ایجنسیز
تہران//ایران نے اپنی بندرگاہوں اور شہروں پر گزشتہ شب بھی جاری رہنے والے امریکی فضائی حملوں کے جواب میں بدھ 22 جولائی کو مشرق وسطیٰ کی بادشاہت اردن کے بندرگاہی شہر عقبہ پر نئے میزائل حملے کیے۔امریکہ نے گزشتہ شب مسلسل 11 ویں رات بھی ایران میں مختلف مقامات پر جنگی طیاروں سے فضائی بمباری اور میزائل حملے جاری رکھے۔ ان حملوں کے جواب میں ایران کی طرف سے بھی بار بار امریکہ کی اتحادی عرب ریاستوں مثلا بحرین، کویت اور اردن میں امریکی عسکری اہداف پر ڈرون اور میزائل حملے کیے جا رہے ہیں۔اردن کی فوج کی طرف سے بدھ کے روز بتایا گیا کہ ایران نے اردن پر کم از کم چھ میزائلوں کے ساتھ نئے حملے کیے، جن میں سے چار میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا جبکہ باقی دو میزائل دو مختلف لیکن غیر آباد علاقوں میں گرے۔بظاہر ان حملوں سے ایران نے اردن میں عقبہ کے بندرگاہی شہر کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اردن کا شہر عقبہ اسرائیل کے شہر ایلات سے زیادہ دور نہیں ہے۔ایلات میں اسرائیلی شہریوں کی طرف سے بنائی گئی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا تھا کہ کس طرح ایرانی میزائل حملوں کو ناکام بنانے کی کوششوں کے دوران عقبہ کی فضا میں اس وقت دھوئیں کے بادل بھی دیکھے گئے، جب اردن کے انٹرسیپٹرز نے ان میزائلوں کو دوران پرواز ہی تباہ کر دیا۔اس دوران عقبہ شہر میں فضائی حملوں سے خبردار کرنے والے سائرن بھی سنائی دیتے رہے۔امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے 22 جولائی کے روز بتایا کہ ایران پر فضائی حملوں کی 11 ویں رات اس ملک کے متعدد صوبوں میں عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔یہ فضائی حملے ایرانی صوبوں بوشہر، مشرقی آذربائیجان، ہمدان، ہرمزگان، خوزستان اور سیستان بلوچستان میں کیے گئے۔ایران کے سرکاری میڈیا نے بتایا کہ اس دوران دارالحکومت تہران کے قریب نصب ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم کو بھی فعال کر دیا گیا تھا۔