اُجھ کثیر المقاصد منصوبے پر جلد کام شروع ہوگا:ڈاکٹر جتیندر سنگھ،بازار میں والہانہ استقبال
عظمیٰ نیوزسروس
لکھن پور (کٹھوعہ)//مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) برائے سائنس و ٹیکنالوجی، ارضیاتی سائنسز اور وزیر مملکت برائے وزیر اعظم دفتر، عملہ، عوامی شکایات و پنشن، جوہری توانائی اور خلائی امور ڈاکٹر جتیندر سنگھ کا جمعہ کو لکھن پور وینڈرز مارکیٹ کے دورے کے دوران مقامی اسٹریٹ فوڈ فروشوں اور تاجروں نے پُرتپاک استقبال کیا۔ان کا یہ دورہ حکومت ہند کی جانب سے پی ایم سواندھی سکیم کے تحت لکھن پور کو ملک کے 50منتخب شہروں میں بطور “سٹریٹ فوڈ ہب” شامل کیے جانے کے فیصلے کے بعد عمل میں آیا۔استقبال پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے ہمیشہ ووٹ کی سیاست کے بجائے عوامی فلاح و بہبود پر مبنی ترقی کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے قبل کئی اہم منصوبے برسوں تک التوا کا شکار رہے، مگر موجودہ حکومت نے انہیں دوبارہ فعال بنا کر عملی جامہ پہنایا۔مرکزی وزیر نے کہا کہ پی ایم سواندھی اسکیم ملک کی تاریخ کا پہلا ایسا سرکاری اقدام ہے جس کے ذریعے اسٹریٹ وینڈرز کی فلاح و بہبود کو باقاعدہ حکومتی پالیسی کا حصہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی کی حکومتوں نے اس طبقے کو نظر انداز کیا، تاہم وزیر اعظم نریندر مودی کی حساس قیادت نے انہیں باوقار روزگار، مالی معاونت اور پائیدار معاشی مواقع فراہم کرنے کے لیے خصوصی اسکیمیں متعارف کرائیں۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ پہلے مرحلے میں لکھن پور کا سٹریٹ فوڈ ہب کے لیے انتخاب اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت چھوٹے تاجروں اور خوانچہ فروشوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ صاف، منظم اور سیاح دوست کاروباری ماحول فراہم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے لیے 32 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے 126 تجاویز موصول ہوئی تھیں، جن میں 106 شہری بلدیاتی ادارے اور 7 مردم شماری والے قصبے شامل تھے۔ لکھن پور میں سٹریٹ فوڈ ہب دو مقامات پر قائم کیا جائے گا، ایک پرانے بس سٹینڈ کے قریب اور دوسرا سیلز ٹیکس دفتر کے نزدیک۔انہوں نے کہا کہ پنجاب کے پٹھان کوٹ سے جموں و کشمیر میں داخلے کے مرکزی دروازے اور شری ماتا ویشنو دیوی کے راستے پر واقع ہونے کی وجہ سے لکھن پور سے روزانہ بڑی تعداد میں سیاح، یاتری اور مسافر گزرتے ہیں۔ تقریباً 1,754.25 مربع میٹر رقبے پر قائم ہونے والا یہ ہب جدید وینڈنگ سہولیات سے آراستہ ہوگا، جہاں ڈوگرہ کھانوں سمیت مقامی پکوانوں کو صاف ستھرے اور منظم ماحول میں فروغ دیا جائے گا۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ منصوبہ مقامی عوام کی فلاح کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے، حتیٰ کہ ٹینڈرنگ کا عمل بھی اس انداز میں ترتیب دیا گیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ فائدہ مقامی لوگوں کو حاصل ہو۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے مقامی کاروبار کو فروغ ملے گا اور لکھن پور محض ایک گزرگاہ کے بجائے ایک نمایاں غذائی و سیاحتی مرکز کے طور پر ابھرے گا۔مرکزی وزیر نے اعلان کیا کہ جموں و کشمیر کے گیٹ وے کو مزید پرکشش بنانے کے لیے لکھن پور میں 1.5کروڑ روپے سے زائد لاگت سے ایک منفرد یادگاری دروازہ (گیٹ وے مونومنٹ) اور خوبصورتی بڑھانے کے دیگر کام انجام دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبے کا تخمینہ تیار کر لیا گیا ہے اور اس کے لیے ایم پی لوکل ایریا ڈیولپمنٹ سکیم سمیت دیگر ذرائع سے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔اس موقع پر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے مہاراجہ گلاب سنگھ کے مجسمے کی بھی نقاب کشائی کی، جو جموں و کشمیر کے داخلی دروازے پر نصب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ یادگار مہاراجہ گلاب سنگھ کی قوم کی تعمیر میں خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے اور نوجوان نسل کو جموں و کشمیر کی تاریخ اور ورثے سے روشناس کراتی ہے۔ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے خطے کے دیگر ترقیاتی منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تقریباً چار دہائیوں سے تعطل کا شکار شاہ پور کنڈی منصوبہ اب فعال ہو چکا ہے، جبکہ تقریباً ایک صدی سے زیر التوا اُجھ کثیر المقاصد منصوبہ منظوری کے آخری مراحل میں ہے اور اس پر جلد کام شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں سے کٹھوعہ، سانبہ اور جموں کے بعض علاقوں میں آبپاشی کی سہولیات میں نمایاں بہتری آئے گی اور آبی وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کٹھوعہ ریلوے سٹیشن کو شہید کیپٹن سنیل شرما کے نام سے منسوب کرنے کی منظوری حاصل ہو چکی ہے اور اس حوالے سے باضابطہ کارروائی جلد مکمل ہونے کی امید ہے۔کٹھوعہ سے سانبہ گاڑیوں کی فٹنس ٹیسٹنگ سہولت منتقل کیے جانے کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ فیصلہ سانبہ میں جدید خودکار ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیسٹنگ سینٹر قائم ہونے کے باعث لیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک عارضی انتظام ہے اور کٹھوعہ میں بھی اسی نوعیت کی جدید سہولت قائم کرنے کی تجویز متعلقہ حکام کے زیر غور ہے۔