک میں جمہوریت کے قیام کا روڈ میپ طلب کرنا اب بھی مغرب ہی کا جائے منصبی شمار ہوتا ہے۔ کہیں پر انتخابات کے ’آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ‘ انعقاد کی شہادت دلوانے کیلئے اب بھی مغربی مبصرین ہی سند مانے جاتے ہیں۔
یہ سب باتیں اس قدر واضح ہیں کہ ان پر اعتراض مضحکہ خیز ہوگا۔ ’جمہوریت‘ دراصل استعمار کا نیا روپ ہے۔ یہ ’آزادی‘ کا وہ پیکیج ہے جو غلام اقوام کو دیا گیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ’جمہوریت‘ ایک ایسا کھیل ہے جو صرف مغرب کی ایمپائری میں کھیلا جاتا ہے۔ مغرب کی اپنی قوموں کے حق میں ضرور یہ کوئی ’نظام‘ ہوگا ،ہمارے حق میں یہ محض ایک ’کھیل‘ ہے۔ ساٹھ ستر سال پہلے اگر یہ محض ایک مفروضہ اور محض ایک اندیشہ تھا، تو آج یہ ایک حقیقت ہے اور اس پر عملی شواہد دیکھنا ہوں تو ان کی ہرگز کوئی کمی نہیں ہے۔
مسلمان بمقابلہ مہذب، سیکولر اور جمہوری دنیا :
سیکولر ازم(securalism)، لبرل ازم(liberalism) اور روشن خیالی کا اصل مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے اسلام سے ‘لا دین (Secular) ہو جائیں، اپنی اسلامی تاریخ سے ‘آزاد (Liberal) ہو جائیں اور دین کے اصولوں کے معاملے میں ‘روشن خیال بن کر ان کو موم کا پتلا بنا دیں کہ جب چاہے جدھر کو موڑ دیا۔ لیکن یہود و نصاریٰ اور ہُنُود ان اصطلاحات میں سے کسی ایک بھی درحقیقت پابند نہیں ہیں۔
یہ دنیا خود کو جتنا جمہوری، سیکولر اور روشن خیال بتاتی اور دکھاتی ہے، اتنی اگر سچ میں ہوتی تو پوری دنیا میں اسلام پر گستاخانہ حملے نہ ہوتے اور مسلمانوں کو ہر طرح سے ٹارگٹ نہ کیا جاتا۔ ایک سیکولر اور روشن خیال دنیا میں کسی دوسرے ملک کے باشندوں کو قتل اور بے گھر کرکے ناجائز، غاصب اور ظالم ‘مذہبی ریاست اسرائیل کا قیام کبھی نہ ہوتا۔ جس کے ملکی نام، کرنسی، آئین، زبان، قومی ترانے نیز ہر پہلو و شعبے میں مذہبی عنصر ہی نظر آتا ہے۔ رنگ و نسل اور مذہب و معاشرت سے ‘لبرل دنیا میں ہرگز 22 کروڑ مسلمان ایک ارب متشدد مذہبی انتہا پسند ہندوؤں کے نرغے میں مذہب کی بنیاد پر نشانہ نہ بن رہے ہوتے۔
ایک سیکولر اور روشن خیال دنیا میں صرف مسلمان ہی نہ ہوتے کہ جو عراق اور افغانستان میں بموں سے اڑائے جاتے، بوسنیا میں قتل کیے جاتے، برما میں جلائے جاتے، بھارت میں تڑپائے جاتے، سنکیانگ (چین) میں جانوروں کی طرح قید کئے جاتے، یورپ و امریکہ میں کبھی راہ چلتے گاڑیوں سے کچلے جاتے تو کبھی ان کے لباس، پردے، داڑھی اور مسجد کے میناروں کو ناقابلِ قبول اسلامی نشانیاں قرار دے کر ان پر پابندیاں لگائی جاتیں اور ان کی مقدس کتاب نذر آتش کی جاتی۔ کشمیر، بھارت، فلسطین اور سنکیانگ اِس وقت دنیا کی سب بڑی جیلیں ہیں،جہاں مسلمان قید ہیں۔
دنیا کا ایسا کونسا ملک یا علاقہ ہے جہاں ‘کافر مرد، عورت یا بچے قید میں ہوں؟ لیکن کشمیر، اسرائیل، سنکیانگ، گوانتامو بے اور امریکہ میں مسلمان مرد، عورتیں اور بچے قید میں ہیں۔ دنیا میں کفار کے کتنے ایسے علاقے ہیں جو ‘کشمیرہوں؛ ‘فلسطین ہوں؛ ‘شام ہوں؛ ‘برما ہوں؛ ‘مشرقی ترکستانہوں؟ یا وہ کبھی ‘افغانستان اور ‘عراق اور ‘بوسنیا اور ‘چیچنیا اور ‘وزیرستان رہے ہوں؟ مسلم ممالک میں کفار کو پکڑ کر ٹارچر کرنے والے کتنے ‘گوانتا ناموبے، ‘ابو غریب اور ‘بگرام قید خانے ہیں؟
یہ دنیا، یہ عالمی برادری، یہ الکفر ملۃ واحد امت مسلمہ کو پیغام دے رہی ہے کہ ہم تم کو تمہارا نظام باقیوں پر تو چھوڑو خود تم پر بھی نافذ نہیں ہونے دیں گے، لیکن ہم اپنا اپنا نظام ضرور نافذ کریں گے اور کہیں آرام سے تو کہیں بزورِ قوت نافذ کریں گے۔
(پی جی اسکالر، جامعہ دار الہدی اسلامیہ )
<[email protected]>