معاشرت
معراج وانی، کنگن
’’زندگی کے سفر میں گزر جاتے ہیں جو مقام، وہ پھر نہیں آتے۔‘‘
وقت ایک ایسا دریا ہے جس کا بہاؤ کبھی نہیں رکتا۔ جو لمحہ گزر جائے، وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتا۔ یہی مسلسل سفر، یہی رواں دواں لمحے، اور یہی بدلتے ہوئے موسم دراصل زندگی ہیں۔ زندگی صرف سانس لینے، کھانے پینے، تعلیم حاصل کرنے، دولت جمع کرنے یا بلند عمارتیں تعمیر کرنے کا نام نہیں؛ بلکہ زندگی اس احساس کا نام ہے جو کسی کے درد کو اپنا درد سمجھے، کسی کے آنسو پونچھ دے، کسی کے دل میں امید کا چراغ روشن کر دے، اور کسی کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا مقام صرف عقل و شعور کی بنا پر نہیں دیا، بلکہ اس لیے بھی کہ اس کے دل میں رحم، محبت، ہمدردی اور ایثار کے جذبات رکھے۔ یہی اوصاف انسان کو باقی مخلوقات سے ممتاز کرتے ہیں۔ اگر انسان صرف اپنی ذات، اپنے مفادات اور اپنی خواہشات تک محدود ہو جائے تو وہ جینے کے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ حقیقی زندگی وہ ہے جو دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے، نہ کہ مشکلات۔
زندگی کے سفر میں ایسا کون ہے جسے مسائل نے نہ آزمایا ہو؟ ہر شخص اپنے حصے کی آزمائشیں، دکھ، پریشانیاں اور محرومیاں لیے پھر رہا ہے۔ فرق صرف سوچ کا ہے۔ کچھ لوگ اپنے غموں کے بوجھ تلے دب کر ہار مان لیتے ہیں، جبکہ کچھ انہی غموں کو اپنی طاقت بنا کر آگے بڑھتے ہیں اور دوسروں کے لیے امید کا چراغ بن جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ انہی لوگوں کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے اپنے زخموں کو دوسروں کے لیے مرہم بنا دیا۔
اس حسین سفرِ حیات میں انسان کی ملاقات بے شمار لوگوں سے ہوتی ہے۔ کچھ لوگ برسوں ساتھ رہ کر بھی محض ایک ہجوم کا حصہ ثابت ہوتے ہیں، جبکہ کچھ ایسے ہوتے ہیں جو چند لمحوں کے لیے زندگی میں آتے ہیں مگر اپنی محبت، خلوص، کردار اور اخلاق سے روح پر ایسا نقش چھوڑ جاتے ہیں جو عمر بھر مٹ نہیں پاتا۔ ان کی ایک بات، ایک دعا، ایک مسکراہٹ اور ایک حوصلہ افزا جملہ انسان کی ٹوٹی ہوئی دنیا کو پھر سے آباد کر دیتا ہے۔ جسمانی فاصلے وقت کے ساتھ بڑھ سکتے ہیں، مگر مخلص لوگوں کی یادیں انسان کے دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔رشتوں کی اصل بنیاد وفا، اخلاص اور اعتماد ہے۔ جو انسان اپنے وعدوں کا سچا ہو، وہ لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے، اور جو خیانت کرتا ہے وہ وقتی فائدہ تو حاصل کر سکتا ہے مگر آخرکار خود ہی اس کا نقصان اٹھاتا ہے۔ دنیا کا دستور یہی ہے کہ انسان جو بوتا ہے، ایک دن وہی کاٹتا ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ نئی ملاقاتیں پرانی یادوں پر پردہ ڈال دیتی ہیں، لیکن کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو دلوں پر نہیں بلکہ روحوں پر اپنے نقوش ثبت کرتی ہیں۔ انہیں نہ وقت مٹا سکتا ہے اور نہ فاصلے۔ ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت صرف وقت نہیں ہوتا بلکہ زندگی کا وہ حصہ ہوتا ہے جو کبھی لوٹ کر واپس نہیں آسکتا اور نہ ہم کسی صورت میں انھیں وہ لوٹا سکتے ہیں۔ ان کی محبت، ان کی نیکی اور ان کا حسنِ اخلاق ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ اسی لیے انسان کی زندگی میں اسکا جانم صرف ایک ہی شخص ہمیشہ کے لیے زندہ رہنا چاہیے ۔ جو کہ کہنا آسان ہے جبکه بہت سارے لوگ آہستہ آہستہ بدل کر اور بھول کر اپنے وعدے سے مکر جاتے ہیں۔
آج ہمارا معاشرہ ترقی کے باوجود تنہائی، بے چینی، نفرت، حسد اور خود غرضی کا شکار ہے۔ ہر شخص اپنی جنگ لڑ رہا ہے۔ ایسے ماحول میں اگر ہم کسی غمزدہ انسان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ لا سکیں، کسی پریشان حال کی بات محبت سے سن سکیں، کسی مجبور کی مدد کر سکیں، کسی یتیم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ سکیں یا کسی مایوس دل میں امید جگا سکیں، تو یہی ہمارے زندہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
اگر ہم مالی مدد نہیں کر سکتے تو نرم لہجہ اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر بڑے کارنامے انجام نہیں دے سکتے تو کم از کم کسی کے لیے تکلیف کا سبب نہ بنیں۔ اپنے ہاتھ، اپنی زبان اور اپنے خیالات سے کسی کو اذیت نہ پہنچائیں۔ یہی وہ چھوٹی چھوٹی نیکیاں ہیں جو انسان کو بڑا بنا دیتی ہیں۔
آئیے عہد کریں کہ ہم اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی جئیں گے۔ ہم جہاں بھی ہوں، محبت، اخلاص، خدمت، برداشت اور حسنِ اخلاق کا چراغ روشن کریں گے، کیونکہ یہی وہ سرمایہ ہے جو مرنے کے بعد بھی انسان کو زندہ رکھتا ہے۔
آخر میں صرف اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ’’جینا صرف سانس لینے کا نام نہیں، بلکہ کسی کے دل میں امید جگانے، کسی کے آنسو پونچھنے، کسی کے غم کو ہلکا کرنے اور کسی کی زندگی میں روشنی بن جانے کا نام ہے۔ اگر ہماری وجہ سے کسی ایک انسان کی زندگی بہتر ہو جائے، تو یقین جانیے، جینا واقعی اسی کا نام ہے۔‘‘
[email protected]>
����������������