مہربانی جب تلک چلتی ہے چل زندگانی جب تلک چلتی ہے چل…
پاس رکھتا ہے جو عزیمت کو دور رکھتا ہے وہ مصیبت کو…
چھوڑ آتا ہے راستہ کس کو ساتھ دیتا ہے فاصلہ کس کو…
اک طلب دل کو تری شام وسحر ہے آج بھی دھونڈتی بس…
وقت گزرا ہے بہت لمحۂ تاخیر میں مل آج تو میرے ہراک…
جو تتلیاں کبھی کرتی ہیں انتخاب غلط پرایک ڈال پہ کِھلتا ہے…
بہانہ ساز نہ اب کے کوئی بہانہ کر خدا کا نام لے…
بوجھ غربت کا اُٹھاتے ہوئے مر جاتے ہیں یعنی مزدور کماتے ہوئے…
صحرا میں تجھے جانِ جگر دیکھ رہا ہوں جیسے کوئی پھولوں کا…
ہم بھی تو عشق زاد ہیں ضد پر جو آئیں ہم ’’…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me