عظمیٰ ویب ڈیسک
سری نگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنے 27ویں یومِ تاسیس کے موقع پر ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کی بحالی کے عزم کا اعادہ کیا ہے اور 5 اگست کو پورے مرکزی زیر انتظام علاقے میں پُرامن احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا ہے۔پارٹی کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد میں بانی پی ڈی پی مفتی محمد سعید کے وژن اور ان کے اصولوں ’’وقار کے ساتھ امن‘‘، مذاکرات، مفاہمت اور جامع طرزِ حکمرانی سے وابستگی کو دہرایا گیا۔قرارداد میں کہا گیا ہے کہ پی ڈی پی آرٹیکل 370، آرٹیکل 35A اور جموں و کشمیر کی منفرد شناخت اور خودمختاری سے متعلق آئینی ضمانتوں کی بحالی کے لیے اپنے آئینی اور جمہوری جدوجہد کو جاری رکھے گی۔
پارٹی نے سیاسی قیدیوں اور زیرِ حراست افراد کی فوری رہائی، انسدادی حراست سے متعلق قوانین کے مبینہ غلط استعمال کے خاتمے اور جموں و کشمیر کے عوام کے جمہوری حقوق اور امنگوں کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا۔پی ڈی پی نے اعلان کیا کہ 5 اگست کو ضلع سطح اور مرکزی زیر انتظام علاقے کی سطح پر پُرامن احتجاجی مظاہرے منعقد کیے جائیں گے تاکہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت کی بحالی، جمہوری اقدار اور وفاقی اصولوں کے حق میں آواز بلند کی جا سکے۔
قرارداد میں دیگر مطالبات کے علاوہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے آرپار تجارت اور سفری روابط کی بحالی، ان شہری علاقوں سے مرحلہ وار سکیورٹی فورسز کی واپسی جہاں عسکریت پسندی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور پیر پنجال و چناب ویلی کے لیے الگ ڈویژنل انتظامی اکائیاں قائم کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔پارٹی نے جموں و کشمیر کے قدرتی وسائل میں منصفانہ حصہ دینے، کم از کم دو بڑے پن بجلی منصوبوں کی منتقلی یا اس کے مساوی مناسب معاوضہ فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
قرارداد میں ایک لاکھ سے زائد سرکاری آسامیوں پر شفاف، میرٹ پر مبنی اور وقت مقررہ کے اندر بھرتی کا عمل مکمل کرنے، خواتین کی سیاسی نمائندگی میں اضافے کا خیرمقدم کرنے اور کشمیری پنڈتوں سمیت تمام بے گھر برادریوں کی محفوظ اور باوقار واپسی کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔پی ڈی پی نے ایران میں تنازع سے متاثرہ شہریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی بھی کیا اور اپنے تمام سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پُرامن اور جمہوری ذرائع اختیار کرنے کے عزم کو دہرایا۔
پی ڈی پی کا 5 اگست کو احتجاج کا اعلان، دفعہ 370 کی بحالی کے مطالبے کا اعادہ