عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر حکومت نے پنجاب کے راستے مویشیوں کی ترسیل کے دوران کشمیری گوشت تاجروں سے مبینہ غیر قانونی وصولیوں اور ہراسانی کے دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے کابینہ وزیر برائے خوراک، شہری رسد، امور صارفین و ٹرانسپورٹ ستیش شرماکو پنجاب روانہ کیا ہے، جہاں وہ ریاستی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات کر رہے ہیں۔
یہ اقدام آل کشمیر مٹن ڈیلرز یونین کی جانب سے موصول ہونے والی تازہ شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے، جن میں الزام لگایا گیا کہ پنجاب حکومت کی یقین دہانیوں اور سرکاری احکامات کے باوجود مویشیوں سے لدے ٹرکوں سے غیر مجاز رقم وصول کرنے کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جس سے نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ اور وادی میں گوشت کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے حال ہی میں مٹن ڈیلرز کے ایک وفد سے ملاقات کی۔ وفد نے انہیں بتایا کہ شمالی ہندوستان کی مختلف ریاستوں سے جموں و کشمیر آنے والے مویشی بردار ٹرک پنجاب میں مبینہ طور پر ہراسانی اور غیر قانونی وصولیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کو یقین دلایا کہ یہ معاملہ پنجاب حکومت کے ساتھ اعلیٰ سطح پر اٹھایا جائے گا تاکہ مویشیوں کی بلا رکاوٹ نقل و حرکت یقینی بنائی جا سکے۔
وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر حکومت نے ستیش شرما کو پنجاب بھیجا، جہاں وہ متعلقہ حکام سے پہلے سے دی گئی یقین دہانیوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔آل کشمیر مٹن ڈیلرز یونین کے جنرل سیکریٹری مہراج الدین گنائی نے پنجاب سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ زمینی سطح پر صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔انہوں نے کہا، پنجاب حکومت نے غیر قانونی وصولیاں بند کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی اور محکمہ دیہی ترقی نے احکامات بھی جاری کیے، مگر ان پر عمل درآمد نظر نہیں آ رہا۔گنائی کے مطابق بعض عناصر اب بھی مویشی بردار ٹرکوں کو روک کر فی ٹرک 10 ہزار سے 20 ہزار روپےتک غیر قانونی رقم وصول کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا،ہمارے تمام ٹرک قانونی دستاویزات کے ساتھ صرف پنجاب سے گزر رہے ہوتے ہیں۔ ہم نہ پنجاب سے مویشی خریدتے ہیں اور نہ وہاں فروخت کرتے ہیں، اس کے باوجود ہمارے ٹرانسپورٹرز کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر ستیش شرما پنجاب پہنچ چکے ہیں اور آئندہ روز مزید اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔گنائی نے امید ظاہر کی کہ اس بار حکومت کی مداخلت سے مسئلے کا مستقل حل نکلے گا، کیونکہ ماضی کی یقین دہانیاں عملی اقدامات میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔
تجارتی ذرائع کے مطابق کشمیر میں مٹن کی تقریباً 60یصد ضرورت بیرونی ریاستوں خصوصاً راجستھان، اتر پردیش اور ہریانہ سے آنے والے بھیڑ بکریوں کے ذریعے پوری کی جاتی ہے، جبکہ پنجاب ان مویشیوں کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔تاجروں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا غیر قانونی وصولی سے نہ صرف نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں بلکہ اس کا براہِ راست اثر وادی میں گوشت کی دستیابی اور صارفین کے لیے مٹن کی قیمتوں پر بھی پڑتا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ ہفتوں میں ٹرانسپورٹروں نے شکایت کی تھی کہ قانونی دستاویزات اور تمام ضروری اجازت ناموں کے باوجود ان کے ٹرکوں کو راستے میں روک کر غیر مجاز ٹرانزٹ فیس وصول کی جا رہی ہے، جس سے کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔آل کشمیر مٹن ڈیلرز یونین نے جموں و کشمیر اور پنجاب دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ مویشی بردار گاڑیوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنانے اور غیر قانونی مداخلت روکنے کے لیے مستقل نظام قائم کیا جائے۔یونین کے مطابق، ہم کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کر رہے، صرف یہ چاہتے ہیں کہ قانون پر عمل درآمد ہو تاکہ ہمارے ٹرک بغیر غیر قانونی رکاوٹوں کے اپنی منزل تک پہنچ سکیں، جس کا فائدہ آخرکار کشمیر کے صارفین کو بھی ہوگا۔
پنجاب میں کشمیری گوشت تاجروں پر مبینہ ہراسانی: جموں و کشمیر حکومت متحرک، وزیر ستیش شرما اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے روانہ