ڈھلواس میں کشادگی کے کام کی وجہ سے قومی شاہراہ پر آمدورفت متاثر

محمد تسکین

سرینگر// وادی کشمیر کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی جموں–سرینگر قومی شاہراہ پر ہفتہ کے روز اگر دو طرفہ ٹریفک کی نقل و حمل جاری ہے تاہم ڈھلواس میں کیچڑ اور یکطرفہ سڑک ہونے کی وجہ سے ٹریفک سست ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ڈھلواس کے مقام کیچڑ اور ملبہ پر مشتمل پسی میں ٹریفک کو رواں رکھنے کیلئے کشادگی کا کام شروع کیا گیا ہے اور دونوں طرف کے جاری ٹریفک کو کچھ وقت کیلئے روک دیا گیا ہے۔
ڈھلواس سمیت شاہراہ کے کئی مقامات پر شاہراہ یکطرفہ ٹریفک کے ہی قابل ہے اور ٹریفک کو ایک ایک کرکے نکالا جاتا ہے جس کی وجہ سے ٹریفک آمدورفت سست ہوتی ہے۔
ٹریفک پولیس حکام نے بتایا کہ ڈھلواس کی پسی میں سڑک پر ملبہ گر آیا ہے جس کی وجہ سے وہاں سڑک مزید تنگ ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائے وے اتھارٹی نے ملبہ اٹھانے اور سڑک کی کشادگی کیلئے تعمیراتی کمپنی کی مشینری کو کام پر لگایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں طرف کے ٹریفک کو روک دیا گیا ہے اور جلد ہی یہاں ٹریفک بحال کیا جائیگا۔
اس دوران ناشری سے رامسو کے سیکٹر میں شاہراہ کے چند ایک مقامات پر صبح سے ہی ٹریفک جام ہے اور گاڑیاں سست رفتار سے آگے بڑھ رہی ہیں۔
ادھر، ٹریفک حکام نے کشمیر جانے والی گاڑیوں کو 2 بجے دو پہر تک نگروٹہ کو عبور کرنا ہوگا جبکہ جموں جانے والی گاڑیوں کو 3 بجے دوپہر تک قاضی گنڈ کو عبور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مقررہ شیڈیل کے بعد قومی شاہراہ پر کسی بھی گاڑی کو دونوں طرف سے چلنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
دریں اثنا جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیاں کو صوبہ جموں کے پونچھ اور راجوری اضلاع کے ساتھ جوڑنے والے تاریخی مغل روڈ اور سری نگر – لیہہ شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل مسلسل بند ہے جبکہ سنتھن – کشتواڑ روڈ بھی ہنوز بند ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سری نگر – جموں قومی شاہراہ کے بند ہونے سے اہلیان وادی کو گونا گوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ قومی شاہراہ کے بند ہوتے ہی جہاں وادی کے بازاروں میں اشیائے خوردنی کی قلت پیدا ہوجاتی ہے وہیں گراں بازار بھی آسمان چھونے لگتی ہے۔