عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز امید ظاہر کی کہ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے عبوری امن معاہدے کو ناکام بنانے کے لیے کوئی بھی فریق ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امن عمل متاثر ہو۔سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ معاہدے کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں اور حتمی رائے قائم کرنے سے پہلے دنیا کو مزید پیش رفت کا انتظار کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہاکہ ’’نہ آپ جانتے ہیں اور نہ میں کہ اس امن معاہدے میں کیا شامل ہے۔ فی الحال امریکہ، ایران اور پاکستان کو کسی حد تک اس کی معلومات ہوں گی۔ ہمیں جمعہ تک انتظار کرنا ہوگا۔‘‘انہوں نے مزید کہاکہ ’’جمعہ تک ہم امید کرتے ہیں کہ کوئی بھی اس امن معاہدے کو توڑنے کی کوشش نہیں کرے گا، لیکن ہماری خواہش ہے کہ یہ جنگ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ خطے میں معمولاتِ زندگی بحال ہوں گے، جن میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کا دوبارہ کھلنا بھی شامل ہے، جو خلیجی کشیدگی کے باعث متاثر ہونے والا دنیا کا ایک اہم تیل بردار بحری راستہ ہے۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ایران کو اس جنگ کے دوران شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور بمباری سے ہونے والے نقصانات کا معاوضہ ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ایران کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ بمباری میں اس کے اثاثے تباہ ہوئے۔ ان کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ انہوں نے جنگ شروع نہیں کی تھی بلکہ جنگ ان پر مسلط کی گئی تھی۔ ہمیں امید ہے کہ انہیں جو معاوضہ ملنا چاہیے، اس کا ذکر بھی کہیں نہ کہیں اس معاہدے میں ہوگا۔‘‘دریں اثنا، رکن پارلیمنٹ اور نیشنل کانفرنس کے ناراض رہنما روح اللہ مہدی نے کہا کہ ایران کے عوام نے ہمیشہ مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کی ہے اور جسے انہوں نے خطے میں ’’امریکہ-اسرائیل بالادستی‘‘ قرار دیا، اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایران طویل عرصے سے دباؤ اور تنازعات کا سامنا کرنے کے باوجود اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہا ہے۔
امید ہے کہ ایران-امریکہ امن معاہدے کو کوئی سبوتاژ نہیں کرے گا:عمر عبداللہ