اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)// اسلام آباد ہائی کورٹ نے توشہ خانہ کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سنا دیا۔دورکنی بنچ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطل کردی، عدالت نے چیئرمین پی ٹی آئی کو رہا کرنے کا حکم دیدیا، عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کی۔
پاکستان کے نامور میڈیا ادارہ ڈیلی پاکستان آن لائن کے مطابق، اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست منظورکرلی۔
گزشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی کی سزا معطلی کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل بینچ کے روبرو سماعت ہوئی۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل لطیف کھوسہ اور الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے،لطیف کھوسہ نے کہا کہ ملاقات والی درخواست پر آرڈر کردیں اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ امید ہے آج ویسے ہی سزا معطلی کی درخواست طے ہوجائے گی،الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ کیس میں پبلک پراسیکیوٹر کو بھی نوٹس کیا جانا ضروری ہے۔
اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شکایت تو الیکشن کمیشن نے فائل کی تھی ریاست نے نہیں، ٹرائل کورٹ میں آپ نے یہ بات نہیں کی آج آپ پہلی بار یہ بات کہہ رہے،الیکشن کمیشن کے وکیل نے بھارتی سیاست دان راہول گاندھی کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت میں راہول گاندھی کیس میں پرائیویٹ کمپلینٹ کیس میں دو سال کی قید تھی، راہول گاندھی نے سزا معطلی کی درخواست دائر کی جو خارج کر دی گئی، عدالت نے فیصلہ دیا کہ سزا معطل کرنا کوئی ہارڈ اینڈ فاسٹ رول نہیں ہے،امجد پرویز نے دلائل میں کہا کہ ضابطہ فوج داری میں سزا معطلی کی درخواست میں شکایت کنندہ کو فریق بنانے کا ذکر نہیں،
استدعا ہے کہ عدالت درخواست میں ریاست کو نوٹس جاری کرے، ریاست کو نوٹس جاری کیے بغیر اور موقف سنے بغیر سماعت آگے نہ بڑھائی جائے، راہول گاندھی کیس میں فیصلہ ہوا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو سننا ہے یا نہیں،دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل کی جانب سے ظہور الہی کیس کا بھی حوالہ دیا گیا، امجد پرویز نے کہا کہ میں ابھی ان کی سزا معطلی کی درخواست کی مخالفت کر ہی نہیں رہا میں تو ابھی صرف یہ کہہ رہا ہوں کہ اس طرف جانے سے پہلے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس کیا جانا لازمی ہے،انہوں نے کہا کہ ہمارے ہاں کم از کم سزا ایک سال جبکہ بھارت میں کم سے کم سزا تین سال ہے، سزاں کے حوالے سے ہمارے اور بھارت کے قوانین میں بہت فرق ہے،دوران سماعت الیکشن کمیشن کے وکیل امجد پرویز نے مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے دیے اور عدالت سے پبلک پراسیکیوٹر کو نوٹس جاری کرنے کی استدعا کردی۔
جاری۔۔۔۔۔
توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی سزا معطل، فوری طور پر رہا کیا جائے: اسلام آباد ہائی کورٹ