عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// ایڈیشنل سیشنز جج سرینگر کی عدالت نے نیشنل کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جموں و کشمیر کرکٹ ایسوسی ایشن فنڈز کے مبینہ خردبرد معاملے میں پاسپورٹ کی تجدید کے لیے عدم اعتراض سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا ہے کہ بیرونِ ملک سفر کے لیے انہیں متعلقہ عدالت سے پیشگی اجازت حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ حکم ایڈیشنل سیشنز جج فاروق احمد بٹ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی جانب سے دائر درخواست پر سنایا، جس میں انہوں نے زیرِ التوا سی بی آئی مقدمے کے تناظر میں اپنے پاسپورٹ کی تجدید کی اجازت طلب کی تھی۔درخواست میں کہا گیا تھا کہ ریجنل پاسپورٹ آفس سرینگر نے پولیس کی منفی تصدیقی رپورٹ کی بنیاد پر پاسپورٹ کی تجدید کی درخواست زیر التوا رکھی ہے۔
ڈاکٹر عبداللہ نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خلاف کارروائی پہلے ہی نظرثانی کی درخواست میں معطل ہے اور پاسپورٹ کی تجدید سے مقدمے کی کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) نے درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ جے کے سی اے فنڈز میں مبینہ خردبرد سے متعلق سنگین الزامات ابھی بھی زیر سماعت ہیں اور پاسپورٹ کی تجدید کی صورت میں درخواست گزار ملک سے باہر جا سکتے ہیں، جس سے انصاف کے عمل پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ پاسپورٹ ایکٹ اور مرکزی حکومت کی متعلقہ ہدایات کے تحت صرف فوجداری مقدمہ زیر التوا ہونے کی بنیاد پر پاسپورٹ جاری کرنے یا اس کی تجدید پر مکمل پابندی عائد نہیں ہوتی۔عدالت نے سپریم کورٹ کے ایک حالیہ فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاسپورٹ رکھنا آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت شہری کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے، جبکہ بیرونِ ملک سفر کرنے کا حق اس سے الگ معاملہ ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ پاسپورٹ کا اجرا یا تجدید صرف سفری دستاویز رکھنے کی اجازت دیتا ہے، اس سے خودکار طور پر بیرونِ ملک سفر کی اجازت نہیں ملتی۔ حکم میں کہا گیا کہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ اپنی ضمانت کی تمام شرائط کے پابند رہیں گے اور جموں و کشمیر سے باہر یا ملک سے باہر سفر کرنے کے لیے متعلقہ عدالت سے پیشگی اجازت لینا ضروری ہوگی۔عدالت نے ریجنل پاسپورٹ آفیسر، سرینگر کو ہدایت دی کہ اگر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کسی اور ایسے فوجداری مقدمے میں مطلوب نہیں ہیں جو قانونی طور پر پاسپورٹ کے اجرا میں رکاوٹ بنتا ہو، تو ان کے پاسپورٹ کی ایک سال کی مدت کے لیے تجدید پر غور کیا جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر مستقبل میں عدالتی کارروائی کی نوعیت تبدیل ہوتی ہے تو این او سی خود بخود منسوخ تصور ہوگا۔عدالت نے اپنے حکم کی ایک نقل ریجنل پاسپورٹ آفیسر سرینگر کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کرنے کی بھی ہدایت دی۔