ایجنسیز
کابل//افغانستان کے مشرق میں اچانک آنے والے سیلابوں کے نتیجے میں کم از کم 23 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو گئی ہے جبکہ 100 کے قریب افراد تاحال لاپتا ہیں۔افغانستان کے ہمسایہ ملک پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے منگل 21 جولائی کو ملنے والی جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ یہ اچانک سیلاب زیادہ تر مشرقی صوبے نورستان میں آئے۔ابتدائی رپورٹوں کے مطابق افغان ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے بتایا کہ 15 ہلاک شدگان کی لاشیں مل گئی ہیں جبکہ 80 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں اور 100 کے قریب افغان شہری آخری خبریں ملنے تک لاپتا تھے۔ڈی پی اے کے مطابق نورستان میں ان اچانک سیلابوں سے صوبائی دارالحکومت پارون اور اس کے گرد و نواح کے علاقے سب سے زیادہ متاثرہ ہوئے، جہاں ہنگامی امدادی کارکن زخمیوں اور لاپتا افراد کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔افغانستان کو حالیہ برسوں میں بار بار آنے والے بہت تباہ کن لیکن اچانک سیلابوں کا سامنا رہا ہے، جن کی وجہ سے جانی اور مادی نقصانات بھی کافی زیادہ ہوتے ہیں۔یہ قدرتی آفات وہاں بار بار بہت سے گھروں کے منہدم ہو جانے اور زرعی شعبے اوربنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے وسیع تر نقصانات کا سبب بنتی رہتی ہیں۔اس کے علاوہ ماحولیایی تبدیلیوں کی وجہ سے افغانستان میں اچانک سیلابوں اور شدید خشک سالی کا سبب بننے والے انتہائی نوعیت کے موسمی حالات بھی اب زیادہ تواتر سے دیکھنے میں آنے لگے ہیں۔