یو این آئی
نئی دہلی// پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں سرکار کو مختلف امور پر گھیرنے کی حکمتِ عملی طے کرنے کے لیے کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کی لیڈر محترمہ سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر جمعرات کو پارٹی کے سینئر لیڈروں کی اہم میٹنگ ہوئی جس میں پارٹی کے سینئر لیڈر شامل ہوئے میٹنگ میں پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران اٹھائے جانے والے اہم امور، سرکار کو مختلف مفادِ عامہ اور قومی اہمیت کے حامل موضوعات پر گھیرنے کی حکمتِ عملی اور اپوزیشن کے ساتھ تال میل جیسے کئی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔میٹنگ میں سونیاگاندھی کے ساتھ ہی کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، راہل گاندھی، تنظیم کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال، محکمہ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش، سینئر لیڈر پرمود تیواری، ایم پی منیش تیواری اور پارٹی کے کئی دیگر سینئر لیڈر شامل ہوئے۔کانگریس نے پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس کے دوران مودی حکومت کو کئی اہم عوامی اور قومی مسائل پر جوابدہ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا ہے کہ چندہ چوری، عقیدہ سے دھوکہ، پیپر لیک اور تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی بدعنوانی، اداروں پر قبضہ، سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کی کوششیں، متعدد گھوٹالے اور بدعنوانی کے الزامات، کمر توڑ مہنگائی، خارجہ پالیسی کی ناکامیاں اور اسٹریٹجک غلطیاں… ایسے اہم مسائل ہیں جن پر کانگریس پارلیمنٹ میں مودی حکومت کو جوابدہ بنائے گی۔ملکارجن کھڑگے نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر بتایا کہ کانگریس پارلیمانی پارٹی (سی پی پی) کے اجلاس میں عوام کی زندگیوں اور ان کی امنگوں کو متاثر کرنے والے ان اہم مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ کانگریس صدر کے مطابق تعلیمی نظام میں پیپر لیک کے مسلسل واقعات اور نظامی بدعنوانی بھی مانسون اجلاس کے دوران پارٹی کے اہم موضوعات میں شامل رہے گی۔
کانگریس کا الزام ہے کہ تعلیمی اداروں اور نظام میں بدعنوانی کے باعث طلبا اور نوجوانوں کے مستقبل پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔کھڑگے نے یہ بھی کہا کہ کانگریس مختلف اداروں پر قبضے اور سیاسی پارٹیوں کو توڑنے کے معاملے کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ جمہوری اداروں اور سیاسی نظام کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں پر حکومت سے جواب طلب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ مختلف گھوٹالوں اور بدعنوانی کے الزامات پر بھی مودی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ملک میں بڑھتی مہنگائی بھی کانگریس کے ان اہم موضوعات میں شامل ہے، جو مانسون اجلاس کے دوران اٹھایا جائے گا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ ضروری اشیا کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے اور عوام کو روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس خارجہ پالیسی کی ناکامیوں اور اسٹریٹجک غلطیوں کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھائے گی۔ پارٹی کا الزام ہے کہ حکومت کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی سے متعلق بعض فیصلوں نے ملک کے مفادات کو نقصان پہنچایا ہے۔کانگریس نے حکومت کی ایتھنول بلینڈنگ پالیسی کو بھی اہم مسئلہ قرار دیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ تقریباً 3.5 کروڑ گاڑی مالکان پر ایتھنول بلینڈنگ مسلط کی جا رہی ہے۔ کانگریس اس پالیسی کے اثرات اور اس سے گاڑی مالکان کو ہونے والی مشکلات پر حکومت سے جواب طلب کرے گی۔ اس کے علاوہ بے قابو جنگلات کی کٹائی بھی کانگریس کے ایجنڈے میں شامل ہے۔