عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/معروف سماجی و سیاسی مفکر، جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فرنٹ (JKDF) کے بانی اور نامور ادیب و مورخ پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند پنڈت بھوشن بزاز پیر کے روز طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 91 برس تھی۔پنڈت بھوشن بزاز کو کشمیریت، بھائی چارے اور ہم آہنگی کے مضبوط اور اصولی کشمیری پنڈت ترجمان کے طور پر وسیع پیمانے پر احترام حاصل تھا۔ وہ اپنی پوری زندگی امن، مفاہمت اور مکالمے کے لیے ثابت قدم رہے اور جموں و کشمیر کی مختلف برادریوں کے درمیان ہم آہنگی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے سرگرم رہے۔
جے کے ڈی ایف کے بانی کی حیثیت سے انہوں نے ایک ایسے سیاسی وژن کی نمائندگی کی جو جمہوری اقدار، عدم تشدد اور شمولیتی مکالمے پر مبنی تھا۔ وہ سماج، شناخت اور بقائے باہمی سے متعلق پیچیدہ مسائل پر اپنی سنجیدہ اور متوازن رائے کے لیے جانے جاتے تھے۔ان کے انتقال کو خطے کے سماجی اور فکری منظرنامے میں ایک عہد کے خاتمے اور ناقابلِ تلافی نقصان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔مرحوم اپنے پسماندگان میں اہلیہ اور ایک بیٹا چھوڑ گئے ہیں۔
میرواعظ عمر فاروق نے پنڈت بھوشن بزاز کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔سماجی رابطہ گاہ ایکس پر اپنے بیان میں میرواعظ نے کہا کہ وہ پنڈت بھوشن بزاز کے انتقال سے ’’انتہائی دل گرفتہ‘‘ ہیں اور یاد دلایا کہ وہ عظیم شخصیت پنڈت پریم ناتھ بزاز کے فرزند تھے۔میرواعظ نے مرحوم کو اپنے والدِ مرحوم کا قریبی دوست قرار دیتے ہوئے لکھا:’’بھوشن انکل میری زندگی میں باپ جیسی شخصیت تھے۔انہوں نے مرحوم کو ’’کشمیری اخلاقیات کا سچا علمبردار‘‘قرار دیا اور کہا کہ ان کی ’مخلص محبت، خلوص اور شفقت ہمیشہ یاد رہے گی۔‘‘انہوں نے اس نقصان کو ذاتی قرار دیتے ہوئے کہا:ان کا انتقال میرے اور میرے خاندان کے لیے ایک بڑا ذاتی نقصان ہے۔میرواعظ نے مرحوم کے بیٹے کلہن اور بزاز خاندان سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ادھر کئی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے بھی اس ممتاز کشمیری پنڈت مفکر کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
نامور مفکر اور سیاسی آواز پنڈت بھوشن بزاز کا91برس کی عمر میں انتقال ، معتدد سیاسی ،سماجی اور مذہبی شخصیات کا اظہارِ تعزیت