سید منصور احمد بخاری
حالی نے ’’مقدمہ شعروشاعری‘‘ میںشاعر اوراسکی خصوصیات کی وضاحت کی ہے کہ شاعر میں تخیل ،کائنات کا مطالعہ اور تفحص الفاظ کا موجود ہونا ضروری ہے۔ تخیل کے بارے میں حالی نے مغربی اور مشرقی عہد عباسی کے نقادوں کے خیالات اور تصورات سے متاثر ہوتے ہیں۔ حالی کے نزدیک شاعر میں تخیل اور تفحص الفاظ کا بہترین استعمال اسے بلند معیار کی چوٹیوں پر لے جائے گا اگر خیال اور الفاظ میں ہم آہنگی نہیں ہے تو وہ شاعری بیکار اور غیر معنی ہوگی۔ حالی آمد کے بجائے آورد کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ شعر میںدو چیزیں ہوتی ہیں خیال اور الفاظ ہوسکتا ہے کہ خیال شاعر کے ذہن میںجلدی آجائے مگر اس کے لیے مناسب الفاظ کو ترتیب دینا ایک ضروری امر ہے۔ حالی مشرقی عرب نقادین سے بہت متاثر تھے اور ابن رشیق کے تنقیدی خیالات سے بھی متاثر تھے۔ عرب ناقدین بھی آمد کے بجائے آورد کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور غورو خوض کو اہمیت دیتے ہیں۔
حالی شاعری میں مبالغہ انگیزی اور جھوٹی باتوں کے استعمال کرنے کی تردید کرتے ہیں وہ شعر میں اصلیت اورحقیقت نگاری کے قائل ہیں۔ وہ شاعری کے ذریعے اصلاحی کام کرنے ،تزکیہ نفس اور اخلاقی عادات کو بروئے کار لانے کی تلقین کرتے ہیں۔ حالی کے مقدمہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم عربی تنقید کے بارے میں حالی نے سب سے زیادہ استفادہ ابن رشیق کی کتاب’’العمدہ‘‘ سے کیا ہے ۔ابن رشیق نے اپنی اس کتاب میں قرآن، احادیث اور خلفائے راشدین کے تصورات کو بڑی حد تک بیان کیا ہے۔ حالی پر ابن رشیق کے خیالات و نظریات کا کافی حد تک اثر ہے کیوں کہ وہ شعری محاسن میں مبالغہ ،غلو اور جھوٹ کی نسبت اصلیت، اخلاقیات اور اصلاحی شاعری پر زور دیتے ہیں۔
مولانا شبلی نعمانی اردو وادب کے بیک وقت ادیب، شاعر، محقیق اور نقاد تھے۔ انھوں نے اردو ادب پر گہرے اثرات تنقیدی نظریات اور تصورات کے زیر اثرمرتب کیے۔ شبلی نے شعرو شاعری، نثر میںجہاں اعلیٰ کام سرانجام دیا ہے وہاں اردو تنقید میں بھی ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ جسطرح حالی نے سرسید احمد خاں کی شخصیت سے اثر قبول کیا تھا۔ اسی طرح شبلی بھی ان کی شخصیت سے بہت متاثر تھے۔ شبلی حالی کے بعد اردو تنقید پرجلوہ افروز ہوتے ہیں انھوں نے کئی دلکش اور اہم تنقیدی تصانیف مرتب کیں ہیں شبلی ایک قد آور محقیق،مورخ ،ادیب ،شاعر اور نقاد تھے۔ شبلی نے اردو ادب میں مختلف اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے۔ انھوں نے شاعری نثر اور تنقیدی پہلوئوں کو زیادہ اجاگر کیا ہے۔ ان کی ادبی کارناموں میں مذہب تاریخ اور سماجی عناصر موجود ہیں۔ان کی تنقیدی تصانیف میں’’شعرالعجم‘‘اہمیت کی حامل ہے اس کے تمام جلدوں میں تنقیدی تصورات و خیالات کو بیان کیا گیا ہے لیکن تنقید کے لحاظ سے جو مقام چوتھی جلد کو حاصل ہے وہ بڑی اہمیت کا حاصل ہے۔اس کے علاوہ ’’موازنہ انیس ودبیر‘‘’’سوانح مولانا روم اور ان کے مقالات جو انھوں نے مختلف رسائل میں لکھے ہیں اور ان میں بھی تنقیدی تصورات و خیالات کی جھلک موجود ہے۔ ’’شعر العجم‘‘ مولانا شبلی کی ایک شہرہ آفاق تصنیف ہے اسمیں انھوں نے فارسی شاعری کی تاریخ اور اسکے ارتقاء کے پہلووں پر روشنی ڈالی ہے۔ اسمیں شاعری کے اصلی عناصر، محاکات، تخیل اور حقیقت کوبیان کیا گیا ہے۔ ’’شعرالعجم‘‘ میںشبلی نے شعری عناصرکو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان میں تشبیہ، استعارے حسن الفاظ، معنی آفرینی ،جدت اور لطف ادا، سادگی و سلاست ،فصیح اور مانوس الفاظ اور محلوں کے اجزاء کو پیش کیا ہے۔’’موازنہ انیس ودبیر‘‘ مولانا شبلی کی ایک منفرد تصنیف ہے اسمیں انھوں نے اردو کے دو عظیم و معروف مرثیہ نگار شعراء میرا نیس اور مرزا دبیر کی امتیازی خصوصیات کو بیان بھی کیا ہے۔ شبلی ان دونوں شعراء کے شعری امتیازات کو اپنے شعری اصناف کی ممدومعاون پیش کرتے ہیں۔ اس کتاب کے مطالعے سے انیس و دبیر دونوں شاعروں کے کلام کے محاسن و معائب قاری کے سامنے آجاتے ہیں اور زبان و بیان کی خصوصیات و اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے اس تصنیف کے ذریعے تنقید کے مشرقی افکار و نظریات کی عکاسی ہوتی ہے۔
شبلی نعمانی کے تنقیدی تصورات ان کی شہرہ آفاق تصنیف ’’شعرالعجم‘‘ میںنمایاں ہوتے ہیں اور شبلی اس کتاب کو عربی اور فارسی ادب کے زیر سایہ لکھتے ہیں۔ عربی کے نسبت انھوں نے زیادہ استفادہ فارسی شعر و ادب سے کیا ہے اور ’’شعر العجم‘‘ جیسی تنقیدی کتاب تخلیق کی۔ شبلی نے اپنی تنقیدی اصولوں کی ترویج میں عربی اور فارسی دونوں مکتب فکر کے نقادوں کے تنقیدی مباحث سے استفادہ کیا ہے اور تنقید کے بنیادی مسائل کو حل کرنے کے لیے عربی نقادین کے حوالے بیان کیے ہیں۔
شبلی کے نزدیک شاعری کا مقصد پڑھنے یا سننے والے کو مسرت عطاکرنا اوران کی نظر اس حقیقت پر رہتی ہے کہ فنکار نے فن کے تقاضوں کو کس حد تک پورا کیا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ شبلی جمالیاتی نقاد ہیں شبلی شعروادب میںلفظ کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں اور ان کے نزدیک مواد سے زیادہ اہم اسلوب ہے اسی لیے لکھتے ہیں کہ ’’مضمون تو سب پیدا کرسکتے ہیں شاعر کا معیار کمال یہی ہے کہ مضمون ادا کن لفظوں میںکیا گیا ہے اور بندش کیسی ہے۔‘‘
شبلی تشبیہ و استعارے کو شعر کے لیے ضروری خیال کرتے ہیں ان کے مطالعے تشبیہ و استعارے سے کلام میں وسعت اور زور پیدا ہوتا ہے وہ کسی اور طریقے سے نہیں ہوسکتا ۔
مولانا محمد حسین آزاد اردو وادب کے قدآور ادیب اور محقق تھے اردو میں ادبی تاریخ انھوں نے شروع کی اور تذکرہ نویسی کو نئے انداز فکر سے پیش کیا۔ آزاد’’آب حیات‘‘ لکھ کر اردو شاعری کی تاریخ کو بیان کیا ہے مورخین نے آزاد کی ’’آب حیات‘‘ کو حالی کی مقدمہ شعرو شاعری‘‘ اور شبلی کی ’’شعر العجم‘‘ سے کم درجہ دیا ہے کیوں کہ ان کی تصنیف ’’آب حیات‘‘ میں تنقیدی مضامین کم ہیں اور تاریخ زیادہ ہے اور حالی اور شبلی کی تصانیف کو مستقل تنقیدی تصانیف کا شرف حاصل ہے۔
آزاد کے تنقیدی خیالات و تصورات کو پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ جہاں انھوں نے مغربی ادبیات سے استفادہ کیا ہے وہاں ان کا مطالعہ مشرقی ادب ،عربی اور فارسی سے بھی ضرور رہا ہوگا کیوں کہ ان کے تنقیدی نظریات میں مشرقی تصور بھی نمایاں ہے۔ عربی نقطہ نظر سے وہ معنی و بیان کے سلسلے میں استعمال ہونے والی اصطلاحات کو بھی اپنے نظریات میں جابجا پیش کرتے ہیں۔ آزاد نے تنقیدی نظریات کے نام سے کوئی مستقل کتاب تصنیف نہیں کی ہے بلکہ ان کی تصانیف ،آب حیات، سخندان فارس،مقدمہ دیوان ذوق ان تمام میں کہیں نہ کہیں تنقیدی نظریات کی جھلک ملتی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے تنقیدی نظریات کا پتہ ان کا وہ لیکچر دیتا ہے جو انھوں نے نظم اور کلام موزوں کے بارے میں تنقیدی نوعیت سے پیش کیا ہے۔
حالی ،شبلی اور آزاد نے اردو ادب میںتنقیدی خیالات و تصورات کو بڑے احسن انداز میں پیش کیا ہے اور ان کے تنقیدی رجحان کے اثرات دوسرے ادبی ناقدین نے بھی قبول کیے ان کی تنقید سے اردو ادب میں تنقیدی سے دلچسپی کا معیار تیزہوگیا اور علم و ادب سے لگائو رکھنے والے ناقدین تنقیدی رجحان کی طرف راغب ہونے لگے۔ سرسید کی ادبی تحریک نے تنقیدی ادب کے رجحان کو بڑھنے میں تقویت بخشی اور دوسرے لکھنے والے اس طرف کھینچنے لگے اور دوسرے علوم پر لکھنے کے بجائے تنقیدی پہلوئوں کو روشناس کراناشروع کردیا۔ سب سے پہلے تنقیدی کاموں کو رسالوں میں شائع کیا گیا پھر آہستہ آہستہ ان کو کتابی صورت میںشائع کرنے کا رجحان بڑھنے لگا۔ حالی ،شبلی اور آزاد کے تنقیدی کارناموں سے دوسرے لکھنے والوں میں بھی شوق پیدا ہوا اور ان لکھنے والوں میں کچھ اہم نقادین کا نام لینا مناسب سمجھتا ہوں جن میں امداد امام اثر، احتشام حسین ،وحیدالدین سلیم، محمدحسن، کلیم الدین احمد، آل احمد سرور،شمس الرحمٰن فاروقی خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔
(رابطہ ۔:9541837560)
اردو تنقید مشرقی تصورات و نظریات کے تناظر میں (۲)