تہران//ایران کے صدر حسن روحانی نے ملک کے ایٹمی سائنس دان کے قتل کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت کے آخری دنوں میں جنگ چھیڑنے کے لیے محسن فخری زادہ کو نشانہ بنایا گیا۔ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق حسن روحانی نے تہران میں پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ 2000 میں ملک کے جوہری پروگرام کی بنیاد رکھنے والے سائنس دان محسن فخری زادہ کے قتل کے پیچھے اسرائیل ہے، جس کا مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے آخری دنوں میں جنگ شروع کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ 'اس قتل کے پیچھے صہیونی حکومت کا اصل مقصد ٹرمپ انتظامیہ کے آخری دنوں میں جنگ اور عدم استحکام کو وسعت دینا تھا'۔حسن روحانی نے سائنس دان کے قتل کے بعد پہلی مرتبہ براہ راست اسرائیل پر الزامات عائد کیے اور اس کا بدلہ لینے کا عزم دہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اسرائیل کو اس طرح کے جارحانہ اقدامات کے وقت یا مقام کے تعین کا فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں عدم استحکام کی اجازت نہیں دے گا۔دوسری جانب اسرائیل نے ایرانی سائنس دان کے قتل پر لگنے والے الزامات سے متعلق تاحال کوئی جواب نہیں دیا۔حسن روحانی کا 2015 میں عالمی طاقتوں سے ہونے والے جوہری معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ 'ہمارا ماننا ہے کہ امریکا کی نئی انتظامیہ کے دوران حالات تبدیل ہوں گے'۔ان کا کہنا تھا کہ میزائل پروگرام اور علاقائی مسائل کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ مذاکرات کے معاملات بالکل نہیں ہیں۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ ایران کے نامور جوہری سائنسدان محسن فخری زادہ کو دارالحکومت تہران کے قریب فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا تھا۔ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلح افراد نے محسن فخری زادہ کی گاڑی پر فائرنگ کی جس سے وہ شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال میں دوران علاج دم توڑ گئے۔