صحافت ملک وقوم کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ صحافت تہذیب وتمدن ، ثقافت وسماجی قدروں کی عکاسی کرتی ہے۔آج کے اس برق رفتار زمانے میں اس کی اہمیت و افادیت سے کسی بھی صورت میں انکار نہیں کیا جاسکتا۔ صحافت انسانی اقدار کے تحفظ کی ضامن اورمظلوم و مجبور عوام کے جذبات و احساسات کی ترجمان ہوتی ہے۔ آج کے اس دور میں، جہاں بیشتر ممالک میں جمہوری حکومتیں ہیں، وہاں صحافت کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے ۔ صحافت کی قوت دراصل عوام کی قوت ہوتی ہے،یہی وجہ ہے کہ حکومت اور عوامی ادارے اس کے احترام پر مجبور ہوتے ہیں۔
مولانا محمد علی جوہر نے صحافی اور صحافت کی ذمہ داریوں اور معاشرے میں ان کے مقام ومرتبہ کے تعلق سے اپنے اخبار ’کامریڈ‘میں رقمطراز ہیںکہ’’ صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ واقعات کو پوری صحت کے ساتھ درج کرے۔ اسے خیال رکھناچاہئے کہ واقعاتی صحت کا معیار اتنا بلند ہو کہ مورخ اس کی تحریروں کی بنیاد پر تاریخ کا ڈھانچہ کھڑا کرسکے۔ صحافی رائے عامہ کا ترجمان ہی نہیں، راہ نما بھی ہوتا ہے اسے صرف عوام کے دعاوی کی تائید وحمایت نہیں کرنی چاہئے بلکہ صحافتی میز سے عوام کو درس بھی دیناچاہئے‘‘۔
دلائل وقرائن کی رو سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ موجودہ صحافت اپنے معیار سے اتر کر اس مقام پر پہنچ چکی ہے جسے اب زرد صحافت کے نام سے موسوم کیاجاتا ہے یعنی ایک ایسی صحافت جو اپنے تمام تر بنیادی اصولوں اور معیار سے یکسر منحرف ہوچکی ہے ۔اخلاقی سطح پر جس زوال کاشکار عام صحافت ہوئی ہے، اردو صحافت پر بلا شبہ اس کے اثرات سب سے زیادہ مرتب ہوئے ہیں لیکن اردو زبان کے سا تھ جوسلوک سرکاری سطح پر روا رکھا گیا، اس کے سبب بھی اردو صحافت بڑی حد تک زوال پذیر ہوئی ہے۔
ان حالات کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ بیشتر صحافتی اداروں میں مالکان ہی خود کو ایڈیٹر مقرر کر لیتے ہیں۔ یعنی ایک مالک جس کا بنیادی مقصد اپنے سرمایہ سے منافع حاصل کرنا ہوتا ہے بطور ایڈیٹر خبروں اور پروگراموں کی ترتیب و ہئیت کے بارے میں فیصلے کرنے کا مجاز ہوتا ہے۔ یہ طریقہ دنیا بھر میں مروجہ اصول و ضوابط کے برعکس ہے جہاں مالکان کو صحافیانہ امور میں مداخلت کا اختیار نہیں ہوتا۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ مالک کا کام معاشی و انتظامی امور تک محدود ہے کیونکہ اسے ادارہ سے منافع حاصل کرنا ہوتا ہے جبکہ ایڈیٹر صحافتی امور کا نگران اور خبر کے تقدس اور غیر جانبداری کا ذمہ دار قرار پاتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کوئی مدیر کسی اشتہار کے مواد کو اپنے اخبار یا ادارے کی پالیسی سے متصادم یا صحافتی اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے شائع یا نشر کرنے سے انکار کر دیتا ہے اور مالک کو مدیر کا یہ فیصلہ قبول کرنا پڑتا ہے۔
ایسے میں اردو صحافت کا تجزیہ بڑی حد تک آسان ہوجاتا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تبدیلیاں رونما ہوچکی ہیں۔ اردو صحافت کا ایک شاندار ماضی رہا ہے اوربلا شبہ اردو اخبارات صحافت کی آبرو ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان میں مختلف اور مثبت تبدیلیاں بھی آئیں لیکن معیار کے اعتبار سے دیکھا جائے تو ترقی کی بجائے تنزلی کا احساس ہوتا ہے۔ماہرین زبان و ادب کا کہنا ہے کہ اردو اخبارات کی زبان بہت زیادہ خراب ہو گئی ہے۔ نہ کوئی معیار ہے اور نہ کوئی پیمانہ۔ انگریزی الفاظ اور ہندی لہجے کے استعمال کی کثرت سے اہل زبان کا ذائقہ بگڑ رہا ہے۔ جملوں کی ساخت کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ ہندی الفاظ کے استعمال سے پرہیز کی سخت ضرورت ہے۔کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اب تو اردو اخبار دیکھ کر گھن آنے لگی ہے۔د ردمند احباب اکثر و بیشتراس کا شکوہ کرتے رہتے ہیں ۔کشمیر یونیورسٹی کے کچھ دوستوں کا کہنا ہے کہ کئی مرتبہ اس حوالہ سے انہوں نے جموں کشمیرمیں شائع ہونے والے اردو اخباروں کے ذمہ داروں کی توجہ اس طرف دلائی لیکن ان لوگوں نے شائدقسم کھا رکھی ہے کہ وہ اپنی خو نہیں بدلیں گے چاہے کچھ بھی ہو جائے ۔شائد اسی لئے اردو زبان سے محبت رکھنے والے ایسے حضرات کہتے ہیں کہ’’ ہم اخبار پڑھتے نہیں بلکہ دیکھتے ہیں‘‘۔
یہ بات شدت کے ساتھ یہ محسوس کی جارہی ہے کہ جموں کشمیر میںچند ایک کے بغیرتقریباً سبھی اردو اخبارات سے رپورٹنگ غائب ہوتی جارہی ہے۔ اردو اخبارات کے ذمہ داران اْن تجزیوں اور تبصروں کو ہی بدقسمتی سے اصل صحافت سمجھ بیٹھے ہیں، جن میں احوال و واقعات کی یک رْخی تصویر پیش کرتے ہوئے مفاداتِ خصوصی کے حصول کی کوشش کی گئی ہو ۔ کتنا بہتر ہوتا کہ مدیران رپورٹنگ پر توجہ دیتے اور زمینی حقائق پر مشتمل خبروں کو ہی اپنے اخبارات میں جگہ دیتے۔
صحافی شبیر ملک کا کہنا ہے کہ اردو صحافت کا ماتم کرنا درست نہیں کیونکہ آج صرف اردو ہی نہیں بلکہ ہرطرح کی صحافت کو کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔شبیرملک کے مطابق کئی لحاظ سے توآ ج اردو صحافت کا سب سے عمدہ دور ہے لیکن مواقع کا صحیح استعمال کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی بھی زبان اسی وقت تک زندہ رہتی ہے جب وہ ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ چلے ،اسلئے اردوصحافت کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔
اردو صحافت کی کمزوریوں کا آج بھی بڑی حد تک ازالہ کیاجاسکتا ہے۔ بشرطیکہ اس زبان کو روزی روٹی سے جوڑکر سرکاری سطح پر بااختیار زبان بنانے کی کوششیں کی جائیں اور اردو کے نام پر کی جانے والی گھٹیا سیاست کا قلع قمع کرکے مکمل طور پر خلوص ومحبت کامظاہرہ کیاجائے۔
اردو صحافت کا مستقبل تابناک ہے لیکن ہمیں مسائل کا رونا رونے کے بجائے اسے درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اپنا احتساب بھی کرنا ہوگا۔ اردو کے متعلقہ اداروں میں ملازمین پر سختی اور ان سے ناانصافی کی روایت بڑی پرانی ہے۔ ذمہ دارانِ ادارہ اپنے ہی ملازمین کے حقوق کو اپنی جوتیوں تلے روند دیا کرتے ہیں، ان کے مسائل کے حل کی کوشش نہیں کرتے، کم اجرت پر زیادہ کام کرانا چاہتے ہیں جبکہ اسی کام کیلئے دوسری زبانوں کے افراد کو زیادہ اجرت اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔
آج اردو صحافت کو بچانے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت محسوس ہورہی ہے اور اگر ابھی آواز نہیں اٹھائی گئی تو آنے والے وقت میں مشکلات میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ہمیں اس حقیقت کا اعتراف کرنا ہے کہ مال کی پیکنگ تو اچھی ہے لیکن مال اچھا نہیں ہے۔نئے صحافیوں کیلئے سیکھنے کا عمل متاثر ہوگیا ہے۔اردو صحافت میں آنے والے نوجوانوں میں جوش اور ولولہ تو ہے لیکن انہیں تربیت دینے کی ضرورت ہے۔صحافت کی جدید ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے نئے صحافیوں کو عملی تربیت پر توجہ دینی ہے۔