عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ’’ان علاقوں میں صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بنیادی ڈھانچے اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی شدید کمی ہے، جس کے باعث عوام کو بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بخاری، جو پارٹی کے سینئر نائب صدر غلام حسن میر اور دیگر سینئر ساتھیوں کے ہمراہ پیر پنجال خطے کے عوامی رابطہ دورے پر ہیں، کل پونچھ کے سرنکوٹ میں واقع ڈاک بنگلے میں پارٹی کارکنوں کے ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ دنوں کے دوران پیر پنجال خطے میں عوام، سیاسی کارکنوں سے براہِ راست ملاقاتوں کے ذریعے انہیں ان علاقوں کے اہم عوامی مسائل اور شکایات سے آگاہی حاصل ہوئی ہے۔
بخاری نے کہا کہ انہیں بتایا گیا کہ سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو وہ حفاظتی بنکر فراہم نہیں کیے گئے جن کا وعدہ مرکزی حکومت نے کیا تھا۔انہوں نے کہا، ’’ہم نے گزشتہ سال دیکھا کہ سرحدی علاقوں کے لوگ کس قدر غیر محفوظ ہیں، کیونکہ وہ سرحد پار سے ہونے والی گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بنتے ہیں۔ مرکزی حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ جہاں بھی ضرورت ہوگی وہاں اجتماعی اور انفرادی بنکر بروقت تعمیر کیے جائیں گے، لیکن افسوس کہ یہ وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا گیا۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’میں مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ سرحدی علاقوں میں رہنے والے عوام کو مزید کسی تاخیر کے بغیر یہ بنکر فراہم کیے جائیں۔‘بخاری نے کہا کہ ’’جموں و کشمیر 1947 میں بھارت کا اٹوٹ حصہ بنا اور تب سے یہ ملک کا مستقل حصہ ہے، جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم اپنی پارٹی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے جدوجہد کرے گی کہ نئی دہلی جموں و کشمیر کے عوام کے تمام آئینی حقوق بحال کرے اور ان کے اہم مسائل اور شکایات کا مؤثر حل نکالے۔‘‘انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو جو کچھ ہوا، وہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور ایک بڑا ناانصافی پر مبنی اقدام تھا۔انہوں نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے چند ماہ بعد نئی دہلی میں وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ کے ساتھ اپنی اور پارٹی رہنماؤں کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا، ’’ان مشکل حالات میں ہم نے وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے ملاقات کی اور انہیں براہِ راست بتایا کہ آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی کے بعد جموں و کشمیر کے عوام کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ کہیں خطے کی آبادی کا تناسب اور مسلم اکثریتی شناخت تبدیل نہ کر دی جائے۔ ہم نے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو عوامی سطح پر یقین دہانی کرائیں کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، اور انہوں نے ایسا ہی کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ ’’نئی دہلی اور جموں و کشمیر کے عوام کے درمیان اعتماد کے موجودہ فقدان کو دور کرنے کے لیے تعمیری روابط اور بامعنی مذاکرات کی اشد ضرورت ہے۔اس موقع پر غلام حسن میر نے کہا کہ انہیں اس بات پر شدید تشویش ہے کہ حکومت جموں و کشمیر کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کے لیے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔انہوں نے کہا، ’’ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، مگر بدقسمتی سے وہ بے روزگاری کی مشکلات سے دوچار ہیں اور حکومت ان کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں ناکام ہے۔اس موقع پر پارٹی کے صوبائی صدر منجیت سنگھ کے علاوہ سینئر نائب صدر (صوبہ جموں) شاہ محمد تنترے، ریاستی صدر ایس سی ونگ بودھ راج بھگت، صوبائی نائب صدر جموں و نائب چیئرمین ایس ٹی ونگ صوبہ جموں سلیم چوہدری، ریاستی صدر کسان ونگ بدری ناتھ شرما، ترجمان رفیق احمد خان، جنرل سیکریٹری پونچھ سرجن سنگھ، زونل صدر سرنکوٹ مسرت حیات ملک اور دیگر رہنماموجود تھے۔