عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر بی جے پی نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا، جس میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ بی جے پی کے ایک عہدیدار نے مبینہ طور پر نیشنل کانفرنس کے ایک رکن اسمبلی کو رقم کی پیشکش کی۔ بی جے پی نے اس الزام کو ’’بے بنیاد، غیر ذمہ دارانہ اور سیاسی محرکات پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر وزیر اعلیٰ غیر مشروط عوامی معافی نہیں مانگتے اور اپنے دعوے کے ثبوت پیش نہیں کرتے تو ان کے خلاف قانونی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی۔یہ بات بی جے پی کے سینئررہنما اور ادھم پور مشرق سے رکن اسمبلی ایڈووکیٹ آر ایس پٹھانیا نے پارٹی ہیڈکوارٹر تریکوٹہ نگر جموں میں منعقدہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ اس موقع پر بی جے پی کے میڈیا انچارج ڈاکٹر پردیپ مہوترا اور ترجمان ڈاکٹر ہری دت شیشو بھی موجود تھے۔آر ایس پٹھانیا نے کہا کہ اگر واقعی کسی رکن اسمبلی کو رشوت کی پیشکش کی گئی تھی تو نہ متعلقہ رکن اسمبلی اور نہ ہی وزیر اعلیٰ نے اس کی اطلاع جموں و کشمیر پولیس، اینٹی کرپشن بیورو یا کسی دوسری تفتیشی ایجنسی کو کیوں دی؟ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مبینہ طور پر رشوت کی پیشکش کس نے کی، بی جے پی کا کون سا عہدیدار اس میں ملوث تھا، نیشنل کانفرنس کا کون سا رکن اسمبلی نشانہ بنایا گیا، یہ واقعہ کب اور کہاں پیش آیا اور اگر الزام درست ہے تو ایف آئی آر کیوں درج نہیں کرائی گئی؟۔انہوں نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت جیسے الزامات پارلیمانی جمہوریت کی بنیادوں سے جڑے ہوئے ہیں اور ایسے سنگین دعوے صرف سیاسی بیانات یا سنسنی خیزی کی بنیاد پر نہیں لگائے جا سکتے بلکہ ان کے لیے ٹھوس شواہد ضروری ہیں۔آر ایس پٹھانیا نے مزید کہا کہ حکومت کو اپنی کارکردگی اور انتظامی امور پر اٹھنے والے سوالات کا جواب دینا چاہیے، لیکن وزیر اعلیٰ ان مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے سیاسی بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکمران جماعت کے اپنے ارکان بھی حکومتی کارکردگی پر ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔بی جے پی نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعلیٰ کو اس تنازع پر بھی عوام کو جواب دینا چاہیے جس میں مبینہ طور پر تعلیمی مواد میں جموں و کشمیر کو “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر” قرار دیا گیا تھا اور مقبول بٹ کی ایسی پیشکش کی گئی جس پر عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا۔بی جے پی نے کہا کہ عوامی زندگی میں ذمہ داری، احتیاط اور سچائی بنیادی اصول ہیں۔ اگر عمر عبداللہ کے پاس اپنے الزامات کے ثبوت موجود ہیں تو وہ انہیں فوری طور پر متعلقہ تحقیقاتی اداروں کے سامنے پیش کریں، بصورت دیگر انہیں جموں و کشمیر کے عوام اور بی جے پی سے غیر مشروط عوامی معافی مانگنی چاہیے۔پارٹی نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ وہ صاف ستھری سیاست، آئینی اقدار اور جمہوری احتساب پر یقین رکھتی ہے اور اپنی ساکھ کے خلاف لگائے گئے مبینہ جھوٹے اور بدنیتی پر مبنی الزامات کا قانونی طور پر بھرپور دفاع کرے گی۔