نیوز ڈیسک
جموں//جموں سری نگر قومی شاہراہ پر رام بن ضلع میں سب سے خطرناک سٹریچ پنتھیال میں زیرِ تعمیل ٹنل T5 کا تعمیراتی کام تکمیل کے نزدیک ہے، ٹنل کا افتتاح اگلے ہفتے کیا جائے گا۔
880 طویل میٹر ٹنل پر کام 2020 میں شروع ہوا تھا اور توقع ہے کہ اگلے پانچ دنوں میں مکمل ہو جائے گا۔ یہ ٹنل شاہراہ کے ایک ایسے مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں پتھر اور مٹی کے تودے سب سے زیادہ گرنے کا خطرہ رہتا ہے۔
گزشتہ دو سالوں میں، اس اہم حصے پر لوہے اور سٹیل کا ایک عارضی ٹنل بنایا گیا تھا، جس سے شاہراہ پرسفر کرنے والے لوگوں کو اگرچہ کچھ راحت ملی تھی تاہم مسلسل پتھراﺅ اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے یہ ٹنل بھی زیادہ دیر تک ٹک نہیں پایا۔
ڈپٹی کمشنر رام بن مسرت اسلام نے کہا کہ T5 ٹنل کے افتتاح کے ساتھ ہی اسے گاڑیوں کی آمد ورفت کیلئے کھول دیا جائے گا ، جس سے نہ صرف مسافت کم ہو گی بلکہ پتھراﺅ اور پسی متاثرہ علاقہ پوری طرح سے کٹ جائے گا۔
مسرت اسلام، جو اس منصوبے کی نگرانی کر رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر پیش رفت کو باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کرتے ہیں، نے کہا کہ T5 ٹنل کے کھلنے سے شاہراہ پر اکثر ٹریفک جام کے ساتھ پسیاں گرنے کا خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔
حال ہی میں ایک ٹویٹ میں، انہوں نے کہا کہ T5 ٹنل کے کھلنے سے “پنتھیال کا خطرہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے گا”۔ ایک اور ٹویٹ میں، انہوں نے پیومنٹ کوالٹی کنکریٹ (PQC) کے کام کی تصاویر شیئر کیں جو T5 میں سب سے اوپر والی سطح کے لیے رکھی گئی ہیں۔
270 کلومیٹر طویل شاہراہ کا 4 لین پروجیکٹ کا تعمیراتی کام سال2011 میں شروع کیا گیا تھا۔منصوبے میں متعدد چھوٹی اور بڑی سرنگیں، پل اور فلائی اوور شامل ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران کئی ڈیڈ لائنز پوری نہ ہونے کے بعد اگلے سال تک شاہراہ کا تعمیراتی کام مکمل ہونے کا امکان ہے۔
ڈپٹی کمشنر رام بن نے کہا،”ہمارے ضلع میں ناشری ٹنل سے بانہال ٹنل تک شاہراہ کا 66 کلومیٹر کا سب سے نازک حصہ گزرتا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں ہمارے ضلع میں تین ٹنل تعمیر کئے گئے اور کئی دیگر چھوٹی سرنگیں اور پل مکمل ہونے کے قریب ہیں جو سڑک کے دیگر پُرخطر مقامات کو پوری سے بائی پاس کر دیں گے” ۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ ضلع رام بن کا سفر جولائی کے آخر تک بہت آرام دہ ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا، “رام بن فلائی اوور جو رام بن مارکیٹ کو بائی پاس کرے گا، 15 اپریل تک، کرول کے قریب جیشوال پل 31 مارچ تک اور پیڑا اور چندر کوٹ کے درمیان 873 میٹر کنفر ٹنل کو اگلے ماہ تک ٹریفک آمد ورفت کیلئے کھول دیا جائے گا”۔
انہوں نے کہا کہ جموں سری نگر قومی شاہراہ، جسے NH44 بھی کہا جاتا ہے، واحد شاہراہ ہے جہاں گاڑیوں کی نقل و حرکت کو روکے بغیر 4لین کا تعمیراتی کام جاری ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا،”ہر روز اوسطاً 10ہزار سے 11ہزار گاڑیاں شاہراہ پر (سرینگر اور جموں کے درمیان) چلتی ہیں۔ یہ وادی کو بیرون دنیا سے ملانے والی ’لائف لائن‘ اور واحد سڑک ہے اس لیے تعمیراتی ایجنسیوں کو کئی چیلنجز کا بھی سامنا ہے”۔
انہوں نے کہا، “انتظامیہ NHAI کو اس منصوبے کی مقررہ مدت میں تکمیل اور ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کر رہی ہے”۔
سی پی پی ایل کی تعمیراتی کمپنی کے ساتھ کام کرنے والے ایک عہدیدار ورندر سنگھ نے کہا کہ 200 سے زیادہ افراد ٹنل کو تیز رفتاری سے مکمل کرنے میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹنل کے جلد کھلنے کو یقینی بنانے کے لیے انجینئرز، سپروائزر اور مزدور سب مل کر شفٹوں میں چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں۔
سماجی کارکن افتخار احمد نے کہا کہ ٹنل کا افتتاح ایک اہم پیش رفت ہو گا کیونکہ پنتھیال میں پتھراو¿ سے کئی جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔
انہوں نے کہا، “ہم مرکزی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ سڑک کو محفوظ بنانے کے لیے سلائیڈ کے شکار علاقوں میں کچھ اور سرنگوں کی تعمیر کو منظوری دی جائے”۔