عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/وادی کشمیر میں طویل خشک موسمی صورتحال کے بعد پہاڑی و سیاحتی مقامات پر برف باری اور میدانی علاقوں میں بارشیں اہلیان وادی کے لئے خوشی و مسرت کی نوید لے کر آئی ہیں۔جہاں وادی کے سیاحتی مقامات بالخصوص شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں موجود غیر مقامی سیاح تازہ برف باری سے لطف اندوز ہو رہے ہیں وہیں وادی میں عوام و خواص کے چہروں پر بھی خوشی و شادمانی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔وادی کے کسان خاص طور پر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں کیونکہ ان کے کھیتوں میں بوئی ہوئی فصلوں کا کہیں کوئی نام و نشان موجود نہیں تھا۔غلام رسول نامی ایک کسان نے بتایایہ بارش کے قطرے نہیں بلکہ ہمارے کھیت کھلیانوں پر ہیرے جواہر کی برسات ہو رہی ہے، ہم نے جو فصلیں جیسے مٹر، سرسوں، مختلف سبزیاں وغیرہ بوئیں تھیں اب ان کی مردہ جان میں نئی جان آئے گی، اور کھیت کھلیانوں میں بھی تازگی پیدا ہوگی۔
انہوں نے کہابرف و باراں سے ہی ہماری کھیت کھلیانوں بلکہ دوسرے پیڑ پودوں کی آن بان اور شان ہے۔وادی میں طویل خشک موسمی صورتحال کے باعث جہاں دریا، ندی نالے اور چشمے سوکھ رہے تھے جس سے پینے کے پانی کی قلت کےشدید بحران کے خطرات بھی پیدا ہو رہے تھے وہیں فضائی آولودگی کی سطح میں بھی تشویش ناک حد تک اضافہ ہو رہا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ اب برف باراں سے یہ سب خطرات ٹلتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق وادی میں موسم سرما میں برف باری اور بارشوں کا ہونا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس سیزن میں ہونے والے برف باراں پر ہی وادی میں پانی کا اںحصار ہے جو بعد میں جہاں بجلی کی پیداوار کے لئےکام آتا ہے وہیں زراعت کاری کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
وادی میں زراعت کے ساتھ ساتھ شعبہ سیاحت بھی موسم سرما میں برف وباراں پر منحصر ہے۔سیاحت سے جڑے لوگوں کا ماننا ہے کہ وادی کے سیاحتی مقامات پر برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے غیر مقامی سیاحوں کی بھیڑ ہمیشہ بڑھ جاتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ موسم سرما میں بیشتر سیاح برف باری سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہی وارد وادی ہوتے ہیں لہذا اس سیزن میں برف باری ہونا از حد ضروری ہے۔جموں وکشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بھی کشمیر میں سرمائی سیاحت کے لئے برف باری کو اہم قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں برف سیاحوں کی بڑی تعداد میں آمد کا باعث بن جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ جب محکمہ موسمیات نے جموں وکشمیر میں برف باراں کی پیش گوئی کی تو انہوں نے اللہ کا شکریہ ادا کیا۔
ان کاایکس ہینڈل پر اپنے ایک پوسٹ میں کہنا تھا الحمدللہ، جموں و کشمیر میں یہ طویل خشک موسمی صورتحال، جو پچھلے مہینے کے اوائل سے جاری ہے، لگتا ہے کہ آخر کار اس ہفتے کے آخر میں ختم ہو جائے گی۔وادی میں شہر و دیہات کے لوگ برف و باراں کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے۔ان کا ماننا تھا کہ دیگر فوائد کے علاوہ برف و باراں سے لوگوں کو نزلہ، زکام، کھانسی وغیرہ جیسی بیماریوں سے چھٹکارا ملے گا۔برف باری کے لئے لوگوں کے اشتیاق کا عالم یہ تھا کہ گذشتہ رات جب برف باری اور بارشیں شروع ہوئی تو لوگ گھروں سے باہر نکل گئے اور برف باری کے خوبصورت نظاروں کے ویڈیو بنائے اور ان کو اپنے کائونٹس پر اپ لوڈ کیا۔میر واعظ کشمیر میر واعظ عمر فاروق نے برف و باراں کے لئے بارگارہ خدا وندی میں شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے ایک پوسٹ میں کہاالحمدللہ، چلہ کلاں نے بارش اور برفباری کے ساتھ دستک دی ہے اور اللہ کی رحمت آسمانوں سے نازل ہوئی۔ ’’اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا‘‘ (قرآن)۔ یہ اپنے ایمان کو تازہ کرنے اور اپنے خالق کی ان گنت رحمتوں کا شکر ادا کرنے کا وقت ہے۔
کشمیر میں برف و باراں سے عوام و خواص خوش و شادماں