عظمیٰ ویب ڈیسک
بڈگام/رکن پارلیمنٹ آغا روح اللہ نے ہفتہ کے روز کہا کہ وہ احتجاج کرنے والے طلبہ کو تنہا محسوس نہیں ہونے دیں گے اور ان کے مسائل ہر فورم پر اٹھاتے رہیں گے۔خانصاحب بڈگام میں عوامی دربار کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے آغا روح اللہ نے کہا، اگر حکومت ریزرویشن کے معاملے پر طلبہ کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی تو میں ان کے احتجاج میں شامل ہونے سے بھی دریغ نہیں کروں گا۔انہوں نے کہا،میں نے حکام کے سامنے ایک سادہ اور واضح مطالبہ رکھا ہے کہ طلبہ سے بات کی جائے اور انہیں فیصلہ سازی کے عمل کی موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا جائے۔آغا روح اللہ نے کہا’’طلبہ سے بات کریں، انہیں بتائیں کہ کیا فیصلے لیے گئے ہیں، فائل کس مرحلے پر ہے۔ اگر کوئی چیز حلفِ راز کے دائرے میں آتی ہے تو اسے ظاہر نہ کریں، مگر کم از کم طلبہ کو اعتماد میں ضرور لیں۔
انہوں نے بار بار جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز اور تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے طلبہ میں مایوسی پھیل رہی ہے۔ اگر حکومت ان سے بات بھی نہیں کر سکتی تو میں ان طلبہ کو اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ اگر انہیں کسی آواز کی ضرورت ہے تو میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں اور مکمل حمایت فراہم کروں گا۔آغا روح اللہ نے کہا کہ حکام کے پاس ہمدردی دکھانے کے لیے ابھی بھی چند گھنٹے باقی ہیں۔ اگر حکومت کو طلبہ سے ذرا بھی ہمدردی ہے تو انہیں بلائے، ان سے بات کرے اور بتائے کہ عمل کہاں تک پہنچا ہے اور اب تک کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ احتجاج کی جگہ کا فیصلہ طلبہ خود کریں گےجہاں طلبہ بیٹھیں گے، میں وہیں بیٹھوں گا۔
بھارت اور بنگلہ دیش میں پیش آنے والے لنچنگ کے واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ہجوم کے ہاتھوں قتل دہشت گردی کے مترادف ہے، چاہے وہ کسی بھی مذہب یا خطے میں ہوں۔ چاہے یہ بھارت میں ہو یا بنگلہ دیش میں، متاثرہ شخص مسلمان ہو یا غیر مسلم، لنچنگ دہشت گردی ہے۔ کسی بھی بے گناہ کو ہجوم کے ذریعے قتل کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے،انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کی غیر مشروط مذمت ہونی چاہیے۔
طلباءکو تنہا نہیں چھوڑوں گا،حکومت نے طلباکو اعتماد میں نہ لیا تو احتجاج میں شامل ہوجاؤں گا:آغا روح اللہ