جموں//بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چگھ نے آج کہا کہ مرکز کی بھاجپا حکومت کی بدولت ہی کانگریس لیڈر راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی برف سے لطف اندوز ہو پائے ہیں۔
چگھ نے اکھنور میں ان لوگوں کی یاد میں قومی پرچم لہرایا جنہوں نے ملک کی یکجہتی اور سالمیت کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔
لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے چگھ نے یہاں اکھنور کے جوڑیان گاوں میں پرجا پریشد کے شہیدوں کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ قربانیوں کی داستان ہے جس نے ہمیں اس مرحلے تک پہنچایا ہے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کا ترقی اور امن کا پیغام پھر سے گونجنے لگا ہے۔
انہوں نے سوال کیا کہ کانگریس اور راہول گاندھی جیسے لیڈروں کو لال چوک پر ترنگا لہرانے میں 70 سال کیوں لگے؟ چگھ نے کہا کہ دہشت گردی کے لیے مودی کی زیرو ٹالرینس پالیسی نے راہل اور ان کی بہن پرینکا کے لیے وادی میں برف باری سے لطف اندوز ہونا ممکن بنایا ہے۔
شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ترون چگھ نے کہا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ہٹانے کی جدوجہد 70 سال تک جاری رہی۔ انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کی جدوجہد اور تحریک کی ایک طویل تاریخ ہے۔ تاریخ کے اوراق ایثار، کفایت شعاری اور قربانیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ جب شیخ عبداللہ نے جموں و کشمیر میں داخلے کے لیے پرمٹ کا نظام نافذ کیا تو پرجا پریشد نے نعرہ لگایا، دیش میں دو پردھان، دو ودھان، دو نشان: نہیں چلیں گے، نہیں چلیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ11 جنوری 1953 کو لوہڑی کے تہوار سے دو دن قبل پولیس نے ایک جلوس پر فائرنگ کی جس میں 5000 سے زائد لوگ شریک تھے۔ 200 سے زائد گولیاں چلائی گئیں جس میں دو افراد ہلاک اور 70 سے زائد زخمی ہوئے۔ 31 جنوری 1953 کو جیودیا گاوں میں احتجاج کرنے والے کسانوں کا ایک بہت بڑا ہجوم اکٹھا ہوا، کسان ہاتھوں میں ترنگا لے کر بھاری تعداد میں جموں کی طرف نکلے، پولیس نے مظاہرین پر گولی چلا دی، جس میں 7 لوگ مارے گئے، جن کی قربانی کو سلام پیش کرنے کیلئے ہم یہاں جمع ہوئے ہیں”۔
مودی حکومت کی بدولت ہی کانگریس لیڈر برف باری سے لطف اندوز ہوپائے:ترون چگھ