گلوں سے شاخ ِصبا بغل گیر ہوگئی تھی کلی کلی کی زبان…
کیوں جابجا مرتا ہے کشمیری؟ پھر اے خدا آہ و…
بہت دیکھا ہے آئینہ بدل کے وہی ملتا رہا چہرہ بدل کے …
عمارت گر چْکی لیکن ابھی آثار باقی ہیں گئی گزرْی محبت کے…
طرحی غزل یہ تو سوچا ہی نہ تھا ایسا بھی منظر ہوگا…
نگاہ بھر کے وہ اکثر نہارتا ہے مجھے یہ کون شیشے میں…
چاردِن کی یہ زندگانی ہے اس کی جوچیزبھی ہے فانی ہے ہرکسی…
میں خوشبوؤں میں بکھرتی رہی اْسی کے لئے اور آئینے میں سنورتی…
کسی کا رنج نَے شکوہ گلہ ہے میں خوش ہوں جو ملا…
ذہن روشن نہ تھے دل کُشادہ نہ تھا بندکمروں میں گھر کے…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me