راج گڑھ کے ٹنگر نالہ پر مستقل پل نہ ہونے سے زچہ اور بچہ کو نالہ پار کرانے کیلئے کئی گھنٹوں کا انتظار کرنا پڑا
محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن میں گزشتہ کئی روز سے جاری موسلادھار بارشوں نے بڑے پیمانے پر املاک سڑکوں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ضلع رام بن کے مختلف علاقوں میں تقریباً دو درجن رہائشی مکانات کو جزوی نقصان پہنچا جبکہ سینکڑوں کنال زرعی اراضی سیلابی ریلوں کی زد میں آ گئی، جس سے مکئی کی فصلوں اور پھلدار درختوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔بارشوں کے باعث کھڑی ۔ مہو سڑک سمیت ایک درجن سے زائد رابطہ سڑکیں بند ہو گئی ہیں، جس سے کھڑی تحصیل کے کئی دیہات کا زمینی رابطہ تحصیل ہیڈکوارٹر کھڑی سے منقطع ہوگیا ۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ منڈکباس کے قریب سڑک کا ایک بڑا حصہ مکمل طور سے ڈھہ گیا ہے اور بحالی میں کئی روز کا وقت لگ سکتا ہے ۔ گول کے گوئی ، بھیم داسا اور بٹاس کے آدھ درجن علاقے سڑک رابطے کے جگہ جگہ بند ہونے کیوجہ سے منقطع ہوگئے ہیں اور سینکڑوں کی آبادی شدید مشکلات میں آگئی ہے۔ ادھر تحصیل راج گڑھ میں ٹنگر نالہ میں طغیانی آنے سے متعدد دیہات کا آپس کا رابطہ منقطع ہو گیا اور ایک نوزائیدہ بچے اور اس کی ماں کو یہ نالہ پار کرنے کیلئے کئی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑا۔ راج گڑھ کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ٹنگر نالہ پر مستقل پل کی تعمیر کے بجائے گزشتہ کئی برسوں سے محکمہ دیہی ترقی کی طرف سے لاکھوں روپے خرچ کر کے عارضی کلورٹ تعمیر کیے جاتے رہے ہیں، جو ہر بار بارشوں میں بہہ جاتے ہیں اور لوگوں کیلئے پریشانیاں پیدا ہو جاتی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مستقل پل کی عدم موجودگی کے باعث ہزاروں افراد کو ہر سال شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ادھر رام بن پولیس نے رامسو کے مکرکوٹ علاقے میں پتھر گرنے سے متاثر ہونے والے ایک رہائشی مکان کے مکینوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کرکے ممکنہ جانی نقصان کو ٹال دیا اور انتظامیہ کی طرف سے متاثرہ علاقوں میں امدادی اور بحالی کا کام جاری ہے۔