گوہاٹی//دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد کشمیر میں قومی پرچم لہرانے پر کوئی پابندی نہیں ہے،کبھی ایسا ماحول تھا جب ترنگا لہرانے پر جیل بھیج دیا جاتا تھا۔
مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات انوراگ ٹھاکر نے منگل کو کہا ،”میں نے2010 سے 2017 تک بی جے پی یوتھ ونگ کے صدر کے طور پر سب سے زیادہ عرصے تک خدمات انجام دیں۔ میں نے قومی پرچم لہرانے کے لیے کولکتہ سے کشمیر تک یاترا کی۔ مجھے جموں و کشمیر میں قومی پرچم لہرانے پر جیل میں ڈال دیا گیا۔ آج، میں دیکھ رہا ہوں کہ جموں اور کشمیر ایک مختلف ریاست ہے جہاں ایسی کوئی پابندیاں نہیں ہیں“۔
وزیر نے مزید کہا کہ اگست 2019 کے بعد، جب مرکزی حکومت نے دفعہ370 کو مسترد کر دیا تھا، اس علاقے میں ایسی کوئی پابندیاں نہیں ہیں۔
ٹھاکر نے کہا،”جموں و کشمیر میں قومی پرچم لہرانا بھی مشکل تھا۔ لیکن دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد، آپ گزشتہ سال ’ہر گھر ترنگا‘ پروگرام کے دوران دیکھ سکتے تھے، کشمیر میں ہر گھر پر ایک ترنگا لہرایا گیا تھا“۔
ٹھاکر نے ان باتوں کا اظہار جی20 انڈیا کے تحت 2023 میں پہلی Y20 میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
یوتھ 20 میں ہونے والی بات چیت کا مقصد نوجوانوں تک پہنچنا اور “بہتر کل کے لیے” خیالات کے لیے ان سے مشاورت کرنا تھا۔تین روزہ اجلاس میں جی 20 ممالک کے 150 سے زائد یوتھ مندوبین شرکت کر رہے ہیں۔ان تقریبات میں کالج اور یونیورسٹی کے 12,000 سے زائد طلباءکی شرکت بھی متوقع ہے۔
کشمیر میں ترنگا لہرانے پر مجھے جیل میں ڈالا گیا تھا،اب ایسی کوئی پابندی نہیں: انوراگ ٹھاکر