میں نے جو زباں کھول دی تو اُس نے کہا چُپ صدیوں…
اس کی رنگت شراب جیسی ہے اور خوشبو گلاب جیسی ہے …
خاموش زمزمے ہیں ، مرا حرف ِ زار چپ ہر اختیار چپ…
ڈاکٹر شمس کمال انجم کوئی غم یا عذاب سا کچھ ہے دل…
دشِت امکاں میں آرہے ہیں لوگ کیسی دُنیا بسا رہے ہیں لوگ…
ہے جاری یہاں خون کی لالہ کاری ہیں معصو م ہر…
مہنگائی پہ رو رو کے میں کمزور ہوا ہوں پہلے تھا میں…
اک نئی تصویر ہونے والی تھی خواب کی تعبیر ہونےوالی تھی…
جینے میں اب مزا کیا ہے ؟ خاک میں باقی رہا کیا…
وصیت درد کی تحریر کرنے جا رہا ہوں تمہارے نام سب جاگیر…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me