محمد حنیف
سنہ 2026کی گرمیوں نے جموں و کشمیر میں صرف موسم کی تبدیلی ہی نہیں لائی بلکہ تباہ کن کلاؤڈ برسٹس، اچانک آنے والے سیلاب اور شدید موسمی واقعات کا ایک ایسا سلسلہ بھی لے کر آئیں جنہوں نے پورے ہمالیائی خطے میں تباہی کے گہرے نقوش چھوڑے۔ کشتواڑ اور ڈوڈہ کے دشوار گزار پہاڑوں سے لے کر پہلگام کے دلکش مناظر اور جموں و کشمیر کے مختلف حساس علاقوں تک، موسلا دھار بارش نے چند لمحوں میں پہاڑی ندی نالوں کو تباہ کن سیلابوں میں تبدیل کر دیا۔ سڑکیں ملبے تلے دب گئیں، مکانات اور زرعی اراضی بہہ گئی اور ہزاروں افراد کی زندگیاں ایک ایسے بدلتے ہوئے موسم سے متاثر ہوئیں جسے اب نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
رواں برس رونما ہونے والی یہ آفات کوئی الگ تھلگ واقعات نہیں ہیں بلکہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جموں و کشمیر میں ابھرنے والے ایک تشویشناک موسمی رجحان کا حصہ ہیں۔ کلاؤڈ برسٹس، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ، طویل خشک سالی، غیر معمولی گرمی کی لہروں اور بے ترتیب بارشوں کے بڑھتے ہوئے واقعات مغربی ہمالیہ کی موسمی حساسیت میں اضافے کی عکاسی کرتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی اب اس خطے کے لیے مستقبل کا خدشہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت بن چکی ہے۔
کلاؤڈ برسٹ ایک محدود جغرافیائی علاقے میں ہونے والی انتہائی شدید بارش کو کہا جاتا ہے جو عموماً ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں رونما ہوتی ہے۔ ایسے واقعات میں قلیل مدت کے دوران 100 ملی میٹر سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں زمین پانی جذب کرنے کی اپنی صلاحیت کھو دیتی ہے۔ اس کے بعد پانی، مٹی، پتھروں، درختوں اور ملبے کو اپنے ساتھ بہاتے ہوئے انتہائی تیزی سے نشیبی علاقوں کی طرف بڑھتا ہے اور تباہ کن سیلاب کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
جموں و کشمیر کی جغرافیائی ساخت اسے ایسی آفات کے لیے خاص طور پر حساس بناتی ہے۔ یہاں کے پہاڑی ڈھلوان، تیز رفتار دریا اور ندی نالوں کے کنارے آباد بستیاں شدید بارش کے دوران شدید خطرات سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ سڑکیں اکثر غیر مستحکم پہاڑی علاقوں سے گزرتی ہیں جبکہ قدرتی آبی گزرگاہوں کے نزدیک آبادیوں میں اضافہ خطرات کو مزید بڑھا دیتا ہے۔ شدید بارش کے دوران پانی غیر معمولی رفتار سے بہنا شروع ہو جاتا ہے جو لینڈ سلائیڈنگ اور ملبے کے بڑے بہاؤ کا سبب بنتا ہے۔
سنہ 2026کے دوران رونما ہونے والے کلاؤڈ برسٹس اور شدید بارشوں نے اس حساسیت کو پوری طرح بے نقاب کر دیا۔ کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن، ریاسی، پونچھ اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں اچانک سیلابوں نے گھروں، سڑکوں اور پلوں کو نقصان پہنچایا جبکہ مواصلاتی اور برقی نظام بھی متاثر ہوئے۔ متعدد دور افتادہ علاقے ملک کے دیگر حصوں سے منقطع ہو گئے اور امدادی سرگرمیوں میں بھی مشکلات پیش آئیں۔
مقامی آبادی کے لیے یہ تباہی صرف عمارتوں کے نقصان تک محدود نہیں رہی۔ زرعی اراضی مٹی اور پتھروں تلے دب گئی، آبپاشی کے ذرائع تباہ ہو گئے اور مویشی سیلابی ریلوں کی نذر ہو گئے۔ باغبانی اور سبزیوں کی کاشت کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ پہاڑی علاقوں کی معیشت کا بڑا انحصار موسمی استحکام پر ہوتا ہے اور ایسے حالات میں نقصانات کے اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے جاتے ہیں۔
جموں و کشمیر کی معیشت میں سیاحت ایک اہم ستون کی حیثیت رکھتی ہے، تاہم شدید موسمی واقعات نے اس شعبے کو بھی غیر معمولی طور پر متاثر کیا ہے۔ کلاؤڈ برسٹس، لینڈ سلائیڈنگ اور شدید بارشوں نے نقل و حمل اور بنیادی خدمات کو متاثر کرتے ہوئے اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں محفوظ اور پائیدار بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ناگزیر ہو چکی ہے۔ موسم کی غیر متوقع تبدیلیاں اس امر کی متقاضی ہیں کہ ترقیاتی منصوبہ بندی کو موسمیاتی حقائق سے ہم آہنگ بنایا جائے۔
سنہ 2026کے واقعات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ کوئی منفرد واقعات نہیں ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران جموں و کشمیر میں شدید موسمی واقعات میں واضح اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ کلاؤڈ برسٹس ہمیشہ سے ہمالیائی خطے کا حصہ رہے ہیں لیکن ماضی میں ان کے واقعات نسبتاً کم اور محدود علاقوں تک محدود تھے۔ آج یہ واقعات جموں اور کشمیر دونوں خطوں میں زیادہ تواتر کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں جو ایک بدلتے ہوئے موسمی نظام کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ستمبر 2014کے تباہ کن سیلاب نے جموں و کشمیر میں موسمیاتی آفات کے حوالے سے عوامی شعور بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اگرچہ وہ سیلاب کلاؤڈ برسٹ کے نتیجے میں نہیں آئے تھے لیکن انہوں نے شہری منصوبہ بندی، نکاسیٔ آب کے نظام اور دریا کنارے قائم آبادیوں کی کمزوریوں کو نمایاں کر دیا تھا۔ اس کے بعد تقریباً ہر مون سون کے موسم میں کہیں نہ کہیں شدید بارش، لینڈ سلائیڈنگ یا اچانک سیلاب کے واقعات رونما ہوتے رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں غیر معمولی گرمی کی لہریں، برف باری میں کمی، غیر متوقع بارشیں اور نسبتاً گرم سردیاں بھی موسمیاتی تبدیلی کے واضح آثار ہیں۔
سائنس دان اس رجحان کو موسمیاتی اور انسانی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافے نے فضا میں نمی کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بڑھا دیا ہے۔ جب نمی سے بھرپور ہوائیں ہمالیائی سلسلۂ کوہ سے ٹکراتی ہیں تو وہ تیزی سے بلند ہو کر ٹھنڈی ہوتی ہیں اور محدود علاقوں میں انتہائی شدید بارش کا سبب بنتی ہیں۔ مغربی ہواؤں اور مون سون کے باہمی تعامل سے مغربی ہمالیہ میں شدید بارشوں کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔
ان قدرتی واقعات کے اثرات کو انسانی سرگرمیوں نے مزید سنگین بنا دیا ہے۔ بے ہنگم شہری توسیع، غیر سائنسی انداز میں سڑکوں کی تعمیر، جنگلات کی کٹائی، معدنی وسائل کے بے دریغ استعمال اور دریا کناروں پر تعمیرات نے اس نازک ماحولیاتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات نے سیلابی پانی کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا کر دی ہے جس کے نتیجے میں نسبتاً کم بارش بھی بڑے پیمانے پر تباہی کا باعث بن جاتی ہے۔
ان مسلسل آفات نے مضبوط اور مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ضرورت کو اجاگر کر دیا ہے۔ اگرچہ موسمی پیش گوئی کے نظام میں خاطر خواہ بہتری آئی ہے لیکن کلاؤڈ برسٹ کے مقام اور وقت کی درست پیش گوئی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ ڈوپلر موسمیاتی ریڈار کی توسیع، مزید خودکار موسمیاتی مراکز کے قیام اور مقامی سطح پر ابتدائی انتباہی نظام کی مضبوطی انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی منصوبہ بندی کو بھی بدلتے ہوئے موسمی حالات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ پہاڑی علاقوں میں تعمیر ہونے والی سڑکوں، پلوں اور عوامی عمارتوں کو شدید بارش اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیر کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں میں بے ہنگم تعمیرات کی روک تھام اور جنگلات، آبی ذخائر اور قدرتی نکاسیٔ آب کے نظام کا تحفظ بھی ناگزیر ہے۔
سنہ 2026نے ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ ترقی کے موجودہ ماڈل پر ازسرِنو غور کرنے کی ضرورت ہے۔ پائیدار زمینی استعمال، شجرکاری، آبی وسائل کے تحفظ اور سائنسی بنیادوں پر منصوبہ بندی کو حکومتی پالیسیوں کا لازمی حصہ بنایا جانا چاہیے۔ مقامی آبادی کو آفات سے نمٹنے کی تربیت، آگاہی پروگراموں اور باقاعدہ مشقوں کے ذریعے بااختیار بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
سنہ 2026کے کلاؤڈ برسٹس نے ایک واضح اور طاقتور انتباہ دیا ہے۔ جموں و کشمیر کے پہاڑ اگرچہ اپنی بے مثال خوبصورتی اور ماحولیاتی اہمیت کے لیے دنیا بھر میں پہچانے جاتے ہیں، لیکن وہ جنوبی ایشیا کے سب سے زیادہ موسمیاتی حساس خطوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ اس نازک ماحولیاتی نظام کا تحفظ محض ایک ماحولیاتی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی جانوں، معاشی استحکام اور پائیدار ترقی کے تحفظ کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ رواں برس رونما ہونے والی یہ آفات ایک واضح پیغام دیتی ہیں کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم موسمیاتی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے ماحول دوست اور پائیدار ترقی کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں
تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے ہمالیہ کا یہ حسین خطہ محفوظ اور پائیدار رہ سکے۔
[email protected]