اشتیاق ملک
ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ میں حالیہ مسلسل بارشوں، سیلاب اور بادل پھٹنے کے واقعات نے شاہراہوں اور دیہی رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کے باعث مسافروں و عام راہگیروں کو آمدورفت میں دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ کئی مقامات پر حادثات کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری، گندوہ بھلیسہ، عسر اور دیگر علاقوں کی اہم شاہراہوں کے علاوہ اندرونی دیہات کو جوڑنے والی بیشتر رابطہ سڑکیں خستہ حالی کا شکار ہو چکی ہیں۔متعدد مقامات پر سڑکیں دھنس گئی ہیں جبکہ مسلسل بارشوں کے باعث پسیاں گرنے اور پہاڑ کھسکنے کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ بیشتر سڑکوں سے تارکول مکمل طور پر اکھڑ چکا ہے، جگہ جگہ گہرے گڑھے پڑ گئے ہیں اور حفاظتی دیواریں کمزور یا منہدم ہو چکی ہیں۔اس کے علاوہ نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام نہ ہونے کے باعث بارش اور سیلابی پانی سڑکوں پر جمع رہتا ہے، جس سے نہ صرف آمدورفت میں مشکلات پیدا ہو رہی ہیں بلکہ کئی مقامات پر پانی رہائشی علاقوں میں داخل ہو کر عوام کو مزید پریشانی سے دوچار کر رہا ہے۔لوگوں نے الزام عائد کیا کہ پردھان منتری گرام سڑک یوجنا اور محکمہ تعمیراتِ عامہ کے زیرِ نگرانی آنے والی متعدد رابطہ سڑکوں پر نکاسیٔ آب کا مناسب انتظام موجود نہیں، جس کے باعث ہر بارش کے بعد سڑکیں مزید تباہ ہو جاتی ہیں اور کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔مسافروں، طلبہ، مریضوں اور روزانہ سفر کرنے والے افراد نے بتایا کہ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی وجہ سے سفر نہایت دشوار اور خطرناک بن چکا ہے۔کئی علاقوں میں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے جبکہ کسی بھی وقت بڑے سڑک حادثات پیش آنے کا اندیشہ ہے۔مقامی لوگوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ، ضلع انتظامیہ، متعلقہ محکموں اور عوامی نمائندوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع کی تمام متاثرہ رابطہ سڑکوں کی ہنگامی بنیادوں پر مرمت کی جائے، مکمل تارکول بچھایا جائے، نکاسیٔ آب کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور جہاں ضرورت ہو وہاں مضبوط حفاظتی دیواریں تعمیر کی جائیں تاکہ عوام کو محفوظ اور بہتر سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔