عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//نیشنل کانفرنس نے پی ڈی پی پی سی اور اپنی پارٹی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جن جماعتوں اور ابن الوقت سیاستدانوں نے 2014میں بھاجپا کے ساتھ مل کر ‘ایجنڈا آف الائنس ‘کا نعرہ لگایا اور دفعہ370اور 35اے کے خاتمے کیلئے بھگوا جماعتوں کے 70سالہ خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے راہیں ہموار کیں ، وہی جماعتیں اور لیڈران آج عوام کو دفعہ370اور 35اے کو لیکر درس دے رہے ہیں۔موصولہ بیان کے مطابق این سی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ اجلاس کے دوران تنظیمی امور، پارٹی سرگرمیوں ، پارٹی پروگراموں کے علاوہ موسم کی قہرسامانیوں سے ہوئے جان و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ اس دوران حکومت کی طرف سے بچائو و راحت کاری کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ساگر نے ان سیاسی جماعتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے نیشنل کانفرنس کے پروگرام کی بھر پور انداز میں حمایت کی۔
انہوں نے جموںوکشمیر کی ان جماعتوں کو ہدف تنقید بنایا جنہوں نے بھاجپا کو ناراض نہ کرتے ہوئے اس پروگرام میں شمولیت اختیار نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی، پی سی اور اپنی پارٹی وہی جماعتیں ہیں، جنہوں نے بھاجپا کو یہاں لایا اور دفعہ370اور 35اے کو ختم کرنے کے ایجنڈا مکمل کرنے کیلئے بھر پور تعاون اور اشتراک فراہم کیا۔انہوں نے کہا کہ آج انہی جماعتوں دفعہ370اور 35اے کا بہانہ بنا کر ریاستی درجہ کی بحالی کیلئے منعقدہ احتجاج میں شرکت کرنے سے گریز کیا۔ ایک طرف یہ لوگ اتحاد کرنے کے جھوٹے نعرے لگاتے ہیں اور جب اتحاد کی بات آتی ہے تو یہ جماعتوں بھاجپا کو ناراض کرنا گوارا نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز کانفرنس پہلی جماعت تھی جس نے بھاجپا کی خوشنودی کیلئے گپکار الائنس سے علیحدگی اختیار کی بلکہ اس جماعت کی بنیاد ہی دفعہ370اور 35اے کے خاتمے کیلئے پڑی ہے۔ محبوبہ مفتی کے بیان کوگمراہ کن قرار دیتے ہوئے ساگر نے کہا کہ جموں وکشمیر کی تباہی اور بربادی کیلئے پی ڈی پی کا کلیدی رول رہاہے، 2019کے بعد کشمیری عوام کو جو مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹے ہیں وہ پی ڈی پی کی ہی دین ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج نیشنل کانفرنس پر الزام عائد کررہی ہے کہ نیشنل کانفرنس نے دفعہ370اور 35اے کو پس پشت ڈال دیا۔ ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی کے تمام پروگرام ناگپور سے بن کر آتے ہیں ، اور یہ جماعت کبھی بھی جموںوکشمیر کے عوام کی ہمدرد نہیں ہوسکتی ہے۔ انہوں نے عوام نے ان فریبی ، جھوٹی اور سیاست سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی اور کہا کہ نیشنل کانفرنس جموںوکشمیر کے خصوصی پوزیشن کی بحالی کی جدوجہد سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگی۔