انسان کا اپنے گردونواح کے حالات و واقعات سے واقف رہنا بے حد ضروری ہے۔ آجکل اگر چہ دنیا ایک عالمی گاؤں (Global Village) بن گیا ہے اور دنیا کے کسی بھی کونے میں رونما ہونے والے واقعات انٹرنیٹ اور باقی ذرائع ابلاغ کی بدولت پلک جھپکنے میں ہی پوری دنیا تک پہنچ جاتے ہیں لیکن اخبارات اپنا الگ ہی مقام رکھتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں زیادہ قابل ِ یقین نہیں ہوتی ہیں جبکہ اخبار میں شایع خبریں زیادہ مصدقہ اور قابل اعتبار ہوتی ہیں۔ اخبارات کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ بہت سستے داموں پر ملتے ہیں اور بآسانی دستیاب ہوتے ہیں۔ اخبارات میں جہاں مقامی خبروں کے ساتھ ساتھ قومی اور بین الاقوامی خبریں بھی شایع ہوتی ہے اور انسان اپنے ارد گرد میں پیش آنے والے واقعات سے باخبر رہتا ہے وہاں اخبارات میں خبروں کے علاوہ بھی بہت کچھ ہوتا ہے اور اخبارات کی زبان سادہ اور سلیس ہونے کی وجہ سے کم پڑھے لکھے لوگ بھی اخبارات سے مستفید ہورہے ہیں بلکہ زندگی کا شاید ہی کوئی شعبہ ہوگا جو اخبارات سے اثرانداز نہ ہوتا ہو۔ جہاں عام لوگ اخبارات کی مدد سے سرکار کی پالسیوں کے بارے میں نا صرف جانکاری حاصل کرتے ہیں بلکہ ان پالسیوں پر تبصرہ بھی کرتے ہیں وہیں تاجر حضرات اخبارات کے ذریعے مختلف اشیاء کے گرتے بڑھتے داموں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتے ہیں۔ جہاں اخبارات کے ذریعے بے روزگار طبقہ مختلف قسم کی سرکاری اور نجی نوکریوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرتاہے وہیں طالب علم اخبارات میں سے اپنی من پسند خبروں اور مضامین کا مطالعہ کر کے نہ صرف زبان پر دسترس حاصل کرتے ہیں بلکہ علم کا خزانہ اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں۔ جہاں سائینس سے تعلق رکھنے والے حضرات نئی نئی ایجادات کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں وہیں شعروادب سے دلچسپی رکھنے والے حضرات اخبارات میں شایع ہونے والی مختلف غزلوں، نظموںاور افسانوں وغیرہ کا مطالعہ کر کے اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ تاجر حضرات اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لئے بھی اخبارات میں اشتہارات دے سکتے ہیں بلکہ دیتے ہیں۔ خواتین اخبارات کے ذریعے کھانا پکانے کی مختلف تراکیب سے آگاہی حاصل کرتی ہیں۔ یہ اخبارات ہی ہیں جن سے ہمیں ملک کے سیاسی حالات کا پتہ چلتا ہے اور سیاسی لوگوں کے بیانات بھی اخبارات کی بدولت ہی اگلی صبح پوری دنیا تک پہنچ جاتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں اخبارات زبانوں کی بقاء وترویج میں اپنا کلیدی کردار نبھاتے ہیں اردو زبان و ادب کی ترویج میں اخبارات کا کردار ناقابل ِ فراموش ہے۔ اخبار کا مطالعہ کرنے کے لئے نہ ہی بجلی کی ضرورت پڑتی ہے اور نہ ہی کوئی رچارج کرنے کی، نہ ہی آنکھوں پر برا اثر پڑنے کا ڈر رہتا ہے اور نہ ہی مطالعہ کرنے کا کوئی مخصوص وقت ہوتا ہے۔بلکہ آدمی جب اور جس جگہ چاہیے مزے لے لے کر اخبار کا مطالعہ کر سکتا ہے۔
ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخبارات کے بے شمار فائدے ہیںلیکن افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ نسل اخبارات کے مطالعے سے کنارہ کشی اختیار کرتی جا رہی ہے جو پوری نسل کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔نہ جانے کیوں موجودہ نسل کتب بینی اور اخبار بینی سے دور بھاگتی جا رہی ہے ۔آخر موجودہ نسل کو اپنا سود و زیاں صرف اور صرف موبائل فون اور ٹیلی ویژن میں ہی کیوں نظر آرہا ہے جبکہ یہ دونوں آلات بہت ساری مضر اثرات کی حامل ہیں ۔ان دونوں آلات سے نہ صرف ہمارا خرچہ بڑھ رہا ہے بلکہ ان سے معاشرے میں عریانی اور فحاشی بھی بڑھ گئی ہے۔بچوں کے ہاتھوں میں موبائل فون تھمانے سے قدرے بہتر تھا کہ ان میں اخبار بینی کا شوق پروان چڑھایا جاتا۔مضمون نگار یا کالم نویس محنت مشقت کر کے مضمون یا کالم تیار کر کے اخبار میں شایع کرتا ہے بلکہ مختلف اخبارات ہفتے میں مختلف موضوعات پر کالم اور مضامین شائع کرتے ہیں لیکن بے حد افسوس ہوتا ہے کہ لوگوں پر ان مضامین کا مطالعہ کرنا بار گراں گزرتا ہے۔ حال ہی میں ایک دوست سے اخبار بیجنے کے لئے کہا جواب میں انہوں نے بڑے درد بھرے لہجے میں کہا "بھائی اب اخبار پڑھتا کون ہے میں نے کئی بار اخبارات لائے لیکن پڑے رہے یہیں، کسی نے اخبار نہیں لیا"
اخبار محض کاغذ کی پرچی نہیں ہوتی بلکہ اخبار ایک آئینہ ہوتا ہے جس میں سے ہمیں اپنا معاشرہ نظر آتا ہے ۔معاشرے کی ہر اچھائی، برائی نظر آتی ہے۔ اخبار معاشرے کو اپنا چہرہ دکھاتا رہتا ہے اتنا ہی نہیں اخبار ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہم سماجی برائیوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں مختلف سماجی برائیوں پر اخبارات میں رائے زنی کر کے ان سماجی برائیوں کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ بقولِ شاعر
کھینچو نہ کمانوں کو نہ تلوار نکالو
جب توپ مقابل ہو تو اخبار نکالو
لہٰذا ہمیں اخبارات کا مطالعہ کرتے رہنا چاہئے۔ ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی اخبار نہیں پڑھتا بلکہ کچھ لوگوں کو تب تک ناشتہ حلق سے نہیں اترتا جب تک ان کے ہاتھ میں اخبار نہ ہو لیکن ایسے لوگوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے بلکہ کچھ لوگ موٹی موٹی خبروںکا مشاہدہ کر کے اخبار پھینک دیتے ہیں جبکہ ہونا یہ چاہئے تھا کہ پورے اخبار کا مطالعہ کر کے اسے دوبارہ شروع سے ہی بہت دلچسپی سے پڑھا جاتا تاکہ ہمارے علم میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اخبار بینی کا شوق بھی بڑھ جاتا۔ ہمیں چاہیے کہ کم سے کم اپنے گھروں کے لئے ایک اخبار کا اہتمام کریں۔ اپنے لئے نہ صحیح بلکہ اپنی نئی نسل کے لئے ایسا کرنا ناگزیر ہے تاکہ ہماری نئی نسل علم و ادب سے جڑی رہے ۔میں اساتذہ کرام سے بھی بے حد احترام سے گزارش کرنا چاہوں گا کہ کم سے کم اپنے اسکولوں کے لیے ایک اردو اور ایک انگریزی اخبار کا اہتمام کریں جس سے بچوں میں اخبار بینی کا شوق پروان چڑھایا جا سکے۔
رابطہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر