ڈاکٹر رتن بھٹاچارجی
ڈاکٹر رفیق مسعودی کی فلاحی فکر کی ایک نمایاں خصوصیت انسانی وقار سے اس کی گہری وابستگی ہے۔ وہ نمائشی خیرات کے بجائے ایسے تعاون پر یقین رکھتے ہیں جو افراد کو خودمختار اور بااختیار بنائے۔ خواہ وہ طلبہ کی مدد ہو، نوآموز ادیبوں کی حوصلہ افزائی یا سماجی سرگرمیوں میں شرکت، ان کا انداز ہمیشہ فرد کی خودمختاری اور عزتِ نفس کے احترام پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ مدد پانے والوں کو محض محتاج یا خاموش وصول کنندہ نہیں سمجھتے بلکہ انہیں اپنی ترقی کے فعال شریک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہی اخلاقی زاویہ ان کی خدمات کو روایتی فلاحی تصورات سے ممتاز بناتا ہے۔ان کے فلاحی فلسفے میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کو بھی مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے نزدیک کسی معاشرے کی بقا صرف معاشی ترقی سے ممکن نہیں بلکہ زبان، اجتماعی یادداشت اور ثقافتی اظہار کی حفاظت بھی اتنی ہی ضروری ہے۔ اسی لیے وہ ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کی سرپرستی کو وسیع تر سماجی ذمہ داری کا حصہ سمجھتے ہیں۔ مقامی بیانیوں اور داستان گوئی کی روایت کو فروغ دے کر وہ اس امر کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ثقافتی شناختیں جدید دور کے دباو کے باوجود زندہ اور ارتقا پذیر رہیں۔کشمیر کے تناظر میں ان کی فلاحی خدمات مزید معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ اس خطے کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی حالات نے تعلیم اور نوجوانوں کی نشوونما دونوں کے لیے جذباتی اور ساختیاتی رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ اس صورتِ حال کے جواب میں مسعودی کا رویہ محض جذباتی یا خطیبانہ نہیں بلکہ تعمیری رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ایسی تعلیم پر زور دیا ہے جو امن، استحکام، وقار اور اجتماعی شفا کی بنیاد بن سکے۔
تعلیمی رسائی کے پروگراموں اور غیر رسمی تعلیمی سرگرمیوں میں ان کی شرکت اس عزم کی غماز ہے کہ اداروں اور معاشرے کے درمیان اعتماد کو دوبارہ مضبوط کیا جائے۔ ان کی فلاحی خدمات کا ایک اور اہم پہلو ادبی ماحول کی تعمیر ہے۔ روایتی خیرات جہاں صرف مادی امداد تک محدود رہتی ہے، وہاں مسعودی علمی اور ثقافتی سرمایہ کاری کو زیادہ پائیدار سمجھتے ہیں۔وہ ادبی نشستوں، مطالعہ حلقوں اور تخلیقی ورکشاپس کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جہاں طلبہ اور نئے لکھنے والے بامعنی انداز میں ادب سے رشتہ استوار کر سکیں۔ ایسے ماحول خصوصاً ان علاقوں میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں جہاں ادبی ڈھانچہ محدود ہو۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے وہ مطالعے، تحریر اور تنقیدی فکر کی ایک زندہ روایت کو فروغ دیتے ہیں۔بچوں کے ساتھ ان کا کام بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے نزدیک بچپن محض عمر کا ایک مرحلہ نہیں بلکہ اخلاقی تشکیل کا بنیادی زمانہ ہے۔ اسی لیے وہ کہانی گوئی، تخلیقی تحریر کی حوصلہ افزائی اور اقدار پر مبنی گفتگو کے ذریعے بچوں سے مسلسل رابطہ رکھتے ہیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ تخیل، ہمدردی اور تجسس جیسی انسانی خصوصیات کو پروان چڑھانا ہے۔ اس طرح وہ جذباتی اور فکری طور پر باشعور شہریوں کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
تنازع سے متاثرہ علاقوں میں ان کی فلاحی سرگرمیاں مکالمے اور مفاہمت کے اصولوں کی آئینہ دار بھی ہیں۔ سماجی کشیدگی سے متاثر معاشرے میں وہ ہمیشہ تقسیم کے بجائے رابطے کی اہمیت پر زور دیتے رہے ہیں۔ نوجوانوں سے ان کی گفتگو اکثر امن، بقائے باہمی اور باہمی احترام جیسے موضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ تصورات ان کے لیے محض نظریاتی نعرے نہیں بلکہ سماجی تعلقات کے عملی اصول ہیں۔کھلے مکالمے کی حوصلہ افزائی کرکے وہ ایسے مواقع پیدا کرتے ہیں جہاں اختلافات دشمنی کے بغیر بھی بیان کیے جا سکیں۔ اسی عمل کے ذریعے وہ باہمی اعتماد کی فضا قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ان کی فلاحی فکر کا ایک اہم رشتہ ماحولیاتی شعور سے بھی قائم ہے۔ اپنی تحریروں اور گفتگو میں وہ بارہا انسانی فلاح اور ماحولیاتی توازن کے باہمی تعلق کو اجاگر کرتے ہیں۔ یہی احساس نوجوان نسل میں ماحول کے تئیں ذمہ داری پیدا کرنے کی ترغیب دیتا ہے۔ وہ فطرت کی حفاظت کو انسانی خدمت ہی کا ایک تسلسل قرار دیتے ہیں اور اس تصور کو اپنی ادبی اور سماجی زندگی دونوں میں نمایاں رکھتے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ مسعودی کی فلاحی سرگرمیاں ان کی ادبی شخصیت سے جدا نہیں بلکہ اسی کا عملی اظہار ہیں۔ ان کی تمام تر تخلیقات ہمدردی کی تعلیم دیتے ہیں اور ان کی عملی زندگی اسی ہمدردی کو حقیقت کا روپ دیتی ہے۔ فکر اور عمل کا یہی امتزاج ان کی ادبی آواز کو غیر معمولی اعتبار عطا کرتا ہے۔ قاری کو ان کی تحریروں میں صرف خیالات نہیں بلکہ ایسے اخلاقی عہد بھی دکھائی دیتے ہیں جو ان کی عوامی زندگی میں پوری دیانت داری سے نبھائے گئے ہیں۔تنقیدی اعتبار سے دیکھا جائے تو ان کا فلاحی نمونہ’’ثقافتی انسان دوست وابستگی‘‘ کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ کسی بڑی ادارہ جاتی ساخت یا رسمی غیر سرکاری تنظیموں پر انحصار کرنے کے بجائے مسلسل شخصی روابط، اعتماد سازی اور معاشرتی موجودگی پر قائم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگرچہ ان کی خدمات سرکاری ریکارڈ میں ہمیشہ نمایاں نظر آئیں ضرور مگر ان کے سر نہیں چڑھیں، مقامی سطح پر ان کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ثابت ہوئے ہیں،ہو رہے ہیں اور آگے بھی ہونگے،ایسی توقع کی جا سکتی ہے۔
ڈاکٹر رفیق مسعودی کی تخلیقات کا تنقیدی جائزہ اس امر کو بھی آشکار کرتا ہے کہ ان کے ادب میں یادداشت اور شناخت بنیادی فکری عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے ہاں یادداشت محض ماضی کی بازیافت نہیں بلکہ معنی کی ازسرِ نو تشکیل کا ایک متحرک عمل ہے۔ وہ بارہا اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ افراد اور معاشرے صدموں، خوشیوں اور تبدیلی کے تجربات کو کس طرح یاد رکھتے ہیں۔ یہی وابستگی ان کے ادب کو ایک تہذیبی دستاویز میں بدل دیتی ہے، جو ایسے انسانی تجربات کو محفوظ رکھتی ہے جو بصورتِ دیگر سیاسی یا تاریخی سادہ کاری کی نذر ہو سکتے تھے۔اسی کے ساتھ وہ یادداشت پر سوال بھی اٹھاتے ہیں، اس کی حدود اور شناخت کی تشکیل میں اس کے کردار کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔ہندوستانی انگریزی اور کثیر لسانی ادبی روایت میں بھی ان کی خدمات قابلِ ذکر ہیں۔ اگرچہ ان کی تخلیقات کشمیری تہذیبی احساس سے گہرا رشتہ رکھتی ہیں تاہم وہ ہندوستانی ادب کے وسیع تر مکالمے میں بھی بھرپور شرکت کرتی ہیں۔ یہی امتزاج انہیں ایک ایسے ادیب کے طور پر پیش کرتا ہے جو ثابت کرتے ہیں کہ علاقائی شناخت اور قومی وابستگی ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک دوسرے کو تقویت دینے والے عناصر ہیں۔ان کا ادبی عمل ثقافتی ہم آہنگی کی ایک مثال بن جاتا ہے، جہاں مقامی تجربہ اپنی صداقت کھوئے بغیر آفاقی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔
ساہتیہ اکادمی کی جانب سے انہیں ملنے والا اعزاز بھی محض ادبی مہارت کا اعتراف نہیں بلکہ ان کے اخلاقی وڑن کی توثیق ہے۔ ان کی تحریریں اس تصور کو مجسم کرتی ہیں کہ ادب معاشرے میں ایک اخلاقی قوت بن سکتا ہے۔ ان کے بیانیے مایوسی اور بدگمانی کو فروغ نہیں دیتے بلکہ ہمدردی، مکالمے اور تجدیدِ امید کے امکانات پر یقین رکھتے ہیں۔آج کے اس عالمی ماحول میں، جہاں نظریاتی تقسیم اور فکری انتشار بڑھتا جا رہا ہے، اس نوعیت کا ادبی رویہ غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ڈاکٹر رفیق مسعودی کی سب سے بڑی ادبی کامیابی شاید یہی ہے کہ وہ مختلف اصناف اور مختلف قارئین کیلئے لکھتے ہوئے بھی اپنے انسان دوست تصور کو مسلسل برقرار رکھتے ہیں۔ خواہ شاعری ہو، مضامین ہوں یا نوجوان زہنون کی ترویج، ان کی تحریریں بار بار اسی بنیادی حقیقت کی طرف لوٹتی ہیں کہ ادب کو انسانی زندگی کی خدمت کرنی چاہیے۔ان کی تخلیقات محض حقیقت کی عکاسی نہیں کرتیں بلکہ اسے بہتر بنانے کی خواہش بھی رکھتی ہیں۔ یہی اخلاقی سمت، اسلوب کی شفافیت اور موضوعات کی فکری گہرائی انہیں جدید ہندوستانی ادب کی ایک اہم آواز بناتی ہے۔اسی لیے اعزازات صرف ان کی ذاتی کامیابی کی علامت نہیں بلکہ اس ادبی فلسفے کی توثیق بھی ہے جو ہمدردی، تعلیم اور ثقافتی وحدت پر استوار ہے۔ڈاکٹر رفیق مسعودی کو پڑھتے ہوئے قاری صرف ایک ادیب سے نہیں بلکہ ایک ایسے مفکر سے روبرو ہوتا ہے جو اس یقین پر قائم ہے کہ الفاظ ٹوٹے ہوئے معاشروں میں اعتماد کو دوبارہ تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان کا پورا ادبی سرمایہ اس حقیقت کی یاد دہانی کراتا ہے کہ جب ادب کی رہنمائی ضمیر اور اخلاقی شعور کریں تو وہ انسانی تبدیلی کا سب سے طاقتور ذریعہ بن جاتا ہےاور یہی پائیدار میراث ڈاکٹر رفیق مسعودی کو معاصر ہندوستانی ادب کی ایک نمایاں اور باوقار شخصیت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔
( مضمون نگار،بین الاقوامی ڈکنز گولڈ میڈل یافتہ، افسانہ نگار، شاعر اور کثیر لسانی ادیب، ورجینیا کامن ویلتھ یونیورسٹی، رچمنڈ سے وابستہ رہ چکے ہیں۔اصل انگریزی سے ترجمہ)
����������������