اشتیاق ملک
ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ میں مسلسل دوسرے روز بھی موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا، جس کے باعث ضلع بھر میں معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو کر رہ گئی۔مسلسل بارش سے جہاں شہری و دیہی علاقوں میں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، وہیں رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی اور مختلف مقامات پر ملبہ گرنے سے آمدورفت بھی متاثر رہی۔ضلع کے متعدد علاقوں میں بھاری بارش کے باعث سڑکوں پر پانی اور ملبہ جمع ہونے سے سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی، جبکہ ندی نالوں میں شدید طغیانی کے باعث کئی پگڈنڈی راستے تباہ ہوئے۔ کئی دیہات کا زمینی رابطہ جزوی طور پر متاثر ہوا اور مسافروں کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارشوں کے باعث ضلع کے مختلف علاقوں میں بجلی اور پینے کے پانی کی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔کئی دیہات گزشتہ کئی گھنٹوں سے بجلی سے محروم رہے، جبکہ خراب موسم کی وجہ سے محکمہ بجلی اور دیگر متعلقہ اداروں کو بحالی کے کاموں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بارشوں کا سب سے زیادہ اثر زرعی شعبے پر پڑا ہے۔مکئی کی فصل، سبزیوں اور پھلدار باغات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر بارشوں کا سلسلہ مزید جاری رہا تو فصلوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے. قابل ذکر ہے کہ گزشتہ دنوں ضلع ڈوڈہ کے ٹھاٹھری، گندوہ اور بھلیسہ کے مختلف علاقوں میں بادل پھٹنے اور اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی تھی۔کئی علاقوں میں اب بھی بحالی کا کام مکمل نہیں ہو سکا ہے اور متاثرین معمول کی زندگی بحال ہونے کے منتظر ہیں۔ادھر ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایس ڈی آر ایف، محکمہ بجلی، پی ایچ ای اور دیگر متعلقہ محکمے متاثرہ علاقوں میں بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں، تاہم مسلسل بارشیں ان کارروائیوں میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔عوام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کے لیے خصوصی امدادی پیکیج کا اعلان کیا جائے، متاثرہ کسانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کیا جائے اور خستہ حال رابطہ سڑکوں، بجلی و پانی کی سپلائی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فوری بحالی کو یقینی بنایا جائے تاکہ لوگوں کی مشکلات میں کمی آ سکے۔