زاہد بشیر
گول//دو روز سے جموں وکشمیر کی باقی جگہوں کی طرح گول سب ڈویژن میں بھی شدید بارشوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کل اور دوران سب شدید موسلادھار بارشوں کی وجہ سے جہاں فصلوں کا نقصان ہوا ہے وہیں نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں اور لوگوں سڑکوں کا سارا پانی لوگوں کی زرعی اراضی میں گیا جس وجہ سے فصلات کو شدید نقصان پہنچا۔ گول سب ڈویژن کے گول جابہ ، ہارہ موئلہ ۔ گاگرہ ، داڑم ، گگر سولہ ، مکجی ، داڑم ، بھیمداسہ ، داچھن ،ڈھیڈہ و سنگلدان کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے نظام زندگی ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے ۔ جہاں اس موسلادھار بارش کی وجہ سے بجلی نظام بھی درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے وہیں سڑکیں کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی ہیں ۔کئی نالوں ندیوں میں پانی کے بھائو کی وجہ سے پیدل پل بھی اکھڑ گئے ہیں ۔وہیں موئلہ ڈگرہ کالج روڈ پر نکاسی آب نہ ہونے کی وجہ سے سارا پانی لوگوں کی زرعی اراضی میں گیا ہے ۔ اگر چہ سڑک کی نالی کو صاف کرنے اور جگہ جگہ نا جائز تجاوزات و سڑکوں کناروں پر جمع میٹریل سے محکمہ تعمیرات کو پہلے ہی آگاہ کیا تھا لیکن انہوں نے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی وہیں ا س سلسلے میں انتظامیہ کو بھی مطلع کیا گیا ہے ۔ اگر چہ بارشوں کے دوران فلڈ کنٹرول کا ایک محکمہ ہی ہے لیکن اس محکمہ کا یہاں پر کوئی اتہ پتہ نہیں ہے ۔ زمینی سطح پر محکمہ کا نام نا کے برابر ہے ۔ سب ڈویژن گول کے مختلف علاقوں، بالخصوص جابہ، میں ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول محکمہ کی مبینہ کارکردگی پر عوامی حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کئی دہائیوں سے نہری نظام اور حفاظتی بندوں کی مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث زرعی شعبہ شدید متاثر ہوا ہے۔کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے سماجی کارکن گلزار احمد شان نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ 1975 سے قبل یہ محکمہ یہاں پر آیا لیکن محکمہ کی جانب سے زمینی سطح پر عوامی مفاد کے لئے خاطر خواہ کام دیکھنے میں نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جابہ علاقے میں 1980 کی دہائی سے قبل جابہ میں نالے کا بنڈ تعمیر کیا گیا تھا جو آج خستہ حالی کا شکار ہو کر تقریباً ختم ہو چکے ہیں، لیکن ان کی بحالی یا نئے منصوبوں پر سنجیدگی سے کوئی توجہ نہیں دی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ نہری نظام کی بگڑتی صورتحال کے باعث متعدد زرعی اراضی متاثر ہوئی ہے اور دھان کے کھیت آہستہ آہستہ بنجر زمین میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کسانوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ مقامی آبادی کا مطالبہ ہے کہ محکمہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا سروے کر کے نہروں اور حفاظتی بندوں کی مرمت و بحالی کا عملی منصوبہ شروع کرے۔گلزار احمد شان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محکمہ ایریگیشن اینڈ فلڈ کنٹرول گزشتہ برسوں کے دوران علاقے میں انجام دیے گئے ترقیاتی کاموں، منظور شدہ منصوبوں اور خرچ ہونے والے سرکاری فنڈز کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے پیش کرے تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔