سودا مری نگاہ کا ہر چند ہوگیا پھر بھی نہ خواب میرا…
پھر کون چلا آیا مرے حرفِ یقیں تک مضمون جو پہنچا تھا…
ثابت ہے مرا حوصلہ مغلوب نہیں ہوں ہے جُرم صعیفی، تو میں…
ہر سفر میں سفر تلاش کیا ہم نے کب اپنا گھر…
سرگرداں میں ہوا جو تلاشِ کتاب میں ابواب علم وا ہوئے آ…
کچھ لمحے ایسے آتے ہیں خود سے بھی ہم ڈر جاتے ہیں…
شعور مر گیا جذبوں میں تازگی نہ رہی حیات لٹ گئی جب…
بیوی میکے جا رہی ہے آج شب کھانے کے بعد بی پڑوسن…
اس لئے ہے زباں پر نام اُس کا ذکر ہوتا ہے صبح…
Copy Not Allowed
Sign in to your account
Remember me