نئی دہلی//جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی نے اتوار کو کہا کہ جب تک جموں و کشمیر میں دفعہ 370 بحال نہیں کیا جاتا وہ اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گی۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نے بھارت کے سیکولر ہونے کی وجہ سے الحاق کیا تھا، لیکن فرقہ پرستی اور 2019 کے فیصلوں کی وجہ سے جموں وکشمیر کے لوگوں میں بھارتی حکومت کے تئیں ناراضگی پائی جا رہی ہے۔
محبوبہ نے کہا کہ اگست 2019 میں غیر آئینی اور غیر قانونی طریقے سے دفعہ 370 کو منسوخ کیا تھا اور جموں کی خصوصی حیثیت، لوگوں کے اختیارات چھین لئے گئے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ دفعہ 370 کی بحالی تک وہ اسمبلی انتخابات نہیں لڑیں گی۔
میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مفتی نے مزید کہا کہ جی-20 ملک کے لیے ایک تقریب ہے لیکن بی جے پی نے اسے ہائی جیک کر لیا ہے۔ محبوبہ نے بی جے پی پر جی 20 ’لوگو‘ کو کمل کے ساتھ تبدیل کرنے کا بھی الزام لگایا، یہ کہتے ہوئے کہ “لوگو کا تعلق ملک سے ہونا چاہیے تھا، پارٹی سے نہیں”۔
انہوں نے مزید کہا کہ جی20 کے بجائے سارک سربراہی اجلاس کا انعقاد خطے میں بھارت کی قیادت کو قائم کرنے کے لیے زیادہ مناسب ہوگا۔
بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں تناو¿ کے درمیان، کھٹمنڈو میں 2014 کے اجلاس کے بعد سے سارک کے دو سالہ سربراہی اجلاس نہیں ہوئے ہیں۔
محبوبہ مفتی نے کہا،”جی 20 ملک کے لیے ایک ایونٹ ہے لیکن بی جے پی نے اسے ہائی جیک کر لیا ہے، انہوں نے لوگو کو لوٹس سے بھی بدل دیا ہے، لوگو کا تعلق ملک سے ہونا چاہیے تھا، پارٹی سے نہیں… یہ سارک ہے جو ہمارے ملک کی قیادت قائم کرے گا۔ اس خطے کے اندر… سارک سربراہی اجلاس کیوں نہ ہو اور ہمارے مسئلے کو حل کیا جائے“۔
دریں اثنا، محبوبہ مفتی نے حال ہی میں ختم ہونے والے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں “فاشسٹ، فرقہ پرست اور تقسیم پسند” بی جے پی کو شکست دے کر پورے ملک کو امید کی کرن دینے کے لیے کرناٹک کے لوگوں کی ستائش کی۔
تاہم، انہوں نے لوگوں کو دہلی میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر ایک کو جاگنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ ملک میں کہیں بھی ہو سکتا ہے۔
محبوبہ مفتی نے 20 مئی کو صدر کی طرف سے منظور کیے گئے ایک آرڈیننس کا حوالہ دیا، جس میں دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر کو دہلی میں سرکاری ملازمین کے تبادلے، پوسٹنگ اور تادیبی کارروائیوں کی نگرانی کرنے کے اختیارات دیے گئے تھے۔
یہ آرڈیننس سپریم کورٹ کی آئینی بنچ کے فیصلے کے ایک ہفتہ کے بعد لایا گیا تھا کہ قومی دارالحکومت میں انڈین ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) افسران کے اختیارات مرکزی حکومت کے نہیں بلکہ دہلی حکومت کے پاس ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ مرکزی حکومت منتخب ریاستی حکومتوں کی حکمرانی نہیں لے سکتی۔
محبوبہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا،”کرناٹک نے پورے ملک کو امید کی کرن دی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی میں سبھی لوگ کرناٹک انتخابات میں مذہب کا استعمال کر رہے تھے لیکن پھر بھی لوگوں نے انہیں ووٹ دیا“۔
ان کے مطابق، راہول گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا نے کرناٹک اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی جیت کی بنیاد رکھی تھی۔
پی ڈی پی سربراہ نے کہا،”گزشتہ پانچ سال نفرت اور فرقہ وارانہ سیاست کی زد میں رہے۔ کرناٹک میں بھی تقسیم کی سیاست کھیلی گئی”۔
دفعہ 370 بحال ہونے تک اسمبلی الیکشن نہیں لڑوں گی: محبوبہ مفتی