پس منظر:دریائی نظام کی تقسیم
دریائے سندھ کا نظام چھ بڑے دریاؤں یعنی سندھ، چناب، جہلم، راوی، بیاس اور ستلجپر مشتمل ہے، جو بھارت اور پاکستان دونوں کے علاقوں سے ہو کر گزرتے ہیں. یہ نظام دریائے سندھ کے طاس میں پینے کا پانی، زراعت اور بجلی کی پیداوار کو برقرار رکھتا ہے اور سرحد کے دونوں جانب کروڑوں لوگوں کی زندگی کا سہارا ہے۔
جب برٹش انڈیا کو 1947 میں تقسیم کیا گیا تو دریائے سندھ کا نظام بھی دونوں جانشین ریاستوں کے درمیان تقسیم ہو گیا. جغرافیائی حقیقت بالکل واضح تھی: بالائی ریاست ہونے کے ناطے بھارت کے پاس بیشتر دریاؤں کے منبع موجود تھے، جبکہ پاکستان کا زرعی مرکزوسیع پیمانے پر سیراب شدہ پنجاب کے میدان مشرق سے آنے والے مسلسل آبی بہاؤ پر شدید منحصر تھا. بھارت کو اپنی طرف سے پنجاب اور راجستھان میں اپنے ترقیاتی مقاصد کے لیے اس آبی نظام تک رسائی مطلوب تھی، ساتھ ہی وہ اپنے نئے مغربی ہمسایہ کے ساتھ استحکام اور معمول کے تعلقات بھی چاہتا تھا. اپنی داخلی ضروریات کے باوجود ورلڈ بینک کی ثالثی میں بھارت نے 19 ستمبر، 1960 کو پاکستان کے ساتھ یہ نہایت رعایتی نوعیت کا آبی تقسیم کا معاہدہ طے کیا۔
گفت و شنید بھارت نے معقولیت کی قیمت ادا کی
پاکستان کی تاخیر کی حکمتِ عملی اور 1954ورلڈ بینک کی تجویز
مذاکرات کی سمت ابتدا ہی سے بھارت کے معقول اور تعمیری مؤقف اور پاکستان کے زیادہ سے زیادہ مطالبات—جو بعض اوقات غیر معقول بھی تھے—کے درمیان عدم توازن سے متعین ہوئی، ایک ایسا عدم توازن جس نے نتائج کو انصاف کے تقاضوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پاکستان کے حق میں کر دیا. ورلڈ بینک کی 5 فروری 1954 کی پہلی بامعنی تجویز اس بات کو واضح کرتی ہے: حتیٰ کہ اس ابتدائی مرحلے پر بھی اس میں بھارت سے نمایاں یک طرفہ رعایتوں کا تقاضا کیا گیا تھا۔
دریائے سندھ اور چناب دونوں کے بالائی علاقوں میں بھارت کے تمام مجوزہ ترقیاتی منصوبے ترک کیے جانے تھے، اور اس کے فوائد بالآخر پاکستان کو حاصل ہونے تھے۔
بھارت کو دریائے چناب سے تقریباً 6 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی موڑنے سے دستبردار ہونا پڑا۔
مرالہ (جو اب پاکستان میں ہے) کے مقام پر دریائے چناب کا پانی بھارت کے استعمال کے لیے دستیاب نہیں ہوگا۔
دریائی نظام سے کَچھ کے علاقے میں کسی بھی قسم کی آبی ترقی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس قسم کی نمایاں پابندیوں کے باوجود بھارت نے اس تجویز کو نیک نیتی کے ساتھ تقریباً فوراً قبول کر لیا، جو ایک جلد حل کی اس کی حقیقی خواہش کی عکاسی کرتا ہے. اس کے برعکس پاکستان نے اپنی باضابطہ منظوری تقریباً پانچ سال یعنی 22دسمبر، 1958تک مؤخر رکھی. بھارت کی اس خیر سگالی کے باوجود پابندیاں اسی پر عائد کی گئیں، جبکہ پاکستان نے مغربی دریاؤں پر بغیر مساوی پابندیوں کے نئے استعمال کی ترقی جاری رکھا. پاکستان نے یہ سبق حاصل کیا کہ رخنہ ڈالنا فائدہ مند ہوتا ہے اور تعاون مہنگا پڑتا ہے اور اس نے اس رویے کو تب سے اب تک مسلسل جاری رکھا ہے۔
بھارتنے کیا کھویا
قربانی کا دائرہ
پانی کی تقسیم
معاہدے کے تقسیمِ آب فارمولے کے تحت، بھارت کو تین مشرقی دریاؤں یعنی ستلج، بیاس اور راوی پر مکمل حقوق حاصل ہوئے، جبکہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں—سندھ، چناب اور جہلم کے پانیوں پر حقوق دیے گئے. بھارت کو اپنے علاقے کے اندر مغربی دریاؤں کے پانی کے کچھ محدود، غیر مصرفی مقاصد کے استعمال کی اجازت دی گئی، یعنی بنیادی طور پر دریا کے بہاؤ پر مبنی پن بجلی تیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے، بشرطیکہ اس پر وسیع ڈیزائن اور آپریشنل پابندیوں پر عمل کیا جائے۔
حجم کے اعتبار سے بھارت کو مختص کردہ مشرقی دریا سالانہ تقریباً 33ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی لے کر آتا ہے، جبکہ پاکستان کو مختص کردہ مغربی دریا تقریباً ملین ایکڑ فٹ 135 MAF پانی لے کر آتا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو اس آبی نظام کے پانی کا تقریباً 80فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے. بھارت کو 20فیصد حصہ ملا، اس کے بدلے میں اس نے کہیں زیادہ بڑے مغربی آبی نظام پر اپنا تمام دعویٰ چھوڑ دیا. اہم نکتہ یہ ہے کہ بھارت کو اس معاہدے سے کوئی نیا پانی حاصل نہیں ہوا. بھارت کو دراصل ان آبی بہاؤ کی باضابطہ منظوری ملی جن تک اسے پہلے ہی رسائی حاصل تھی، اس کے بدلے میں اس نے کہیں زیادہ بڑے مغربی نظام پر اپنا تمام دعویٰ ترک کر دیا. بھارت کو اپنے علاقے میں مغربی دریاؤں کے کچھ غیر مصرفی مقاصد، بنیادی طور پر دریا کے بہاؤ پر مبنی پن بجلی پیداوار کی اجازت دی گئی۔
مالی رعایت
پانی دینے کے لیے ادائیگی
شاید اس معاہدے کی سب سے نمایاں بے ضابطگی اس کی مالی شق ہے. پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں آبی وسائل کے ڈھانچے کی تعمیر کے لئے بھارت نے تقریباً £62 ملین (موجودہ قدر کے لحاظ سے تقریباً $2.5 ارب) بطور معاوضہ پاکستان کو ادا کرنے پر اتفاق کیا. اس ادائیگی نے ایک منفرد نظیر پیش کی، جس میں بالائی ملک، جو پہلے ہی نظام کے زیادہ تر پانی سے دستبردار ہو رہا تھا، نے مزید برآں زیریں ملک کو اس “اعزاز” کے بدلے پیسے بھی دیے۔ درحقیقت بھارت نے اس معاہدے کی قبولیت میں پاکستان کو مالی طور پر سہولت فراہم کی، جو پانی کی تقسیم کے بنیادی سوال پر بڑی حد تک پاکستان کے حق میں تھا۔
معاہدے کی ساختی غیر موزونیت
بھارت پر یک طرفہ اور غیر متوازن پابندیاں
یہ معاہدہ مغربی دریاؤں کے استعمال پر بھارت کے لیے مخصوص ڈیزائن اور سلسلہ وار آپریشنل پابندیاں عائد کرتا ہے، جن کے مقابلے پاکستان پر ایسی کوئی مساوی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی:
بھارت اپنے علاقے میں صرف محدود آبپاشی شدہ کاشتکاری رقبے (آئی سی اے) کو ہی ڈولپ کر سکتا ہے۔
بھارت کو مغربی دریاؤں پر کسی بھی ذخیرۂ آب کی سہولت میں پانی کے ذخیرے کی مقدار پر سخت حدود کا سامنا ہے۔
بھارت کو مغربی دریاؤں پر کسی بھی پن بجلی منصوبے کے لیے مخصوص ڈیزائن معیارات کی پابندی کرنا لازمی ہے، جن میں پانی کے ذخیرے (پنڈیج) اور ذخیرہ کرنے کی گنجائش پر عائد پابندیاں شامل ہیں۔
یہ پابندیاں یک طرفہ نوعیت کی ہیں: یہ بھارت کو اپنے ہی علاقے میں وسائل کے جائز استعمال سے محروم کرتی ہیں، جبکہ پاکستان پر اس کے مساوی شفافیت یا پابندیوں کی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔نتیجتاً یہ ایک ایسے معاہدہ کی شکل اختیار کر جاتا ہے جو بالائی ملک یعنی بھارتکو نگرانی اور پابندیوں کا محتاج قرار دیتا ہے، جبکہ زیریں ملک کو یقینی آبی بہاؤ سے فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
معاہدے کا پاکستان کی طرف سے ہتھیار کے طور پر استعمال
بھارتی ترقی کی منظم رکاوٹ
معاہدے پر دستخط کے بعد سے پاکستان نے اس کے تصفیہ جاتی دفعات کو مستقل طور پر ایک اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے، جس کا مقصد حقیقی تنازعاتی حل کے بجائے ترقیاتی عمل کو مؤخر کرنا اور مؤثر طور پر رکاوٹ ڈالنا رہا ہے. تقریباً ہر اہم پن بجلی منصوبہ جو بھارت نے مغربی دریاؤں پر تجویز کیا ہے—حتیٰ کہ وہ بھی جو معاہدے کی شقوں کے تحت واضح طور پر اجازت یافتہ ہیں—پاکستان کی جانب سے باضابطہ اعتراض، تکنیکی چیلنج، یا ثالثی کے لیے حوالہ کیے جانے کا سامنا کرتا رہا ہے۔
بگلیہار، کشن گنگا، پاکل ڈُل اور تلبل سمیت مختلف پروجیکٹس طویل عرصے تک پاکستانی اعتراضات اور چیلنجز کی زد میں رہے ہیں. کئی مواقع پر پاکستان نے بھارتی پروجیکٹس کے منظم آبی بہاؤ اور حتیٰ کہ سیلابی شدت میں کمی جیسے ممکنہ فوائد کو تسلیم کیا ہے، اس کے باوجود وہ ان منصوبوں کی مخالفت کرتا رہا ہے. یہ طرزِ عمل ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی اعتراضات حقیقی طور پر معاہدے کی پابندی سے متعلق نہیں ہیں؛ بلکہ ان کا مقصد قانونی بنیاد سے قطع نظر جموں و کشمیر میں بھارتی ترقی کو روکنا ہے.
“آبی جنگ” کا بیانیہ اور اس کا استعمال
ساتھ ہی پاکستان نے بھارت کے معاہدے کی مسلسل پابندی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک بین الاقوامی بیانیہ تشکیل دینے اور پھیلانے کی کوشش کی ہے جس میں بھارت کو ممکنہ “آبی جارح” کے طور پر پیش کیا ہے. پاکستانی حکام، ماہرینِ تعلیم اور سفارتی حلقوں نے بارہا بھارت کی جانب سے “پانی کو ہتھیار بنانے” کے خدشے کو اجاگر کیا ہے—اور اس کے لیے اسی معاہدے کا حوالہ دیا ہے جس کی بھارت نے انتہائی احتیاط کے ساتھ پابندی کی ہے۔
یہ بیانیہ—جس میں بالائی ریاست کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے—اور بین الاقوامی طور پر ایسے لوگ خصوصا متاثر ہوتے ہیں جو معاہدہ کی تاریخ سے واقفیت نہیں رکھتے. پاکستان نے اس بیانیے کو سفارتی دباؤ پیدا کرنے، کثیرالجہتی ہمدردی حاصل کرنے، اور بھارت کی اپنے جائز معاہداتی حقوق کے استعمال کی صلاحیت کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
اس حکمتِ عملی کی سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ بھارت نے معاہدے کی ایک بھی خلاف ورزی نہیں کی—نہ 1965 کی جنگ کے دوران، نہ 1971 کی جنگ کے دوران، نہ 1999 کارگل تنازع کے دوران، اور نہ ہی معاہدے کے پینسٹھ سالہ دورانیے کے کسی اور مرحلے پر. بھارت نے اپنی طرف سے ہمیشہ اس معاہدہ پر عمل کیا ہے، حتیٰ کہ اس دوران پاکستان نے مبینہ طور پر اپنی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشتگردانہ سرگرمی کے لئے استعمال کرتا رہا ہے۔
بھارت پر پڑنے والے اثرات
غیر حاصل شدہ ترقیاتی امکانات
معاہدے کی پابندیوں نے بھارت کے دریائے سندھ کے طاس میں ترقی پر واضح اور دیرپا اثرات مرتب کیے ہیں. راجستھان کے وسیع علاقے اور پنجاب کے کچھ حصے جو آبپاشی کے قابل بن سکتے تھے، اب بھی بنجر ہیں یا نسبتاً مہنگے متبادل آبی ذرائع پر انحصار کرتے ہیں. چھ دہائیوں کے دوران ضائع ہونے والی زرعی پیداوار ایک ناقابلِ تخمینہ معاشی نقصان کا بین ثبوت ہے۔
جموں و کشمیر کی پن بجلی کی صلاحیت دبائی گئی
اس کے جموں و کشمیر پر انتہائی شدید اثرات ہوئے ہیں. یہ مرکز کے زیر انتظام علاقہ مغربی دریاؤں کے کنارے واقع ہے اور اس میں پن بجلی کی بے پناہ، زیادہ تر غیر استعمال شدہ صلاحیت موجود ہے. اس صلاحیت کی ترقی ہر مرحلے پر معاہدے کی ڈیزائن سے متعلق پابندیوں، پاکستان کے منظم اعتراضات، اور کثیر سطحی و طویل المدت تنازع حل کرنے کے نظام کے مسلسل خطرے کی وجہ سے محدود رہی ہے۔
مقامی آبادی اس کو تیزی سے اس معاہدے کو مشترکہ فائدے کے فریم ورک کے بجائے اپنی اقتصادی حاشیہ نشینی کا ٹول سمجھنا شروع کر دیا، ایک بیرونی مسلط کردہ بندوبست جو انہیں اپنے ہی علاقے سے گزرنے والے قدرتی وسائل کو ترقی دینے سے روکتا ہے۔
توانائی سلامتی کی پیچیدگیاں
مغربی دریاؤں کی پن بجلی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار نہ لا سکنے کی بھارت کی مجبوری کے باعث براہِ راست اثرات قومی توانائی کی سلامتی پر ہوئے ہیں. معاہدے کی پابندیوں کے باعث یہ ممکنہ صلاحیت—جو ایک صاف، قابلِ تجدید اور معاشی طور پر مؤثر توانائی کا سورس ہے—محض اس لیے قربان ہو رہی ہے کہ اس غیر متوازن معاہدے میں بھارت کو حاصل محدود حقوق کی بھی پاکستان کی اسٹریٹجک رکاوٹ کا سامنا رہا ہے۔
بھارت کا معاملہ
معاہدے کا مقصد “دریائے سندھ کے آبی نظام کا مکمل اور اطمینان بخش استعمال” ایک “خیر سگالی اور دوستی کے جذبے” کے تحت حاصل کرنا تھا—لیکن اب وہ حالات موجود
نہیں ہیں۔معاہدوں کی قانونی حیثیت صرف قانونی قوت سے ہی نہیں بلکہ تمام دستخط کنندگان کی جانب سے ان کی شقوں کے نیک نیتی پر مبنی نفاذ سے بھی حاصل ہوتی ہے. پاکستان بھارت کے خلاف اپنی سرپرستی میں دہشت گردی کو خارجہ پالیسی کے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرتا رہا ہے، اور معصوموں کا خون بہاتا رہا ہے جس میں 2001 کا پارلیمنٹ حملہ، 2008 ممبئی حملے اور حال ہی میں اپریل 2025 میں کیا گیا پہلگام حملہ شامل ہے، جو بنیادی طور پر اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے جس کی بنیاد پر بھارت انڈس واٹرز ٹریٹی کی مسلسل پابندی کر رہا ہے. دوطرفہ معاہدوں کی جزوی طور پر پابندی نہیں کی جا سکتی: کوئی ریاست بین الاقوامی طرزِ عمل کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ساتھ ہی یہ مطالبہ نہیں کر سکتی کہ اس کا مذاکراتی فریق ایسے معاہداتی فرائض پورے کرے جو غیر متناسب طور پر خلاف ورزی کرنے والی ریاست کو فائدہ پہنچاتے ہوں. یہ معاہدہ پاکستانی بداعتمادی کے سمندر میں بھارتی پابندی کی ایک تنہا جزیرہ نہیں بن سکتا. بھارت کا یہ قدم ایک طویل عرصے سے مؤخر شدہ مؤقف کا اظہار ہےکہ بین الاقوامی معاہدے دوطرفہ ہوتے ہیں.
خلاصہ کلام
سندھ طاس معاہدہ کو طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارت کاری کامیابی قرار دیا جاتا رہا ہے. اس مضمون میں اس مؤقف کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس طرح کی تصویر کشی دراصل صحیح صورتحال کو بنیادی طور پر غلط انداز میں پیش کرتی ہے: ایک ایسا مذاکراتی عمل جس میں پاکستانی سخت رویے کو رعایتوں کے ذریعے نوازا گیا، اور بھارتی خیر سگالی کو منظم طور پر استعمال کرتے ہوئے ایک ایسا معاہدہ تشکیل دیا گیا جو شروع ہی سے غیر منصفانہ تھا.
اس کے باوجود بھارت نے 80 فیصد پانی سے دستبرداری اختیار کی، اس دستبرداری کو ممکن بنانے کے لیے 62 ملین ڈالر (موجودہ قیمت کے لحاظ سے تقریباً 2.5 ارب روپے) ادا کیے، اپنے ہی علاقے میں یک طرفہ عملیاتی پابندیاں قبول کیں، اور پاکستان کی جانب سے متعدد جنگوں اور سرحد پار مبینہ دہشت گردی کی سرپرستی کے باوجود پینسٹھ سال تک انتہائی سختی سے معاہدے کی پابندی کی. بدلے میں بھارت کو ایک ایسا معاہدہ ملا جو بظاہر نیک نیتی سے طے پایا تھا، مگر پاکستان اسے ترقیاتی رکاوٹ کے ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے؛ “پانی کی جنگ” کا بیانیہ جسے وہ بین الاقوامی سطح پر بغیر ٹھوس بنیاد کے پیش کرتا ہے؛ اور بھارت کے وسیع علاقوں کی مستقل ترقی میں رکاوٹ کا باعث ہے.
بھارت کا یہ قدم دریائے سندھ کے طاس میں اپنے جائز مفادات کے تحفظ کے لیے ہے. یہ جارحیت نہیں ہے؛ بلکہ ایسے غیر متوازن بندوبست کی تاخیر سے کی گئی اصلاح ہے جس کی بنیاد ایسی خیر سگالی پر رکھی گئی تھی جس کا بدلہ کبھی نہیں دیا گیا. جن لوگوں کا یہ سوال ہے کہ معاہدے کو اب معطل کیوں کیا جائے، ان لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صحیح فیصلے لینے کا کوئی وقت غلط نہیں ہوتا.
(مضمون نگار سندھ طاس کمیشن کے سابق سربراہ ہیں)