سید اعجاز
ترال// سب ضلع ترال کے قریب106سے زیادہ گائوں دیہات کی2لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی میں 1کالج 8ہائر سکنڈری سکولوں میں زیر تعلیم طالبات کے لئے سرکار کالج برائے خواتین (وومنز کالج)تعمیر کرنے میں ناکام رہی ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں طالبات کے والدین کا دہائیوں کامطالبہ سدا بہ سحر ثات ہوا۔ اگرچہ کالج گزشتہ6سال میں 2بار منظوربھی ہوا تاہم انتظامیہ اور عوام کالج کے لئے بہتر جگہ کا انتخاب کرنے میں ناکام رہے جس کی وجہ سے کالج کی تعمیر دو بار منسوخ ہوا ہے۔اعداد شمار کے مطابق سب ضلع ترال میں نصف درجن سے زیادہ ہائر سکندری اور ایک کالج قائم ہے جہاںتقریباً 3ہزار طالبات زیر تعلیم ہیںجن کو ایک یا دو سال کے اندر کالج میں داخلہ لینا ہے۔اس طرح گزشتہ تعلیمی سیشن کے دوران گورنمنٹ ڈگری کالج ترال میں900سے زیادہ طالبات زیر تعلیم تھیں۔گورنمنٹ گرلزہائر سکنڈری سکول ترال میں صرف گیارویں اور بارویںجماعت541طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ ہائر سکنڈری سکول لرگام 92۔اسی طرح گورنمنٹ ہارئرسکنڈری سکول ستورہ آری پل میں180طالبات دونوں جماعتوں میں زیر تعلیم ہیں ۔
ادھر گورنمنٹ ہائر سکنڈری سکول ڈاڈسرہ میں 105طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ ہائر سکنڈری سکول نور پورہ میں دونوں جماعتوں343لڑکیا ںزیر تعلیم ہیں ۔مدرسہ تعلیم اسلام جامعہ البنات ترال50طالبات زیر تعلیم ہیں ۔جبکہ ایم ٹی آئی ہائر سکنڈری سکول میں 100کے قریب طالبات زیر تعلیم ہیں جبکہ موجودہ تعلیمی سیشن میں یہ تعداد اسے بھی زیادہ ہو گاکیوں کہ حال ہی میں نتائج سامنے آنے کے بعد سال رواں میں ہائر سکنڈی سکولوں کا ایڈمشن کافی بڑ گیا ہے۔ ترال میں قائم گورنمنٹ ڈگری کالج ترال سال1988ء سے کام کر رہا ہے اور گزشتہ35سال کے دوران تعلیمی میدان میں اس کالج نے اہم کارہائے نما ںانجام دئے ہیں ۔تاہم کالج کے قیام کے ساتھ ہی یہاں کے لوگوں نے طالبات کے لئے قصبے میں ایک الگ کالج کی مانگ کی ہے ۔ اکثر والدین کا یہ خواب تھا کہ یہاں لڑکیوں کے کے لئے الگ کالج قائم کیا جائے۔بار بار کی عوامی مطالبے کے بعد سال2018میں سیول سوسائٹی ترال نے گورنر انتظامیہ کواس بارے میں ایک مفصل رپورٹ لکھا ۔اس سلسلے میں ڈائر ایکٹر کالج کی جانب سے 31اگست2018کو پرنسل گورنمنٹ ڈگری کالج ترال کو ایک خط زیرنمبرDC-HE/Demand 2018لکھا ہے جس میں کالج پرنسپل کو یہ کہا گہا ہے کی سول سوسائٹی ترال کی جانب سے ترال میں وومنز کالج قائم کرنے کا مطالبہ کیا،اسلئے آپ حقائق پرمبنی ایک رپورٹ تیار کر کے محکمے کو روانہ کریں ۔ جس کا باضابطہ طور کالج نے ایک کمیٹی تیار کر کے قلیل مدت کے اندر حکم کی تعمیل کر کے رپوٹ تیار کی۔ جس کے بعد سرکار نے باضابطہ طور سال2019وادی کے مختلف علاقوںکے ساتھ ساتھ ترال کے لئے ایک ڈگری کالج کو تعمیر کرنے کی منظوری دی ۔اس سلسلے میں عوام بشمول سول سوسائٹی ترال لڑکیوں کے لئے کالج کو بس اسٹینڈ کے ساتھ ہارٹیکلچر کی اراضی یا قصبے میں تعمیر کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے جبکہ انتظامیہ کالج کو ترال سے چند کلو میٹر دو رپشاڈ نامی جگہ پر تعمیر کرنے پر بضد رہے جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ہارٹی کلچر کی زمین کو ہم کالج کے لئے نہیں دے سکتے ہیں ۔تاہم سول سوسائٹی ترال کے چیر مین جنہوں نے اس کالج کی تعمیر کے لئے پہلے سے ہی کام کیا ہے ،نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں طالبات کے لئے الگ کالج تعمیر کیا جائے لیکن انتظامیہ اس کالج کو ایک ویران دیہات میں تعمیر کرنا چاہتا ہے جو بچیوں کے لئے کسی بھی طرح مناسب نہیں ۔انہوں نے بتایا ترال بازار میں جہاں سرکار کو مرضی ہے کالج کو بنائیں کیوں کی ترال تک پہنچنے میں بچوں کو پہلے ہی10,15یا20کلو میٹر دور سے آنا پڑ رہا ہے جبکہ ایک علاقے سے بچیاں آئیں گے پھر دوسری علاقے میں جانے سے کالج قائم کرنے کا مقصد فوت ہوگا اس لئے کالج کا قصبے کے اندر ہی ہونا بچیوں کے لئے مناسب ہے ۔