عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/اپنی پارٹی کے صدر نے کہا ہے کہ نیشنل کانفرنس کی جانب سے جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے لیے الگ مہم چلانے کا فیصلہ سیاسی اتحاد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے، تاہم انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ ریاستی درجے کی بحالی بالآخر ضرور ہوگی۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے الطاف بخاری نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اپنے پروگرام چلانے کا حق حاصل ہے، لیکن اگر اس معاملے پر اتحاد ہوتا تو ریاستی درجے کی بحالی کا عمل زیادہ تیزی سے مکمل ہو سکتا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر اتحاد ہوتا تو یہ مسئلہ چھ ماہ میں حل ہو سکتا تھا، لیکن اتحاد نہ ہونے کی صورت میں چھ سال بھی لگ سکتے ہیں، تاہم یہ مسئلہ ضرور حل ہوگا۔‘‘
نیشنل کانفرنس کی مجوزہ ریاستی درجہ بحالی مہم کا حوالہ دیتے ہوئے بخاری نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یہ سرگرمی زیادہ تر پارٹی کے اپنے اراکین اور کارکنان کے لیے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ’’انہیں اپنا پروگرام چلانے کا حق حاصل ہے۔ شاید وہ اتحاد میں دلچسپی نہیں رکھتے۔ جب ہر کوئی الگ الگ بات کرے گا تو مسئلہ مزید پیچیدہ ہو جائے گا۔‘‘
اپنی پارٹی کے صدر نے واضح کیا کہ ان کی جماعت نیشنل کانفرنس کے کسی ایسے احتجاجی پروگرام میں شریک نہیں ہوگی جو صرف پارٹی سطح پر منعقد کیا جائے۔
انہوں نے کہا، ’’وہ کسی کو دعوت نہیں دے رہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی جماعت کا پروگرام ہے۔ اگر اتحاد ہی نہیں تو وہاں جانے کی ضرورت کیا ہے؟‘‘
الطاف بخاری نے یاد دلایا کہ ان کی جماعت 2020 سے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کر رہی ہے اور دعویٰ کیا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے ابتدا میں اس مطالبے کو مسترد کر دیا تھا۔
انہوں نے کہا، ’’جب ہم نے ریاستی درجے کا مسئلہ اٹھایا تو بعض جماعتوں نے اسے دہلی کا ایجنڈا قرار دیا تھا۔ آج یہی مسئلہ ان کا ایجنڈا بن چکا ہے۔ بہرحال یہ عوام کا ایجنڈا ہے اور ہمیں امید ہے کہ وہ اس میں کامیاب ہوں گے۔‘‘
سری نگر ہوائی اڈے پر جاری توسیعی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے بخاری نے زور دیا کہ ترقیاتی کاموں اور سیاحت کے فروغ میں توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا، ’’ترقی اور سیاحت کو ساتھ ساتھ چلنا چاہیے۔ اگر ترقیاتی کاموں کی وجہ سے سیاحت متاثر ہو تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔‘‘
انہوں نے متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ تعمیراتی سرگرمیاں رات کے اوقات میں انجام دی جائیں جبکہ دن کے وقت ہوائی اڈے کی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں تاکہ سیاحوں کو کم سے کم پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔
بخاری نے کہا، ’’اگر ہوائی اڈہ سہ پہر تین بجے کے بعد بند ہو جائے تو اس سے بڑا فرق پڑتا ہے۔ سیاح انتظار نہیں کریں گے۔ لوگوں نے یہاں سیاحتی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی ہے اور حکومت کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔‘‘
انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ اگر ہوائی اڈے سے متعلق کام اکتوبر میں تقریباً پندرہ دن تک جاری رہے تو اس سے مقامی معیشت اور سیاحت کے شعبے پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ریاستی درجے کی بحالی کی جدوجہد میں سیاسی اتحاد ضروری: الطاف بخاری