غزہ //اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ کے شہریوں کی سرحد پر فورسز کے ساتھ جھڑپ اور جنوبی اسرائیل میں آتش گیر غبارے پھینکے جانے کے بعد اسرائیلی فضائیہ نے غزہ میں 2 مقامات پر حملہ کیا۔مذکورہ جھڑپوں میں ایسے وقت میں اضافہ ہوا کہ جب اسرائیل اور مصر، غزہ کی پٹی پر تجارتی اور سفری پابندیوں میں نرمی کررہے ہیں، سال 2007میں اسلامی تحریک حماس کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے دونوں ممالک کی جانب سے بڑی حد تک اس پٹی کا رابطہ منقطع کردیا گیا تھا۔فلسطینیوں نے غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے درمیان ٹائر جلائے جبکہ اسرائیلی فوج نے آنسو گیس اور اسٹن گرینیڈ فائر کیے۔وزارت صحت غزہ کا کہنا تھا کہ جھڑپوں میں 11 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں تین جھلس کر زخمی ہوئے۔احتجاج سے چند گھنٹوں پہلے غزہ کے شہریوں نے ایک ہفتے قبل سرحد پر تصادم کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوکر جاں بحق ہونے والے 12 سالہ عمر حسن ابو النائل کو سپرد خاک کیا تھا۔غزہ کے شہریوں کی جانب سے 2018 میں احتجاج کی تحریک شروع کی گئی تھی جن کا مطالبہ یہ تھا کہ اسرائیلی محاصرہ ختم کیا جائے ۔