عظمیٰ نیوزسروس
جموں // سرحدی علاقوں میں ڈرون کی بڑھتی سرگرمیوں کے بیچ سانبہ اور کٹھوعہ میں بین الاقوامی سرحد کے قریب مشتبہ پاکستانی ڈرون سرگرمی کے بعد سیکورٹی فورسز نے وسیع پیمانے پر تلاشی مہم شروع کر دی ہے۔ حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔ذرائع کے مطابق جمعہ کی دیر رات سانبہ ضلع کے وجے پور سیکٹر کے سرحدی گائوں تارور کے اوپر فوجی اہلکاروں نے ایک مشتبہ فضائی شے کو دیکھا، جسے پاکستانی ڈرون ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا۔ ڈرون کی موجودگی کا پتہ چلتے ہی فوج نے فوری طور پر انسدادا ڈرون نظام فعال کر دیا، جس کے بعد ابتدائی اطلاعات کے مطابق مشتبہ ڈرون واپس بین الاقوامی سرحد پار پاکستان کی جانب چلا گیا۔اسی دوران جمعہ کی شام کٹھوعہ ضلع کے ہیرانگر سیکٹر کے چک نلوا گائوں کے اوپر بھی ایک مشتبہ ڈرون کچھ دیر تک منڈلاتا ہوا دیکھا گیا۔ اطلاع ملتے ہی فوج، بارڈر سیکورٹی فورس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر مشترکہ تلاشی مہم شروع کر دی۔حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مقامات پر یہ جانچنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آیا ڈرون کی جانب سے کوئی مشتبہ سامان، ہتھیار، دھماکہ خیز مواد یا دیگر اشیاءگرائی گئی ہیں یا نہیں۔ اس مقصد کیلئے جدید آلات اور تربیت یافتہ اہلکاروں کی مدد سے علاقے کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے۔آخری اطلاعات موصول ہونے تک سانبہ اور کٹھوعہ کے سرحدی علاقوں میں سرچ آپریشن جاری تھا اور کسی قابل ذکر برآمدگی کی اطلاع نہیں ملی تھی۔ تاہم سیکورٹی ادارے ہر پہلو سے تحقیقات کر رہے ہیں اور سرحدی دیہات میں نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔حکام کے مطابق حالیہ عرصے میں بین الاقوامی سرحد کے مختلف حصوں میں مشتبہ ڈرون سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس کے پیش نظر سرحدی نگرانی، فضائی مشاہدہ اورانسداد ڈرون صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی دراندازی، سمگلنگ یا تخریبی کوشش کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔