ایران میں ایک قدیم شہر ’’رے‘‘ کے نام سے مشہور رہا ہے جو اس وقت بھی اسی نام سے تہران کے صوبہ میں شامل ہے۔ تہران آج کے ایران کا پایہ تخت ہے۔ عالم اسلام کے ان گنت ارباب کمال اسی شہر’’رے‘‘ سے اُٹھے ہیں اور اپنی جائے ولادت کی نسبت سے ’الرازی یا رازی‘کہلاتے ہیں۔ عہد وسطیٰ کے مشہور طبیب اور سائنسدان ابو بکر محمد بن زکریا رازی (المتوفیٰ ۳۱۱ھ ؍ ۹۲۵ء) ،یگانہ روزگار مفسر قرآن امام فخرالدین رازی (المتوفیٰ ۶۰۶ھ؍۱۲۹ء) اوربلندپایہ صوفی نجم الدین رازی (المتوفی ۶۵۴ھ /۱۲۵۶ء اسی مردم خیزشہر’رے‘سے تعلق رکھتے ہیں۔
۲۵۱ ھ ؍ ۸۶۵ ء میں ’رے ‘میں ایک غریب خاندان میں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام محمد رکھا گیا۔ افلاس کے ماحول میں بچے نے معمولی تعلیم پائی۔ لڑکپن میں وہ اپنا وقت عود بجانے اور یار دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میں بتاتا رہا۔ جوانی میں کچھ کرنے کا خیال آیا تو پیسہ اور کام دونوں نہ تھے۔
حالات میں خیالی گھوڑے دوڑانے لگا تو بیکار ذہن کیمیا گری کی طرف گیا تاکہ اس عمل سے سونا بنا کر دولت کما سکے۔ چنانچہ اس نے اپنے گھر میں بھٹی لگائی اور دن رات بھٹی میں آگ جلاکر تجربات کرتا رہا۔ سالہا سال تجربات کرنے کے بعد بھی اس عمل سے سونا تو حاصل نہ ہوا البتہ اس کی آنکھیں خراب ہوگئیں۔ دھویں سے اس کی بینائی متاثر ہوئی تھی۔ ایک طبیب سے مشورہ کیا۔ اس نے علاج کیلئے پانچ سو اشرافیاں مانگیں۔ محمد نے کہیں سے رقم کا بندوبست کیا اور طبیب کو دی۔ طبیب نے اس کی آنکھوں کا علاج کیا اور وہ ٹھیک ہوگئیں۔ شفا یاب ہونے کے بعد طبیب نے اس سے پوچھا کہ تم کرتے کیا ہو؟ محمد نے اپنا ماجرا بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کیمیا گری کیلئے گھر میں بھٹی لگا رکھی ہے اور سونا بنانے کا تجربہ کررہا ہوں۔ میری آنکھیں بھی اسی سے خراب ہوئی تھیں۔ یہ سن کر طبیب نے اس سے کہا کہ تم نے خواہ مخواہ خیالی اکسیر کے چکرمیں پڑکر اپنی آنکھیں خراب کرڈالیں۔ اصل اکسیر انسان کا ہنر ہوتا ہے۔ مجھے دیکھو میں نے اپنے ہنر سے تم سے پانچ سواشرفیاں بھی کمالیںاور تمہاری آنکھوں کا بھی علاج ہوا تمہیں بھی فائدہ پہنچا۔ طبیب کی بات محمد کے دل کو لگی۔ اس نے ٹھان لی کہ وہ بھی طب کا علم حاصل کرے گا۔ اس وقت وہ ۳۸ برس کا تھا۔ مگر حصولِ علم کی دھن میں بیوی بچوں کو چھوڑ کر بغداد کی راہ لی اور وہاں پہنچکر وہ طب کا علم حاصل کرنے میں لگ گیا۔ یہاں وہ روزانہ اپنے استاد کے ساتھ ہسپتال جاکر طب عملی میں تجربات کرتا تھا۔ ان تجربات سے اسے بہت فائدہ ہوا وہ ایک ماہر اور صادق طبیب بن گیا۔ محمد اگر چہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا تھا مگر اب وہ طب کی بدولت قابل احترام شخصیت بن چکا تھا۔ آگے چل کر محمد کی شہرت عالم اسلام کی حدود سے نکل کر چار دانگ عالم میں پھیل گئی۔
محمد کا پورا نام ابو بکر محمد بن زکریا الرازی تھا پچھلے گیارہ سو سال سے وہ مشرق میں ’الرازی ؍ رازی‘ اور مغرب میں Rhazes ، Al-Raza اور Abubacer کے ناموں سے مشہور ہیں۔ ان کی کتابوں کے ترجمے یورپ کے میڈیکل کالجوں میں صدیوں تک داخل نصاب رہے ہیں۔
بغداد میں جب رازی نے طب کی تعلیم مکمل کی تو ان کے آبائی شہر ’’رے‘‘ کے ہسپتال میں ناظم کی جگہ خالی ہوئی تھی۔ رازی ہسپتال کے ناظم مقرر ہوگئے۔ بعد میں وہ اسی ہسپتال کے ناظم اعلیٰ ہوئے جسے’ ساعور ‘کہتے تھے ۔یہاں ان کی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ چنانچہ ان کا تبادلہ بغداد کردیا گیا جہاں ایک بڑے ہسپتال کا منصوبہ حکومت کے زیر غور تھا۔ ہسپتال کیلئے موزوں جگہ منتخب کرنے کا کام رازی کو تفویض ہوا۔ انہوں نے بڑی مہارت سے موزوں مقام منتخب کرنے کی ذمہ داری نبھائی۔ بغداد کے مختلف گوشوں میں انہوں نے بلندیوں پر گوشت کے ٹکڑے آویزاں کرائے۔ جس جگہ کا گوشت سب سے آخر میں سڑا، رازی نے آب و ہوا کے لحاظ سے اسی جگہ کو ہسپتال کیلئے موزوں خیال کیا ۔چنانچہ ان کی نگرانی میں ہسپتال کی تعمیر کا کام مکمل ہوا۔ اس کے بعد رازی کو سوا طباء میں سے منتخب کرکے بغداد کے سب سے بڑے ہسپتال کا ساعور (رئیس الاطباء ؍ ناظم اعلیٰ) مقرر کیا گیا جس کے تحت سارا طبی عملہ کام کرتا تھا ۔جس وقت ان کا انتقال ہوا وہ اسی منصب پر کام کرتے تھے۔
رازی ایک عظیم سائنسداں اور بلند پایہ مفکر تھے۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر دو سو پچاس سے زائد کتابیں تحریر کی ہیں۔ طب میں ان کی کتابیں ’الحاوی‘ ’کتاب المنصوری‘ اور ’کتاب الجدری والحصبہ ‘بہت مشہور ہیں۔’ الحاوی‘ طب کے تمام پہلوئوں کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ بہت ضخیم کتاب ہے۔ ایک یہودی عالم فرج بن سالم نے اس کا لاطینی ترجمہ Liber Continens کے عنوان سے ۱۲۷۹ء میں کیا تھا۔ لاطینی ترجمہ پچیس جلدوں میں ہے۔ اس کی مقبولیت کا عالم یورپ میں یہ تھا کہ یہ پہلی بار ۱۴۸۶ ء میں شائع ہوئی۔ کتاب بہت ضحیم تھی اور دام بھی زیادہ تھے مگر ۱۵۴۲ء میں اس کا پندرھواں ایڈیشن شائع ہوا۔ علاوہ ازیں کتاب کے مختلف حصوں کے ترجمے بھی وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ الحاوی میں یونانی ،شامی اور عربوں کا سارا طبی سرمایہ جمع کیا گیا ہے۔ اس کا لاطینی ترجمہ صدیوں تک یورپ میں پڑھایا جاتا تھا ۔رازی کی ایک اور کتاب ’’کتاب المنصوری‘‘ ہے جو انہوں نے امیر خراسان منصوربن اسحٰق کے نام لکھی تھی۔ یہ بھی ضخیم کتاب ہے اور دس جلد وں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب بھی بہت مشہور ہوئی۔ اس کا ترجمہ لاطینی میں جرارالقرمونی نے کیا تھا جس کو مغرب میں بے حدپزیرائی ملی۔
چچک اور خسرہ کے موضوع پر رازی نے ’’کتاب الجدری والحصبہ‘‘ کے عنوان سے ایک رسالہ تحریر کیا ہے جس میں چچک کے بارے میں اولین واضح بیان ملتا ہے۔ ۱۴۹۸ء میں اس کا لاطینی ترجمہ وینس سے شائع ہوا۔ اس کے بعد اس کے ترجمے یونانی ،فرنچ ،جرمن،انگریزی اور یورپ کی دوسری زبانوں میں بھی ہوئے۔ اس کی مقبولیت کا عالم یہ تھا کہ ۱۴۹۸ء اور ۱۸۶۶ء کے درمیان اس کے چالیس ایڈیشن نکلے۔ ایک مورخ کے بقول یہ صرف انگریزی کے چالیس ایڈیشن تھے۔ سائنس کے مورخین کے نزدیک یہ عربوں کے طبی ادب کا زیور ہے۔ خارج سارٹن نے رسالے کو مسلم طب کا شاہکار کہا ہے اس کا لاطینی ترجمہ یورپ میں طبی نصاب کا حصہ رہا ہے۔
رازی کی شخصیت کے گوناگو ںپہلو تھے۔ وہ اپنے زمانے کے مختلف علوم میں دستگاہ رکھتے تھے۔ انہوں نے کیمیاگری کے تجربات سے گو اپنی آنکھوں کو نقصان پہنچایا تھا مگر ان کی محبت سے کمیسٹری کا دامن مالا مال ہوا۔ انہوں نے کیمیائی مادوں کو نباتات ، حیوانات اور معدنیات میں تقسیم کرکے پہلی دفعہ ایسی درجہ بندی کی ہے جو آج تک سائنس میں مسلم چلی آرہی ہے ۔ مورخین کا بیان ہے کہ یہ تصور رازی ہی سے چلا آرہا ہے۔ انہوں نے کیمیائی عملوں کو عام فہم زبان میں بیان کیا اور پچیس ایسے آلات کی تشریح کی جو کیمیائی عملوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کیمیا کے موضوع پر اکیس کتابیں تحریر کی ہیں جن میں ’سرالاسرار‘ مشہور ہے۔ وہ اطباء میں سب سے بڑے کیمیادان تھے۔ اس علم میں مہارت کی بنا پر انہیں کمیسٹری کے باواآدم جابر بن حیان کا جانشین مانا جاتا ہے۔
رازی نے معدنیات کو بھی زیر بحث لایا ہے۔ انہوں نے معدنیات کی مختلف قسموں پر روشنی ڈالی ہے۔ رازی طبعیات ؍ فزکس کے بڑے ماہر تھے۔ انہوں نے فزکس کے مختلف موضوعات مادہ ،حرکت،مکان، زمان، مناظر،مرایا اور بصیریات پر بھی کتابیں تحریرکی ہیں۔ مختلف اشیاء کے درمیان باہمی کشش اور کششِ ثقل کو بھی انہوں نے اپنی تحریروں میں زیر بحث لایا ہے۔ اپنی ایک تصنیف ’’کتاب سبب وقوف الارض فی السماء‘‘ میں انہوں نے پہلی مرتبہ انکشاف کیاہے کہ زمین کشش کے سہارے فضا میں معلق ہے۔ ایک اور کتاب ’’کتاب ھیئۃ العالم ‘‘ میں انہوں نے تحریر کیا کہ زمین کی شکل کروی ہے۔ ۔۔(جاری)
رابطہ ۔حدی پورہ رفیع آباد،بارہمولہ کشمیر