عظمیٰ ویب ڈیسک
کشتواڑ/کشتواڑ ضلع کے گھنے جنگلات میں سیکورٹی فورسز نے ایک اہم آپریشن کے دوران ایک ملی ٹینٹ کو بے اثر کرنے کے بعد پورے خطے میں بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کر دی ہے۔ یہ آپریشن گزشتہ شب اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فورسز کو مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات موصول ہوئیں کہ علاقے میں مزید دہشت گرد ممکنہ طور پر چھپے ہوئے ہیں۔ابتدائی جھڑپ میں ایک مشتبہ ملی ٹینٹ کی ہلاکت کے بعد آپریشن کو فوری طور پر وسعت دی گئی اور پوری تحصیل کو سخت حفاظتی حصار میں لے لیا گیا۔ مقامی پولیس اور فوج کے مشترکہ دستوں نے بتایا کہ ملی ٹینٹ کی ہلاکت کے بعد یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کے مزید ساتھی نواحی جنگلات، درّوں اور دشوار گزار پہاڑی راستوں میں پناہ لیے ہوئے ہو سکتے ہیں۔ اسی تناظر میں سیکورٹی فورسز نے علاقے کی مکمل ناکہ بندی کرتے ہوئے گھر گھر تلاشی کے ساتھ ساتھ جنگلاتی پٹی میں خصوصی سرچ ٹیمیں بھی روانہ کی ہیں۔ فورسز کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس وقت تک جاری رہے گی جب تک پورے علاقے کو کلیئر نہ کر لیا جائے۔
ذرائع کے مطابق تلاشی آپریشن کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ فضائی نگرانی کے لیے فوجی ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال بڑھا دیا گیا ہے تاکہ زمینی دستوں کو مشتبہ نقل و حرکت کا بروقت پتہ چل سکے۔ ڈرونز سے حاصل ہونے والی ویڈیوز میں پہاڑی ڈھلوانوں، گھنے جنگلات اور دُور دراز وادیوں کے کئی علاقوں میں مشکوک سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، جس کی بنیاد پر متعدد مقامات پر فورسز نے فوری طور پر کمانڈوز تعینات کیے۔
اسی دوران ہیلی کاپٹرز مسلسل پروازیں کرتے ہوئے سرچ ٹیموں کو فضائی کور فراہم کر رہے ہیں اور نگرانی کے دائرے کو مزید وسیع کر رہے ہیں۔ علاقے کے رہائشیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ فورسز کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی مشکوک شخص یا سرگرمی کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو فراہم کریں۔ انتظامیہ نے مقامی لوگوں سے کہا ہے کہ وہ چند دن تک غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کریں کیونکہ آپریشن فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
حکام نے یقین دلایا ہے کہ شہریوں کی حفاظت ان کی اولین ترجیح ہے اور کسی بھی صورت عام آبادی کو متاثر ہونے نہیں دیا جائے گا۔ سیکورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی جھڑپ میں ہلاک ہوا دہشت گرد کسی سرگرم گروہ سے وابستہ تھا اور اس کی شناخت اور تعلقات کے بارے میں مزید تفصیلات تفتیش کے بعد سامنے آئیں گی۔ اہلکاروں نے بتایا کہ اس کے قبضے سے اسلحہ اور قابلِ اعتراض مواد بھی برآمد ہوا ہے، جسے فارنزک جانچ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی خطے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورک کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ فورسز کا کہنا ہے کہ آپریشن کئی گھنٹوں یا ممکنہ طور پر کئی دنوں تک جاری رہ سکتا ہے، کیونکہ دشوار گزار علاقوں میں ملی ٹینٹوں کی تلاش نہ صرف پیچیدہ بلکہ وقت طلب بھی ہے۔ تاہم اہلکار پُرعزم ہیں کہ پورے علاقے کو محفوظ بنانے تک کارروائی جاری رہے گی۔ ادھر دفاعی حکام نے کہا ہے کہ دِچیر اور اس سے ملحقہ علاقوں میں امن و امان کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی فورسز بھی الرٹ پر ہیں۔
کشتواڑ کے جنگلات میں وسیع سرچ آپریشن جاری، ڈرون اور ہیلی کاپٹرز سے فضائی نگرانی