عظمیٰ ویب ڈیسک
نئی دہلی/دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں مسرت عالم ، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی اور دیگر کی جانب سے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کے خلاف دائر اپیلیں خارج کر دیں، جن کے تحت ان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (UAPA) کے تحت ملی ٹینسیفنڈنگ کے مقدمے میں الزامات عائد کیے گئے تھے۔جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے بیٹوں شاہد یوسف اور سید احمد شکیل کی اپیلیں بھی مسترد کر دیں۔
عدالت نے کہا کہ چونکہ یہ اپیلیں فردِ جرم عائد کرنے کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں، اس لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی (NIA) ایکٹ کی دفعہ 21 کے تحت یہ قابلِ سماعت نہیں ہیں۔ دفعہ 21 کے مطابق اسپیشل این آئی اے کورٹ کے عبوری احکامات کے خلاف اپیل نہیں کی جا سکتی۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس معاملے میں تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ اسپیشل این آئی اے کورٹ نے مارچ 2022 میں ان ملزمان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت ملی ٹینسی کی مالی معاونت کے الزامات عائد کیے تھے۔ اسپیشل جج پروین سنگھ نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ملزمان کا مشترکہ مقصد علیحدگی پسندی تھا اور وہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی ’’رہنمائی اور مالی سرپرستی‘‘میں سرگرم ملی ٹینٹ تنظیموں سے قریبی تعلق رکھتے تھے۔
اسی مقدمے میں لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید، حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی یاسین ملک کے خلاف بھی الزامات عائد کیے گئے تھے۔ حافظ سعید اور صلاح الدین پاکستان میں مقیم بتائے جاتے ہیں، جبکہ یاسین ملک نے مقدمے میں جرم قبول کر لیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ این آئی اے کی جانب سے یاسین ملک کو سزائے موت دینے کی اپیل دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے۔
ہائی کورٹ نے اسی روز ایک مشترکہ فیصلے میں ملی ٹینسی کے دیگر مقدمات میں ملوث کئی اور افراد کی اپیلیں بھی خارج کر دیں۔ ان میں جاوید علی، علیمہجمیر، ماساسونگ آؤ، عبد الرحمن، محمد وقار لون، راج کمار، رؤف احمد بھٹ، متین احمد بھٹ، ہارث نصیر لانگو، منان ڈار، حنان گلزار ڈار، زمین عادل بھٹ اور ارسلان فیروز اہنگر شامل ہیں۔ملزمان کی جانب سے متعدد سینئر وکلا اور وکلا عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ قومی تحقیقاتی ایجنسی کی نمائندگی سینئر وکلا سدھارتھ لتھرا اور گوتم نارائن نے اپنی ٹیم کے ساتھ کی۔