عظمیٰ ویب ڈیسک
“`پلوامہ/جنوبی ضلع پلوامہ کے ترال “`علاقے کے میڈورہ گاؤں میں بدھ کے روز فرقہ وارانہ ہم آہنگی، بھائی چارے اور باہمی احترام کی ایک خوبصورت مثال دیکھنے کو ملی، جہاں سینکڑوں مسلمانوں اور سکھوں نے ایک معمر کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کی۔
مرحومہ اپنے آبائی گھر میڈورہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کا خاندان اُن چند کشمیری پنڈت خاندانوں میں شامل ہے جو 1990 کی دہائی کے پُرآشوب حالات اور عسکریت پسندی کے دور کے باوجود وادی چھوڑ کر نقل مکانی نہیں کر گئے تھے بلکہ اپنے گاؤں میں ہی مقیم رہے۔
مرحومہ کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورے گاؤں میں غم کی فضا چھا گئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق خاتون کو تمام برادریوں کے افراد عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور وہ گاؤں میں نہایت معزز شخصیت کی حیثیت رکھتی تھیں۔
علاقے کے مسلمانوں اور سکھوں سمیت قریبی دیہات کے لوگوں نے سوگوار خاندان کے گھر پہنچ کر تعزیت کا اظہار کیا اور غم کی اس گھڑی میں اُن کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔
سینکڑوں مقامی باشندوں نے جنازے اور آخری رسومات میں شرکت کی، جبکہ گاؤں والوں نے شمشان گھاٹ کیلئے لکڑی اور دیگر ضروری سامان کا بھی انتظام کیا۔
مقامی باشندوں نے کہا کہ یہ منظر کشمیر کی صدیوں پرانی روایات، مذہبی رواداری، باہمی احترام اور بھائی چارے کی زندہ مثال ہے، جو تمام تر مشکلات کے باوجود آج بھی قائم ہے۔
ترال کے میڈورہ گاؤں میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال، سینکڑوں مسلمانوں اور سکھوں نے کشمیری پنڈت خاتون کی آخری رسومات میں شرکت کی