عظمیٰ ویب ڈیسک
سرینگر/جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز کہا کہ’’چنار بک فیسٹیول‘‘اب محض ایک کتابی میلہ نہیں رہا بلکہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے، مطالعے کے فروغ اور علمی و ادبی ثقافت کو مضبوط کرنے کی ایک تحریک کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام جموں و کشمیر کو تعلیم، ادب، تخلیقی صلاحیتوں اور ثقافت کا ملک کا ’’تاج‘‘بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں منعقدہ چنار بک فیسٹیول سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ فیسٹیول روایتی کتابی نمائش کی حدود سے نکل کر خیالات، مکالمے اور علم کے تبادلے کا ایک قومی پلیٹ فارم بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا، آج چنار بک فیسٹیول صرف کتابوں کے اسٹالز اور رونمائی کی تقریبات تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک تحریک اور علم و فکر کے تبادلے کا متحرک پلیٹ فارم بن گیا ہے، جو نئی سوچ کو جنم دے رہا ہے، مکالمے کو فروغ دے رہا ہے اور طلبہ و نوجوانوں کو مضبوط بنا رہا ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ یہ فیسٹیول جموں و کشمیر کو تعلیم، ادب، ثقافت اور نوجوانوں کو بااختیار بنانے کا ایک نمایاں مرکز بنانے کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ چنار کا درخت صرف کشمیر کی علامت نہیں بلکہ یہاں کی تہذیب، ثقافت اور قدرتی حسن کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ چنار بک فیسٹیول اس خطے کی علمی اور ثقافتی شناخت کا مظہر بن کر ابھرا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ فیسٹیول کے دوران ادبی مباحثوں، ورکشاپس اور تعاملی نشستوں نے جموں و کشمیر کی ادبی روایات میں نئی روح پھونکی ہے اور علاقے کے بھرپور ثقافتی ورثے کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فیسٹیول مختلف خطوں، زبانوں اور نسلوں کے درمیان ایک مضبوط پل بن چکا ہے اور “ایک بھارت، شریشٹھ بھارت” کے جذبے کی عملی تصویر پیش کرتا ہے۔ان کے مطابق، “ہم نے یہاں تامل، کشمیری، سنسکرت سمیت متعدد زبانوں کو ایک ساتھ دیکھا ہے۔ یہ فیسٹیول قومی یکجہتی اور ہندوستان کی ثقافتی و لسانی تنوع کا جشن مناتا ہے۔”منوج سنہا نے وندے ماترم کی 150ویں سالگرہ کے موقع پر ملک بھر میں جاری تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر نے ہر مرحلے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں جموں و کشمیر کے سات اضلاع ملک کے سرفہرست دس اضلاع میں شامل رہے جن میں کشتواڑ نے پہلی پوزیشن حاصل کی۔ دوسرے مرحلے میں بھی جموں و کشمیر پہلے نمبر پر رہا جہاں چھ اضلاع ٹاپ ٹین میں شامل ہوئے جبکہ پونچھ ملک کا بہترین ضلع قرار پایا۔ تیسرے مرحلے میں بھی جموں و کشمیر نے اپنی برتری برقرار رکھی اور چھ اضلاع نمایاں کارکردگی دکھانے والوں میں شامل رہے، جبکہ پونچھ نے ایک بار پھر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جموں و کشمیر آج امن، اعتماد اور تخلیقی صلاحیتوں کی نئی فضا کا پیغام دے رہا ہے اور یہ نوجوانوں کو یہ سبق دیتا ہے کہ’’قلم کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ ہر کتاب دراصل زندگی کے ساتھ ایک مکالمہ ہے، جو انسان کو سوچنے، سوال کرنے، اپنی رائے قائم کرنے اور بہتر انسان بننے کی ترغیب دیتی ہے۔انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ کتابوں کو بوجھ نہیں بلکہ زندگی بھر کا ساتھی سمجھیں کیونکہ مطالعہ شخصیت سازی اور ذہنی وسعت کا بہترین ذریعہ ہے۔
منوج سنہا نے نیشنل بک ٹرسٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ چنار بک فیسٹیول کو قومی تعلیمی پالیسی (NEP) کے مقاصد سے ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ تخلیقی صلاحیت، تنقیدی سوچ اور جامع تعلیم کو فروغ دیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ اس فیسٹیول میں ہندی، انگریزی، اردو، ڈوگری، کشمیری، گوجری سمیت کئی ہندوستانی زبانوں کی کتابیں دستیاب ہیں، جس سے بچوں کو اپنی مادری زبان سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ کثیر لسانی تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل رہا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے لائبریریوں، بک کلبوں اور سال بھر جاری رہنے والی ادبی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مطالعے کی ثقافت صرف فیسٹیول تک محدود نہیں رہنی چاہیے۔انہوں نے طلبہ اور ابھرتے ہوئے مصنفین سے اپیل کی کہ وہ ہر ماہ کم از کم ایک کتاب ضرور پڑھیں اور باقاعدگی سے لکھنے کی عادت اپنائیں۔
منوج سنہا نے کہا کہ کسی بھی کتابی میلے کی کامیابی کو صرف فروخت ہونے والی کتابوں کی تعداد سے نہیں ناپا جا سکتا بلکہ اس کی اصل کامیابی ان خیالات، مکالموں اور شعور میں پوشیدہ ہوتی ہے جو یہ معاشرے میں پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا،اگر اس فیسٹیول کی بدولت صرف ایک نوجوان کی زندگی بھی کسی کتاب کے ذریعے بدل جائے تو یہی اس کی سب سے بڑی کامیابی ہوگی۔آخر میں لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ چنار بک فیسٹیول قارئین، اہلِ قلم اور اہلِ فکر سب کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے اور اس کا مقصد جموں و کشمیر میں مطالعے کی مستقل ثقافت کو فروغ دیتے ہوئے اسے علم، ادب، ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کا قومی مرکز بنانا ہے۔
قلم کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، چنار بک فیسٹیول کی محض کامیابی میلہ نہیں بلکہ علم و مطالعے کو فروغ دینے کی تحریک بن چکا ہے : منوج سنہا