جموں//ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے اساتذہ کی سلسلہ وار بھوک ہڑتال پیر کو مسلسل چوتھے روز بھی جاری رہی ، جنم اشٹمی کا تہوار ہونے کے باوجود ہڑتالی اساتذہ نے پریس کلب کے باہر اپنا احتجاج جاری رکھا ۔اس موقعہ پر مقررین نے ریاستی حکومت کو سرو شکھشا ابھیان کے تحت لگائے گئے اساتذہ کی طرف سوتیلا سلوک روا رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں ساتویں پے کمیشن سے محروم رکھنے کےلئے انتظامیہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ معماران قوم کو اس طرح ہڑتال کے لئے مجبور کرنا حکومت کی انتہائی بے حسی کی غماز ہے ۔ انہوں نے گورنر سے ذاتی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی ملازمین کی طرز پر اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی ادائیگی کے لئے پچھلے چار ماہ سے مسلسل جد و جہد کی جارہی ہے لیکن نامعلوم وجوہات کی بنیاد پر حکام اس جانب توجہ نہیں دے رہے ہیں اور نتیجہ کے طور پر انہیں بھوک ہڑتال پر بیٹھنا پڑا ہے ۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ 5ستمبر کو ٹیچرز ڈے بلیک ڈے کے طور پر منایا جا ئے گا۔ خطاب کرنے والوں میں ونود، گنیش کھجوریہ، گلزبیر ڈینگ سکھدیو سمبریا، پریتم گوسوامی، دنیش سنگھ، کلدیپ بندرال، پی ڈی سنگھ، گوتم سنگھ، ریکھا ٹھاکر ، اشرف کٹوچ اور دیگران شامل تھے۔واضح رہے کہ اساتذہ کی مختلف تنظیموں نے اپنے مطالبات کو مبینہ طور پر نظر انداز کئے جانے کے خلاف آئندہ 5ستمبر کو یوم اساتذہ کی جگہ یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے ۔یہ اساتذہ جہاں ساتویں پے کمیشن کے نفاذ کا مطالبہ کر رہے ہیں وہیں مرکزی اعانت والی اسکیم سروس شکھشا ابھیان SSAکے تحت تعینات اساتذہ کی تنخواہیں مرکزی بجٹ سے ڈی لنک کر کے انہیں ریاستی بجٹ سے منسلک کرنے کے خواہاں ہیں۔ اساتذہ کی دلیل ہے کہ جہاں انہیں دیگر ریاستی ملازمین کی طرز پر تمام تر مراعات دی جا رہی ہیں، پانچواں اور چھٹا پے کمیشن بھی نافذ کر دیا گیا ہے تو ساتویں پے کمیشن کے اطلاق میں کیا اڑچن ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ ابھی حال ہی میں رہبر تعلیم فورم کے بینر تلے آر ای ٹی پانچ روزہ دھرنا پر تھے تو ٹیچرز جوائنٹ ایکشن کمیٹی نامی تنظیم کے نمائندے پچھلے تین روز سے سلسلہ وار بھوک ہڑتال پر ہیں۔
مسائل کا جائزہ لینے کےلئے کمیٹی تشکیل: مشیر
بھوک ہڑتال جیسے انتہائی اقدامات نہ اٹھائیں
عظمیٰ نیوز
سرینگر//گورنر کے مشیر خورشید احمد گنائی ،جو محکمہ تعلیم کے انچارج بھی ہیں، نے آج اساتذہ سے اپیل کی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال جیسے انتہائی اقدامات نہ اُٹھائیں کیوں کہ حکومت نے اُن کے مسائل کا جائیزہ لینے کے لئے پرنسپل سیکرٹری خزانہ کی سربراہی میں پہلے ہی ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔مشیر موصوف نے کہا کہ مالی مشکلات کے باوجود ریاستی حکومت اساتذہ کے جائیز مطالبات کو پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ سماج کا ایک بیش قیمت اثاثہ ہیں اور اُن کی فلاح و بہبود حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اساتذہ کی مشترکہ کوششوں کی وجہ سے سکولی تعلیم ریاست کے اطراف و اکناف تک پہنچ سکی ہے اور سماج کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مشیر نے کہا کہ معیاری تعلیم کی مانگ میں اضافہ ہورہا ہے اور اہمیں اپنی کوششوں کو تیز کرنا چاہئے۔خورشید احمد گنائی نے اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اپنے فرائض ادا کریں تا کہ سکولوں کے روزانہ کام کاج پر کوئی اثر نہ پڑے اور طالب علموں کو نقصانات کا سامنا نہ ہو۔