ایجنسیز
ڈلاس (امریکہ)/فیفا ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں اسپین کے منظم اور اجتماعی کھیل نے فرانس کو شکست دے کر فائنل میں پہنچا دیا، جبکہ اس شکست کے ساتھ ہی فرانس کے کوچ ڈیڈیئر ڈیسچیمپس کے 14 سالہ دور کے اختتام کا منظر بھی تقریباً واضح ہو گیا۔میچ کے اختتام پر فرانس کے کپتان کائلیان ایمباپے مایوسی میں چہرہ شرٹ سے ڈھانپے کھڑے دکھائی دیے، جبکہ کوچ ڈیڈیئر ڈیسچیمپس انہیں دلاسہ دیتے نظر آئے۔ فرانس اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہتے ہوئے سیمی فائنل تک پہنچا تھا اور چھ میچوں میں صرف دو گول کھائے تھے، تاہم اسپین نے اس کی مضبوط دفاعی حکمت عملی کو ناکام بنا دیا۔ایمباپے، عثمان ڈیمبیلے، مائیکل اولیزے اور بریڈلی بارکولا جیسے حملہ آور کھلاڑی اسپین کے منظم دفاع کے سامنے مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔اسپین نے اگرچہ فرانس کے مقابلے میں کم مواقع بنائے، لیکن میکل اویارزابال نے لامین یامال پر ہونے والے فاؤل کے بعد ملنے والی پنالٹی کو گول میں بدل دیا، جبکہ پیڈرو پورو نے دانی اولمو کے ساتھ عمدہ اشتراک کے بعد دوسرا گول کرکے ٹیم کی فتح یقینی بنا دی۔اسپین کی سب سے بڑی طاقت اس کا اجتماعی کھیل رہا۔ اگرچہ نوجوان لامین یامال مسلسل توجہ کا مرکز رہے، لیکن ٹیم کی کامیابی کسی ایک کھلاڑی پر منحصر نہیں رہی۔سویڈن کے سابق اسٹار زلاٹن ابراہیمووچ نے کہا، ’’اسپین کی اصل طاقت اس کی ٹیم ہے، نہ کہ کوئی ایک اسٹار کھلاڑی۔
لامین یامال موجود ہیں، لیکن پوری ٹیم ہی اصل ستارہ ہے۔‘‘اسپین کی کامیابی میں میکل اویارزابال نے خاموش مگر اہم کردار ادا کیا۔ 29 سالہ ریئل سوسیڈاد کے فارورڈ نے ٹورنامنٹ میں پانچ گول کیے اور ایک گول میں معاونت بھی کی، جبکہ بین الاقوامی کیریئر میں ان کے گولوں کی تعداد 60 میچوں میں 30 ہو گئی ہے۔فرانس کے سابق اسٹار تھیری ہنری نے اویارزابال کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ڈربلنگ کے لیے مشہور نہیں، لیکن انہیں بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ گیند کو جال تک کیسے پہنچانا ہے۔اسپین اب اتوار کو نیو جرسی میں ہونے والے فائنل کی تیاری کرے گا، جبکہ فرانس بدھ کے دوسرے سیمی فائنل میں انگلینڈ اور ارجنٹینا کے درمیان ہارنے والی ٹیم کے خلاف میامی میں تیسری پوزیشن کے میچ میں حصہ لے گا۔یہ مقابلہ ڈیڈیئر ڈیسچیمپس کے لیے فرانس کے کوچ کی حیثیت سے آخری میچ ہوگا۔ 57 سالہ ڈیڈیئر ڈیسچیمپس نے 2012 میں فرانس کی قیادت سنبھالی تھی اور 2018 میں ٹیم کو ورلڈ کپ کا چیمپئن بنایا تھا۔تھیری ہنری نے کہا کہ دیشان ہمیشہ فرانس کی قومی ٹیم کی تاریخ کا اہم حصہ رہیں گے اور وہ باوقار انداز میں رخصت ہونے کے مستحق ہیں۔