برازیلیا//برازیل کے ساحلی شہر سانتوس میں ’دی کنگ‘ پیلے کی آخری رسومات کے دوران ہزاروں کی تعداد میں مداحوں نے اپنے ہیرو کو الوداع کر دیا جبکہ نومنتخب صدر لوئز لولا ڈی سلوا سمیت دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ویلا بیلمرو اسٹیڈیم کے بیچ میں پیلے کو دیکھنے کے لیے لوگ قطار میں کھڑے تھے، فٹبال کی دنیا کے ’دی کنگ‘ پیلے 82 سال کی عمر میں زندگی کی جنگ ہار کر اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے، وہ آنتوں کے کینسر کے عارضے میں مبتلا تھے۔10 بجے شروع ہونے والی خری رسومات میں اسٹیڈیم کے باہر ایک مداح انتونیو دا پیز نے بتایا کہ پیلے نے ملک بھر میں اپنے لاکھوں مداحوں کو چھوڑ دیا، وہ برازیلین فٹ بال کے خالق تھے۔
فیفا کے صدر گیانی انفینٹینو آخری رسومات کے لیے سب سے پہلے آنے والوں میں شامل ہیں، بتایا کہ وہ ہر ملک کو کہتے ہیں کہ وہ ایک اسٹیڈیم کا نام پیلے رکھیں، وہ واحد کھلاڑی تھے، جنہوں نے بطور کھلاڑی تین بار ورلڈ کپ جیتا۔گیانی انفینٹینو نے رپورٹز کو بتایا کہ فیفا یقیناً انہیں ’کنگ‘ جیسی عزت دے گی، جس کے وہ مستحق ہیں، ہم نے دنیا بھر میں تمام فٹ بال ایسوسی ایشن سے کہا ہے کہ ہر میچ سے قبل ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں، اور 211 ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ایک اپنے ایک اسٹیڈیم کا نام پیلے رکھیں، مستقبل کی نسلوں کو پتا ہونا چاہے کہ پیلے کون تھے۔23 اکتوبر 1940 برازیل کے جنوب مشرقی شہر میں پیدا ہوئے لیکن وہ 1956 میں سانتوس منتقل ہو گئے اور زیادہ تر زندگی وہیں گزاری۔پیر کو صبح جب ان کا جسد خاکی ساؤ پالو کے البرٹ آئن سٹائن ہسپتال میں لایا گیا، جو تقریباً 4 لاکھ 30 افراد کا شہر ہے جبکہ اس دوران آتش بازی کی گئی۔رپورٹ کے مطابق ٹی وی فوٹیجز کے مطابق برازیل کے سابق مڈفیلڈر زی رابرٹو اور پیلے کے بیٹے ایڈینہو نے میدان میں ان کا تابوت رکھنے میں مدد کی، نیمار، ونیسیئس جونیئر اور ریال میڈرڈ کی جانب سے پھولوں کی چادریں بھیجی گئیں۔رپورٹ کے مطابق پیلے کے تابوت کو لے کر جلوس سانتوس کی گلیوں سے گزا، جس کا اختتام ایکومینیکل میموریل نیکروپولیس قبرستان پر ہوا، جہاں ان کی تدفین کی گی۔سانتوس کے پریس آفس نے بتایا کہ دنیا بھر سے تقریباً 5 ہزار صحافیوں کو پیلے کی آخری رسومات کی کوریج کے لیے اجازت دی گئی۔آخری رسومات میں متعدد سرکاری افسران کے علاوہ نومنتخب صدر لوئز لولا ڈی سلوا اور نائب صدر جیرالڈو الکمن نے بھی شرکت کی۔