سری نگر// ضلع رام بن میں حکام نے ایک سرکاری ٹیچر کو سوشل میڈیا کے زریعے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے پر معطل کر دیا ہے اور جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔
معطلی کا حکم ضلع مجسٹریٹ رام بن مسرت اسلام نے جاری کیا ہے۔
حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ ” زیر التواءانکوائری اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ملازمین کے ذریعہ حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کے بارے میں حکومت کی طرف سے دی گئی ہدایات کی خلاف ورزی پر، جوگندر سنگھ، استاد گورنمنٹ پرائمری سکول چندر کوٹ، کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے”۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ معطل ٹیچر چیف ایجوکیشن آفیسر (سی ای او) رام بن کے دفتر سے منسلک رہے گا۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ آفیسر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کا بھی حکم دیا ہے۔
کمیٹی کے دیگر ارکان میں چیف ایجوکیشن آفیسر رام بن، زونل ایجوکیشن آفیسر بٹوت اور ہیڈ ماسٹر ہائی سکول چندر کوٹ شامل ہیں۔
حکم نامہ کے مطابق،”چیف سکریٹری، جموں و کشمیر نے 17فروری2023 کو ہونے والی میٹنگ کے دوران تمام انتظامی سکریٹریوں کو سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی مستقل بنیادوں پر نگرانی کرنے اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر حکومتی پالیسیوں / کامیابیوں پر تنقید/تبصرہ کرنے والے سرکاری ملازمین کی نشاندہی کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ اور کچھ فیس بک پوسٹس سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر تبصرے کرتے ہوئے پائے گئے جن پر حکومت کی پالیسیوں/کامیابیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا”۔
اس کے مطابق،اس طرح کی چھان بین کے دوران، پتہ چلا کہ جوگیندر سنگھ، نامی ایک فیس بک اکاونٹ ایک سرکاری ٹیچر کا ہے، جو کہ سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، رام بن میں بطور ٹیچر ہے، اس وقت پرائمری سکول چندر کوٹ، ایجوکیشن زون بٹوت میں تعینات ہے”۔
حکم کے مطابق،” چیف ایجوکیشن آفیسر، رام بن سے حقائق کا پتہ لگانے کے لیے رپورٹ طلب کی گئی ہے کہ آیا جوگندر سنگھ سکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ، ضلع رام بن میں ٹیچر کے طور پر کام کر رہے ہیں یا نہیں؛ اور اس حوالے سے چیف ایجوکیشن آفیسر، رام بن نے تفصیلی معلومات طلب کی گئیں۔ مذکورہ شخص کے فیس بک پیج کے حوالے سے زونل ایجوکیشن آفیسر بٹوت نے اپنی تفصیلی رپورٹ چیف ایجوکیشن آفیسر رام بن کو پیش کی اور چیف ایجوکیشن آفیسر 22فروری 2023 کو اس کی جانچ کی۔ مذکورہ رپورٹ کو دیکھنے کے بعد اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ جوگندر سنگھ اس وقت گورنمنٹ پرائمری سکول چندر کوٹ میں ٹیچر کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اس وقت مڈل ساونی، زون بٹوت میں تعینات ہیں۔ رپورٹ میں مزید، یہ انکشاف ہوا ہے کہ سال 2020 میں سوشل میڈیا کے غلط استعمال کی وجہ سے ان کی تنخواہ روکی گئی تھی، چیف ایجوکیشن آفیسر، رام بن نے ایک حکم نامہ، اور مذکورہ ٹیچر کی جانب سے تحریری معافی نامہ جمع کرانے کے بعد اس کی تنخواہ چھوڑ دی گئی تھی۔ پتہ چلا ہے کہ مذکورہ ٹیچر نے اپنے فیس بک پیج پر حکومتی پالیسیوں پر تنقید/تبصرہ کرتے ہوئے مختلف پوسٹس کی ہیں۔ اس کے علاوہ، اس نے اپنی شناخت چھپا رکھی ہے اور جعلی فیس بک آئی ڈی بنائی ہے جس کا پیشہ سماجی و سیاسی کارکن ہے نہ کہ سرکاری استاد©”۔
حکم نامہ کے مطابق،” سوشل میڈیا نیٹ ورکس کی درست جانچ پڑتال کے بعد پتہ چلا کہ مذکورہ ٹیچر کے نام پر چار فیس بک پیجز چل رہے ہیں، ان میں سے صرف دو پیجز پر مذکورہ ٹیچر نے اپنا عہدہ ٹیچر لکھا ہے اور باقی میں اس نے اپنا نام کے ساتھ ٹیچر نہیں لکھا ہے۔ ان پر عہدہ بطور سماجی و سیاسی کارکن لکھا ہے؛ مذکورہ ٹیچر کو گزشتہ اے ٹی ڈی کے دوران ہائر سیکنڈری سکول، راج گڑھ سے گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول، چندر کوٹ میں تبدیل کردیا گیا تھا، لیکن پنچایت کنفر (چندر کوٹ) کے پی آر آئی ایس نے گورنمنٹ پرائمری سکول چندر کوٹ میں ان کی تعیناتی پر اعتراض کیا۔ اس لیے اب اس معاملے میں حقائق کا پتہ لگانے کے لیے، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر، رام بن کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کے ممبران میں ، چیف ایجوکیشن آفیسر، رام بن، زونل ایجوکیشن آفیسر بٹوت اور ہیڈ ماسٹر ہائی سکول چندر کوٹ شامل ہیں”۔
حکم نامہ کے مطابق،”تشکیل دی گئی انکوائری کمیٹی تفصیلی انکوائری شروع کرے گی اور 15مارچ2023 تک یا اس سے پہلے مخصوص سفارشات کے ساتھ اس معاملے میں ایک تفصیلی/جامع رپورٹ پیش کرے گی۔
حکومتی پالیسیوں پر تنقید کا شاخسانہ، رام بن میں سرکاری ٹیچر معطل