ڈاکٹر فلک فیروز
ہوشیاری دل نادان بہت کرتا ہے
رنج کم سہتا ہے اعلان بہت کرتا ہ ہے ( عرفان صدیقی )
علمِ بیان کی رو سے استعارہ اور علامت دونوں ایسی ادبی اصطلاحات ہیں جو عام الفاظ کو ان کے حقیقی معنوں کی بجائے گہرے اور مجازی معنوں میں استعمال کرتی ہیں۔ یہاں پر بھی علامتی استعارہ کو انہی معنوں میں استعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے ،موجودہ دور میں ڈیجیٹل حصار کا شکار ہر ایک انسان بن چکا ہے۔ اب تمام خیالات احساسات تجربات واقعات حادثات کی تشہیر اطلاع سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کے ذریعے سے دی جاتی ہے، جس میں سب سے بڑا فلیٹ فارم فیس بک ،انسٹاگرام، واٹس ایپ، ٹویٹر اور اسی طرح کہ دوسری ڈیجیٹل آلات یا ذرائع ہیں جن کے ذریعے سے تمام حضرات ،بزرگ جوان نوجوان اپنے پیغامات کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ ان پیغامات کو منظر عام پر لانے کے لیے جس زبان اشاروں علامات نشانہ سے کام لیا جاتا ہے، ان علامات اور نشانات کو نسلی یا جنریشن گیپ کے ذریعے سے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی جا سکتی ہے یا سمجھانے کی ضرورت از حد محسوس کی جاتی ہے۔ روایتی زندگی گزارنے والے افراد کے یہاں وہ نشان از حد معیوب سمجھے جاتے ہیں جو نشانات نئی نسل یا زیڈ جن جنریشن کے لیے باعث اعزاز فخر یا کامیابی کے طور پر دکھائے جا سکتے ہیں، بولے جا سکتے ہیں یا استعمال کیے جا سکتے ہیں، جن میں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر استعمال کیے جانے والا انگوٹھا اور مصنوعی دل شامل ہے، جس نے اب حقیقی انگوٹھے اور حقیقی دل پر بھی سبقت حاصل کی ہے۔ حال ہی میں ۷۰سالہ ایک بزرگ نے حج کا فریضہ انجام دیا تو اس پیغام کو اپنے وٹس ایپ پر اپنے دوستوں کو ارسال کیا اور اپنا سٹیٹس رکھا، موجودہ دور کے مزاج کے مطابق دوستوں نے انگوٹھے اور مصنوعی دل واپس بھیجا تو حضور بُرا مان گئے اور مجھے پوری صورتحال سے آگاہ کیا، یہی وجہ بنی اس کالم کو لکھنے کی ۔آئیے اس کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہیں۔
کہتے ہیں کہ کسی بھی معاشرے کی تہذیب، اس کی زبان سے پہچانی جاتی ہے۔ زبان صرف خیالات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتی بلکہ تہذیب، تمدن، احساس، محبت، نفرت، قربت اور فاصلے کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ زبان کے محاورے اور استعارے کسی قوم کی اجتماعی نفسیات کے عکاس ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور اپنے نئے محاورے اور اپنی نئی علامتیں خود تخلیق کرتا ہے۔اردو زبان کا ایک پرانا محاورہ ہے ’’انگوٹھا دکھانا‘‘ اس کا مطلب تھا کسی کو ٹکا سا جواب دینا، عین وقت پر انکار کر دینا، یا وعدہ کر کے مکر جانا۔ دیہات میں اسے ’’ٹھینگا دکھانا‘‘بھی کہا جاتا تھا۔ گویا انگوٹھا کبھی انکار، بے رخی اور طنز کی علامت تھا،مگر وقت بھی عجیب جادوگر ہے، اس نے اسی انگوٹھے کو نہلا دھلا کر، خوشبو لگا کر، سوشل میڈیا کی شاہراہ پر کھڑا کر دیا۔ اب یہی انگوٹھا محبت بھی ہے، خیرخواہی بھی، تعزیت بھی، مبارک باد بھی، علمی تبصرہ بھی اور تہذیب بھی۔واقعی معنیٰ بھی انسانوں کی طرح ہجرت کرتے ہیں۔کبھی الفاظ لباس بدلتے ہیں، کبھی محاورے اور اب تو انگوٹھے بھی۔آج اگر کوئی نوجوان پانچ سو صفحات کی کتاب پڑھنے کے بجائے صرف ایک پیج بھیج دے تو مصنف بھی خوش، قاری بھی مطمئن اور سوشل میڈیا بھی پُرسکون۔گویا مطالعے کی جگہ علامت نے لے لی ہے، احساس کی جگہ ایموجی نے اور تعلق کی جگہ نوٹیفکیشن نے۔
کبھی خیرخواہی کے لیے لوگ میلوں پیدل چلتے تھے، بیمار کی عیادت کے لیے دروازہ کھٹکھٹاتے تھے، خوشی میں گلے ملتے تھے، غم میں کندھا دیتے تھے اور خطوں میں کئی کئی صفحات سیاہ کر دیتے تھے۔ اب خیرخواہی کی پوری عمارت صرف دو علامتوں پر کھڑی ہے۔اب کسی کی کتاب شائع ہو؟کسی کو ملازمت مل جائے؟کسی کا بچہ پیدا ہو؟اور خدا نخواستہ کسی کے گھر سوگ ہو جائے؟’’انا للہ…‘‘انگوٹھا بھیجا، فرض ادا کیا اور اگلی پوسٹ کی طرف روانہ ہو گئے۔
مجھے تو بعض اوقات یوں محسوس ہوتا ہے کہ اگر حضرت غالب آج زندہ ہوتے تو شاید اپنا دیوان پوسٹ کرنے کے بعد نیچے بیٹھ کر انگوٹھے گن رہے ہوتے کہ شعر زیادہ اچھا تھا یا لائکس زیادہ آئے۔سوشل میڈیا نے انگوٹھے کو ایسی سلطنت عطا کی ہے کہ ہاتھ کی باقی چار انگلیاں اقلیت میں چلی گئی ہیں۔شہادت کی اُنگلی حیران ہے کہ میں نے پوری عمر حق کی گواہی دی، مگر عزت انگوٹھا لے گیا۔چھوٹی انگلی سوچتی ہے کہ قد چھوٹا ہونے کا نقصان آج سمجھ آیا، اور بیچ والی انگلی نے احتجاجاً عوامی مقامات پر نمودار ہونا ہی کم کر دیا۔
ہمارے ایک دوست اس فن کے ایسے ماہر ہیں کہ اگر ’’بین الاقوامی انگوٹھا چیمپئن شپ‘‘ منعقد ہو جائے تو سونے کا تمغہ اُنہی کے حصے میں آئے۔صبح آنکھ کھلتے ہی اُن کا انگوٹھا وضو کیے بغیر خدمت پر حاضر ہو جاتا ہے۔ناشتہ کرنے سے پہلے پچاس انگوٹھے۔دفتر پہنچتے پہنچتے سو دل۔دوپہر تک بیس ’’ماشاء اللہ‘‘۔شام تک تیس ’’زبردست‘‘۔رات تک دو سو ’’واہ واہ‘‘۔لیکن اگر اُن سے پوچھ لیا جائے کہ فلاں دوست نے آخر لکھا کیا تھا؟تو بڑی معصومیت سے جواب دیتے ہیں:’’پڑھنے کا وقت کہاں تھا! انگوٹھا بھیج دیا، وہی کافی ہے۔‘‘گویا اب مطالعہ فضول اور انگوٹھا اصل علم بن گیا ہے۔آج کل مصنف بھی عجیب الجھن میں مبتلا ہے۔وہ مضمون اس لیے نہیں لکھتا کہ لوگ پڑھیں، بلکہ اس لیے لکھتا ہے کہ لوگ بھیجیں۔پہلے ادیب یہ دیکھتا تھا کہ میرے مضمون نے کتنے ذہن بدلے۔اب یہ دیکھتا ہے کہ کتنے انگوٹھے آئے۔گویا ادب تنقید سے نہیں بلکہ نوٹیفکیشن سے زندہ رہنے لگا ہے۔دِل کا بھی عجیب حال ہے۔پہلے دل محبت کرتا تھا،اب دل صرف ایموجی بن گیا ہے۔مصنوعی دل……جسے نہ دھڑکن سنائی دیتی ہے، نہ درد محسوس ہوتا ہے۔ایک سرخ رنگ کا دل ہر خوشی، ہر غم، ہر تصویر، ہر اشتہار اور ہر ناشتے کے نیچے یکساں جوش سے بھیج دیا جاتا ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ اب دل سینے میں نہیں، کی بورڈ میں دھڑکتا ہے۔
مجھے سب سے زیادہ حیرت اس وقت ہوئی جب ایک صاحب نے اپنے والد کی وفات کی خبر پوسٹ کی۔نیچے سینکڑوں تبصرے تھے۔کسی نے روتا ہوا چہرہ بھیجا۔کسی نے دعا لکھی۔
اور کئی حضرات نے صرف ❤ دل بھیج کر اپنے جذبات کا اظہار کر دیا۔میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ محبت کا دل تھا، افسوس کا دل تھا یا صرف انگلی کی ورزش؟
سوشل میڈیا نے جذبات کو بھی Ready Made بنا دیا ہے۔پہلے دل سوچتا تھا، پھر زبان بولتی تھی۔اب انگوٹھا سوچے بغیر حرکت کرتا ہے اور دل خاموش رہتا ہے۔
یہی شاید GEN-Z کی نئی تہذیب ہے۔جہاں ملاقات کی جگہ میٹنگ لنک نے لے لی۔حال احوال کی جگہ “Seen” نے۔گفتگو کی جگہ “Typing…” نے۔اور محبت کی جگہ ایک سرخ دل اور ایک نیلا انگوٹھا کافی سمجھا جاتا ہے۔
یہ انگوٹھا بھی بڑا سفارت کار ہے۔دوستی میں بھی یہی۔دشمنی میں بھی یہی۔ادب میں بھی یہی۔سیاست میں بھی یہی۔اگر کچھ سمجھ نہ آئے تو ایک بھیج دو۔نہ اختلاف ہوگا نہ وضاحت دینی پڑے گی۔آخر میں مجھے یہی احساس ہوتا ہے کہ قصور نہ انگوٹھے کا ہے اور نہ دل کے اس سرخ ایموجی کا۔قصور شاید ہمارا ہے کہ ہم نے احساس کو علامت، تعلق کو نوٹیفکیشن، محبت کو ایموجی اور خیرخواہی کو انگوٹھے میں قید کر دیا ہے۔اگر اکیسویں صدی کا کوئی مؤرخ ہماری تہذیب کا تعارف صرف ایک تصویر میں کرنا چاہے تو شاید وہ ایک گردش کرتا ہوا انگوٹھا اور اس کے ساتھ ایک مصنوعی سرخ دل بنا کر لکھ دے:’’یہ وہ تہذیب تھی جہاں دل کم دھڑکتے تھےایموجی زیادہ، لوگ کم ملتے تھے نوٹیفکیشن زیادہ آتے تھے اور تعلقات کی گہرائی کا پیمانہ اخلاص نہیں بلکہ انگوٹھوں اور دلوں کی تعداد ہوا کرتی تھی۔‘‘اور شاید یہی GEN-Z کی تہذیب کا سب سے روشن اور سب سے طنزیہ استعارہ ہے۔ یہاں محبت کی قیمت ایک ❤، خیرخواہی کی قیمت ایک اور تعلق کی قیمت صرف اتنی ہے کہ آپ کی پوسٹ پر اُنگلی رُک گئی یا نہیں۔
(ربطہ۔ 8825001337)